جموں: غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے بیچ امرناتھ یاتریوں کا پہلا قافلہ اتوار کی علی الصبح یہاں بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواسن بیس کیمپ جموں سے ‘بم بم بولے’، ‘ہر ہر مہادیو’، ‘جے با با برفانی’ اور ‘جے شری رام’ کے نعرے بلند کرتے ہوئے وادی کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔
وادی میں ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی سالانہ امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز پیر کے روز یاتریوں کی ننون پہلگام اور بال تل بیس کیمپوں سے جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع امرناتھ گھپا کی طرف روانگی کے ساتھ ہوگا۔ سالانہ امرناتھ یاترا 15 اگست کو رکھشا بندھن کے تہوار کے موقع پر خصوصی پوجا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

واضح رہے کہ جنوبی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام سے قریب 40 کلو میٹر دور پہاڑی گھپا میں بھگوان شو سے منسوب برفانی عکس (شیولنگ) کے درشن کے لئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں شردھالو کشمیر آتے ہیں۔
ریاستی گورنر کے مشیر کے کے شرما نے اتوار کی علی الصبح یاتری نواسن بیس کیمپ جموں سے یاتریوں کے پہلے قافلے کو جھنڈی دکھا کروادی کی طرف روانہ کیا۔ اس موقع پر سینئر سول و پولیس عہدیداروں کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران بھی موجود تھے۔
سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ 2234 یاتریوں پر مشتمل پہلا قافلہ اتوار کی علی الصبح وادی کے لئے روانہ ہوا۔ انہوں نے بتایا: ‘1006 یاتری بشمول 203 خواتین اور دس بچے 45 گاڑیوں میں سوار ہوکر بال تل بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئے۔ جبکہ 1183 یاتری بشمول 130 خواتین اور سات بچے 48 گاڑیوں میں سوار ہوکر پہلگام بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئے’۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یاتریوں کے پہلے قافلے میں 45 سادھو بھی شامل ہیں۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یاترا قافلے کی نگرانی کا کام سپیشل بائیکرس سکواڈ اور سی آر پی ایف کی کوئیک ایکشن ٹیمیں کریں گی۔ انہوں نے بتایا: ‘سیکورٹی فورسز کی متعدد بلٹ پروف گاڑیاں بھی یاتریوں کے قافلے کے ساتھ وادی کے لئے روانہ ہوئی ہیں۔ یاتریوں کی مدد اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے موٹر سائیکل سکواڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے’۔
گورنر کے مشیر کے کے شرما نے اس موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ امرناتھ یاترا کے احسن انعقاد کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ‘جموں سے امرناتھ یاترا شروع ہوچکی ہے۔ جموں، کشمیر ہائی وے اور کشمیر میں تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ یاتریوں کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا’۔
سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل جموں اے وی چوہان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یاترا کے لئے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘سبھی سیکورٹی ایجنسیوں نے قریبی تال میل بناتے ہوئے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے ہیں۔ کہیں بھی کوئی کمی نہیں رکھی گئی ہے۔ ہماری کوشش رہے گی کہ یاتری بڑی تعداد میں یہاں آئیں اور پوتر گھپا میں شیولنگم کے درشن کریں’۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘یاترا صرف سی آر پی ایف نہیں بلکہ سول و سیکورٹی ایجنسیاں مل کر کراتی ہے۔ یاتریوں کے لئے سیکورٹی کے علاوہ دوسری سہولیات بھی دستیاب رکھی گئی ہیں’۔ قابل ذکر ہے کہ سیکورٹی اداروں نے اب کی بار امرناتھ یاتریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹی فیکیشن (آر ایف آئی ڈی) ٹیگنگ اور بار کوڈ ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا ہے۔ آر ایف آئی ڈی ٹیگنگ اور بار کوڈنگ کا مقصد یاتریوں اور ان کی گاڑیوں کی لوکیشن کی ہمہ وقت مانیٹرنگ یقینی بنانا ہے۔

یاتریوں کے پہلے قافلے کی وادی روانگی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں موجود نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و صوبائی صدر جموں دیویندر سنگھ رانا نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگ امرناتھ یاتریوں کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ‘ہر برس کی طرف اس بار بھی ہم نے یاتریوں کا شاندار استقبال کیا ہے۔ آگے بھی ان کا استقبال کرتے رہیں گے۔ ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ اس بار بھی یاترا کامیاب ثابت ہوگی۔ جموں وکشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ یاتریوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ وہ اس بار بھی مہمان نوازی میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ ریاست میں سب لوگ چاہتے ہیں کہ یاترا کامیاب ثابت ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس یاترا میں شامل ہوں’۔
پہلے قافلے کا حصہ بن کر وادی کی طرف روانہ ہونے والے ایک یاتری نے بتایا: ‘انتظامیہ نے ہمارے لئے بہت اچھے انتظامات کر رکھے ہیں۔ گاڑیوں میں چپ بھی نصب کئے گئے ہیں۔ اگر کوئی گاڑی اپنی راہ بھٹک جاتی ہے تو سیکورٹی فورسز کو فوراً اس کی لوکیشن معلوم ہوگی۔ یاترا قافلے کے ساتھ فورسز کی بھاری نفری کے علاوہ ایمبولنس اور موٹر سائیکل سکواڈ بھی تعینات رکھا گیا ہے’۔ ایک خاتون یاتری کا کہنا تھا: ‘میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ میں پہلے جھتے کا حصہ بن کر پوتر گھپا کی درشن کروں۔ پہلے جھتے کا جوش و خروش الگ ہی ہوتا ہے’۔
پہلی بار امرناتھ یاترا پر آنے والی ہیم لتا نے بتایا: ‘میں پہلی بار یاترا کے لئے آئی ہوں۔ میرا حوصلہ ساتویں آسمان پر ہے۔ ریاستی حکومت نے یاتریوں کے لئے تمام تر انتظامات کئے ہیں’۔ دریں اثنا سیکورٹی اداروں نے سالانہ امرناتھ یاترا کے سلسلے میں سیکورٹی کے مثالی انتظامات کئے ہیں۔ یاتریوں کی گاڑیوں پر آر ایف آئی ڈی ٹریکنگ چپ نصب کئے جارہے ہیں جن کی مدد سے ان کی لوکیشن کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ یاترا راستوں بالخصوص کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کے قافلوں کی مصنوعی سیاروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعہ نگرانی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کے علاوہ جموں وکشمیر کا گیٹ وے کہلائے جانے والے ‘لکھن پور’ سے لیکر امرناتھ گھپا تک ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ یاترا کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے یاترا روٹوں پر سینکڑوں کی تعداد میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سیکورٹی فورسز کی کم از کم 200 کمپنیاں کام پر لگادی گئی ہیں۔ ہر کمپنی کم از کم ایک سو اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹریکنگ چپ کے استعمال کا بنیادی مقصد 10 جولائی 2017ء کو یاتریوں کی گاڑی پر پیش آئے حملے جیسے واقعات کو روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا: ‘اس چپ کی بدولت نہ صرف یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا آسان ہوگا بلکہ امرناتھ یاتریوں کے لئے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی بند ہوگا’۔
بتادیں کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی 2017ء کی رات جنگجوئوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔
وادی میں تمام لوگوں بشمول علاحدگی پسند قائدین نے یاتریوں پر ہوئے حملے کی بھرپور مذمت کی تھی۔ مختلف سول سوسائٹی گروپوں نے سری نگر کی پرتاب پارک میں جمع ہوکر یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف دھرنا دیکر احتجاج کیا تھا۔ تاہم یہ بات سامنے آئی تھی کہ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس نے سیکورٹی اداروں کے امرناتھ یاتریوں کے لئے وضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ یاتریوں کوشام سات بجے کے بعد کشمیر شاہراہ پر سفر کرنے سے اجتناب کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن یہ گاڑی وضع کردہ قوانین کے برخلاف رات دیر گئے وادی سے جموں کے لئے روانہ ہوئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
