فیشن کی دلدادہ ارب پتی اکشتا مورتی برطانیہ کی نئی خاتون اول

سابق برطانوی وزیر خزانہ رشی سوناک کے کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور پھر برطانیہ کا وزیر اعظم بننے کے بعد توجہ ان کی اہلیہ یعنی نئی متوقع خاتون اول کی جانب مبذول ہونا فطری ہے۔ اکشتا موری فیشن کی دلدادہ اور پرجوش زندگی گزارنے والی ارب پتی خاتون ہیں۔

یہ جوڑا اس ہفتے کے آخر میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کو اپنا مسکن بنا لے گا، یہ وہ گھر ہے جہاں کئی برطانوی وزرائے اعظم نے وقت گزارا ہے۔
ارب پتی نارائن مورتی کی وارت اکشتا مورتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی آئی ٹی کی سلطنت میں 430 ملین پاؤنڈز کے حصص کی وجہ سے کنگ چارلس سے بھی زیادہ امیر ہیں۔

گزشتہ مئی میں سامنے آنے والے "سنڈے ٹائمز” اخبار کے مطابق سونک خاندان یعنی سوناک اور اکشتا کے جوڑے کی مشترکہ دولت 730 ملین پاؤنڈ ہے۔

ٹیکس کی چوری
وزیر اعظم کی اہلیہ کی حیثیت سے خاتون اول کیلئے رکھ رکھاؤ والاماحول زیادہ اجنبی نہیں ہوگا۔ گزشتہ برس ہی اپنے ٹیکس کے حوالے سےانکی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

اگرچہ وہ منتخب سیاست دان نہیں ، لیکن فیشن کی دنیا، جس میں وہ کام کرتی ہیں، میں اپنی دولت اور اپنی پسند دونوں کے حوالے سے ایک سے زیادہ مواقع پر عوامی گفتگو کا موضوع بن چکی ہیں۔

اس سال کے شروع میں انہوں نے اپنی غیر ملکی دولت پر ٹیکس کی حیثیت کی وجہ سرخیاں بنائیں، یہ برطانیہ میں بیرون ملک آمدنی پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کا ایک قانونی طریقہ ہے۔اس صورت حال کو اکثر امیر لوگ ٹیکسوں میں ہزاروں یا لاکھوں پاؤنڈ بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اکشتا کی دولت کا بڑا حصہ بنگلور میں ہیڈ کوارٹرز والی کمپنی انفوسس سے آیا ہے۔

تاہم ٹیکس چوری کے بے نقاب ہونے کے بعد جوڑے کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے آخرکار اکشتا اپنی "غیر ملکی” حیثیت سے دستبردار ہو گئیں اور دنیا بھر سے آنے والی دولت پر برطانیہ میں ٹیکس ادا کرنے کا وعدہ کیا۔
بہت انتشار پسند
اکشتا کی ذاتی اور روزمرہ کی زندگی کے متعلق برطانوی پریس میں زیادہ شائع نہیں ہوتا، لیکن ان کے شوہر نے گزشتہ اگست میں ٹائم اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ اکشتا بہت انتشار پسند ہے اور اس کے برعکس وہ بہت منظم ہیں۔

شادی سے پہلے کی اپنی زندگی کے بارے میں اکشتا کا کہنا ہے کہ مجھے چھوٹی عمر سے ہی فیشن کا جنون تھا اور میری والدہ مجھے پڑھائی سے زیادہ گلیمر پر توجہ دینے پر ڈانٹتی تھیں۔
سکول مکمل کرنے کے بعد اکشتا امریکہ چلی گئیں جہاں انہوں نے کیلیفورنیا کے کلیرمونٹ میک کینا کالج اور لاس اینجلس کے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن اینڈ کامرس میں معاشیات اور فرانسیسی میں ڈگریاں مکمل کیں۔

جب وہ ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سٹینفورڈ یونیورسٹی منتقل ہوئیں تو ان کی ملاقات اپنے شوہر رشی سے ہوئی جو فل برائأ سکالرشپ حاصل کرنے کے بعد بہترین کالج میں پڑھ رہے تھے۔

چار سال بعد 2009 میں دونوں نے بنگلورو بھارت میں ایک شاندار تقریب میں شادی کی، اگلے چار سال دونوں یہیں رہے۔

فیشن کی دل دادہ
اپنے ابتدائی سالوں کے ساتھ ساتھ اکشتا نے فیشن انڈسٹری میں اپنا کیریئر بنایا اور 2007 میں اپنی کمپنی "اکشتا ڈیزائنز” کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی کی بنیاد ہندوستانی ثقافت کو منانے، دور دراز دیہاتوں میں فنکاروں کو تلاش کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے اور ان کے ڈیزائن کو بنیاد بنا کر اپنے ڈیزائن تخلیق کرنے پر مبنی ہے۔
دو بچوں کی ماں سالوں مختلف کمپنیوں کی حصہ دار بھی بنتی رہیں۔ ان کمپنیوں میں ان کی فیملی امپائر، انفوسیس اور رشی کے ساتھ ملکر بنایا جانے والا ’’کیٹامران وینچر یوکے‘‘ شامل ہے۔

رشی اور اکشتا 2013 میں برطانیہ چلے گئے، رشی دو سال بعد یارکشائر میں رچمنڈ کے ایم پی بن گئے۔

لگژری گھر اور رئیل اسٹیٹ
رشی اور اکشتا کا جوڑا اب اپنی دو بیٹیوں کے کنسنگٹن میں 7 ملین پاؤنڈ کے ٹاؤن ہاؤس میں رہائش پذیر ہے۔ یہ ٹاؤن ہاؤس ان کی متعدد جائیدادوں میں سے صرف ایک ہے۔

کنٹری ہاؤس کے علاوہ وہ کنسنگٹن میں ایک ملین پاؤنڈ کے فلیٹ اور یارکشائر میں رشی کے 2 ملین پاؤنڈ کے مینشن میں بھی قیام کرتے ہیں۔ رشی کو یارکشائر میں ’’مہاراجہ ڈیلس‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

ان کے پاس کیلیفورنیا میں 5.5 ملین پاؤنڈ کا پینٹ ہاؤس بھی ہے جسے وہ چھٹیوں میں استعمال کرتے ہیں۔

عالمی برانڈز پہننے کی شوقین
ڈیلی میل کے مطابق متوازی طور پر آئی ٹی امپائر کے مالک کی وارث اکشتا بھی لگژری برانڈز پہننا پسند کرتی نظر آتی ہے۔ دسمبر 2020 میں اکشتا نے 445 پاؤنڈ سے ’’گوچی‘‘ کا جوتوں کا جوڑا پہنا تھا۔

انہوں نے شوہر کے ساتھ مے فیئر میں ایک رات گزارنے کیلئے 1630 پاؤنڈ سے ’’ریڈ ویلنٹینو‘‘ برانڈ کا چمڑے کا کوٹ اور ہزار پاؤنڈ سے لیدر سکرٹ زیب تن کرنا کا منصوبہ بنایا ہے(۔بہ شکریہ العربیہ ڈاٹ کام)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading