فلسطینی سرزمین پر بیرونی نگرانی یا استبدادی تسلط قبول نہیں کیا جائے گا:تحریک فتح

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے کی کوششوں کے ایک روز بعد تحریک فتح نے ہفتے کے روز ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔

تحریک نے کہا کہ بعض فلسطینی جماعتوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ کسی بھی مشترکہ فلسطینی ویژن کی بنیاد صرف اور صرف قومی آئینی قیادت یعنی فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور ریاستِ فلسطین ہی ہو سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یک طرفہ فیصلے اور جائز قومی قیادت کو نظر انداز کرنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

فتح کے مطابق غزہ کی انتظامی امور چلانے کے لیے محدود مدت کی ایک پیشہ ور کمیٹی کا قیام ایک مثبت قدم ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ کمیٹی ریاستِ فلسطین کی حکومت کے ماتحت ہو۔ کسی بھی فریق کی جانب سے اس دائرۂ اختیار کو نظر انداز کرنا دراصل تقسیم کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا، جو اسرائیل کے اس منصوبے کی خدمت ہے جس کا مقصد غزہ کو مغربی کنارے اور القدس سے الگ کرنا ہے۔

سکیورٹی صرف فلسطینی اداروں کی ذمہ داری
تحریک فتح نے واضح کیا کہ غزہ میں امن و امان کی ذمہ داری صرف فلسطینی سکیورٹی اداروں کی ہے۔ اگر کوئی بین الاقوامی فورس تعینات کی جاتی ہے تو وہ صرف سرحدی علاقوں تک محدود ہو اور اس کی موجودگی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے واضح مینڈیٹ کے تحت ہو، تاکہ فلسطینی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے کردار پر کوئی اثر نہ پڑے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading