قبائلی درجے کے مطالبے پر بنجارہ برادری کا تھانے میں منظم احتجاج
تھانے (آفتاب شیخ)
حیدرآباد گزٹ کے مطابق بنجارہ برادری کو قبائلی درجے میں شامل کرنے کے مطالبے کو لے کر بنجارہ آراکشَن سمیتی کی جانب سے ہفتہ، 4 اکتوبر کو تھانے ضلع کلکٹر کے دفتر کے روبرو زبردست اور پُرامن احتجاجی مارچ نکالا گیا۔
اس موقع پر کمیٹی کے رہنما کوی راج چوہان، انل راٹھوڑ، سنیل جادھو، دلیپ جادھو، رنجیت راٹھوڑ، نارائن آڈے، وِکی راٹھوڑ اور لکن آڈے سمیت برادری کے ہزاروں افراد موجود تھے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح مراٹھا برادری کو حیدرآباد گزٹ کی بنیاد پر دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) کا سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہے، اسی طرز پر “بنجارہ” برادری کو، جسے اسی گزٹ میں “آدِم قبائل” کے طور پر درج کیا گیا ہے، درج فہرست قبائل میں شامل کر کے ریزرویشن فراہم کیا جائے۔
کمیٹی کے ذمہ داران نے اعلان کیا کہ جب تک بنجارہ برادری کو آئینی طور پر قبائلی درجہ نہیں دیا جاتا، یہ تحریک جاری رہے گی۔ بتایا گیا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں اب تک 32 احتجاجی مارچ نکالے جا چکے ہیں۔
تھانے میں نکالا گیا یہ مارچ “سیمی فائنل” قرار دیا گیا، جبکہ رہنماؤں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے مطالبات منظور نہ کیے تو آئندہ مرحلے میں ممبئی بند اور چکّہ جام تحریک شروع کی جائے گی۔