🖋️: ابنِ افضل قاسمی
سرزمینِ غزہ نے آج امتِ مسلمہ پر ہر پہلو سے حجت قائم کر دی ہے۔ صبر و ثبات کی داستان سے لے کر جہاد اور قربانی کی ابدی سنت کے احیاء تک، اور مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت میں جان و مال نچھاور کر دینے تک اہلِ غزہ نے وہ معیار قائم کر دکھایا ہے جو روزِ جزا کے لیے امتِ مسلمہ پر حجت بن چکا ہے۔
قابض کے ساتھ اہلِ غزہ کی یہ جنگ صرف آسمان سے برستے میزائلوں اور دندناتے فوجی ٹینکوں سے نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسی دردناک بھوک و پیاس کے خلاف بھی تھی جس نے غزہ کے معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں پہنچا دیا، بزرگوں کو نحیف و ناتواں کر دیا، اور کتنی ہی ماؤں کے آنچل بھوک سے تڑپتے بچوں کے آنسوؤں سے تر کر دیے۔
ہم نے تاریخ کی کتابوں میں قحط کو ہمیشہ خشک سالی یا فصلوں کی ناکامی سے پیدا ہونے والی آفت کے طور پر پڑھا تھا، مگر غزہ کی سرزمین نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ قحط کسی آسمانی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ دجّالِ اکبر کے پجاری کی پیدا کردہ ایک شیطانی سازش ہے۔
مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے بالکل درست کہا: "یہ کوئی قدرتی بھوک نہیں بلکہ انجینئرڈ فاقہ ہے، جو ایک ظالم نے ترتیب دیا ہے۔”
محض ۳۶۵ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا غزہ آج دنیا کے بدترین محاصرے کی تصویر بنا ہوا ہے۔ کھلے آسمان کے نیچے ایک کھلی جیل ہے، جس میں کوئی چیز اسرائیل کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتی۔
غزہ کی شمالی سرحد اسرائیلی علاقے ایرِز (Erez) کے ساتھ ملتی ہے،
اور مشرقی سرحد مکمل طور پر اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقے سے جڑی ہوئی ہے، جسے گرین لائن (Green Line) کہا جاتا ہے۔
ان دونوں سمتوں سے امداد یا رسد کا خیال محض ایک سراب ہے۔
مغربی سمت میں بحیرۂ روم (Mediterranean Sea) کا ساحل ہے، جس کی لمبائی تقریباً ۴۰ کلومیٹر ہے،
مگر اس ساحل پر بھی قابض کی ظالمانہ پابندیاں مسلط ہیں۔
ماہی گیروں کے لیے مچھلی پکڑنے کی حد (Fishing Zone) ۳ سے ۶ ناٹیکل میل تک محدود ہے، جہاں جال خالی اور امیدیں ٹوٹی ہوئی واپس لوٹتی ہیں۔
کوئی تجارتی یا امدادی جہاز بھی یہاں سے داخل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اسرائیل نے بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) نافذ کر رکھی ہے،
یوں نیلگوں سمندر کی وسعت بھی اہلِ غزہ کے لیے تنگ دامنی کی علامت بن چکی ہے۔
جنوبی سمت میں مصر کی سرحد سے متصل رفح کراسنگ (Rafah Crossing) ہے، جس کی لمبائی قریب ۱۲ کلومیٹر ہے۔
یہ واحد غیر اسرائیلی زمینی راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والی امداد محدود پیمانے پر غزہ پہنچتی ہے۔
مگر یہ سرحد بھی اہلِ غزہ کے لیے ایک کھلی راہ نہیں بلکہ اسرائیل کی پابندیوں کی شکار ہے، اور رفح کراسنگ کی دیواروں کے پیچھے سیسی کی غداری کی تلخی محسوس ہوتی ہے۔
۲۰۰۸ء میں جب غزہ کے محصور لوگوں نے رفح بارڈر سے دیوار میں شگاف ڈال کر مصر میں داخل ہو کر خوراک اور ضروری سامان حاصل کیا، تو مصر نے بعد میں سرحد کو مزید مضبوط کر دیا۔
اور ۲۰۱۳ء سے ۲۰۲۱ء کے درمیان مصر نے غزہ کو مصر سے ملانے والی تین ہزار سے زائد سرنگیں تباہ کر دیں؛ کچھ میں پانی بھر دیا گیا، کچھ میں زہریلی گیس چھوڑ دی گئی، اور اس میں موجود کئی لوگ مارے گئے۔اور غزہ سے مصر پہنچنے کے لیے وہ سرنگیں ناکارہ ہو گئیں۔
یوں اہلِ غزہ کے لیے وہ واحد غیر اسرائیلی راستہ بھی بند ہو گیا۔
یہ محاصرہ زمین و سمندر تک محدود نہیں؛ غزہ کا آسمان بھی محاصرے میں ہے۔
غزہ میں کوئی فعال ایئرپورٹ موجود نہیں، اور اس کی فضائی حدود مکمل طور پر اسرائیلی فضائیہ کے قبضے میں ہیں۔ ڈرونز اور جنگی طیارے مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں، اور کبھی کبھار فوجی طیارے فضا سے امدادی غبارے گراتے ہیں، جنہیں حاصل کرنے کی دوڑ میں کئی کمزور شہید اور زخمی ہو جاتے ہیں۔
غزہ کے صحافی کہتے ہیں: "یہ امداد نہیں، یہ ذلت کا تماشا ہے۔”
غزہ کی وہ زمین جو کبھی زیتون، انجیر اور انار کے باغات سے زرخیز تھی،
اب ہزاروں ٹن بارود اور لگاتار بمباری کے باعث ملبے اور خاک کے ڈھیروں میں بدل چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ (UN) کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق غزہ کی قابلِ کاشت زمین کا تقریباً ۸۱ فیصد حصہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے،
اور مجموعی طور پر ۹۰ فیصد زمین اب کاشت کے قابل نہیں رہی۔
غزہ میں پانی کا واحد قدرتی ذریعہ کوسٹل ایکویفر (Coastal Aquifer) نامی زیرِ زمین ذخیرہ تھا، جو جنگ سے پہلے ہی حد سے زیادہ استعمال اور آلودگی کے باعث تباہ حالی کا شکار تھا۔
اب تو حالات اس سے بھی بدتر ہیں — سیوریج نظام کی مکمل تباہی کے بعد گندا پانی زمین میں جذب ہو رہا ہے، جس سے یہ آخری ذریعہ بھی اتنا آلودہ اور کھارا ہو چکا ہے کہ اب اس کا 97% حصہ پینے کے قابل نہیں رہا۔
پینے کا پانی اب صرف چند امدادی اداروں کے ٹینکروں کے ذریعے محدود مقدار میں دستیاب ہے۔
اگرچہ غزہ کے کنارے پر بحیرۂ روم کی وسعتیں پھیلی ہوئی ہیں،
مگر سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے نمک زدائی (Desalination) کا عمل درکار ہے،
اور ڈی سیلینیشن پلانٹس اور پمپنگ اسٹیشنز بجلی و ایندھن کی کمی، نیز اسرائیلی بمباری کے باعث مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔
یوں سمندر اپنی وسعت اور قربت کے باوجود اہلِ غزہ کی پیاس بجھانے سے قاصر ہے۔
اس بدترین محاصرے نے اہلِ غزہ کو مکمل طور پر بیرونی امداد کا محتاج بنا دیا ہے۔
رفح بارڈر کے راستے آنے والے امدادی ٹرک اہلِ غزہ کے لیے ضروریاتِ زندگی کا سامان حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں، مگر اس راستے سے پہنچنے والی امداد بھی اسرائیلی فوج کی اجازت پر منحصر ہے۔
چھ ہزار سے زائد امدادی ٹرک مصر اور اردن میں کھڑے ہیں، اور رفح بارڈر پر 44 کلومیٹر لمبی ٹرکوں کی قطار لگی ہوئی ہے،
مگر سرحد کے اُس پار اہل غزہ کی سانسیں روٹی کے انتظار میں الجھی ہوئی ہیں۔
آہ افسوس! یہ کیسی بےچارگی کا عالم ہے؟ غذا غزہ سے اتنا کیوں روٹھ گئی؟
یہ تین حروف والے دو الفاظ ایک دوسرے سے کتنے قریب ہیں،
لیکن ان میں اتنی ٹھن گئی کہ غذا، غزہ سے بہت دور رہنے لگی اور پھر قریب آنے کے بعد ضبط کی جانے لگی۔
اہلِ غزہ امدادی ٹرکوں سے گرے ہوئے چاول کے دانوں کو مٹی سے چُن چُن کر جمع کرتے ہیں؛ تاکہ وہ دانے ہی ان کی بھوک کا مداوا بن سکیں۔
اور اُدھر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بیٹھے لوگ مینو کے صفحات پلٹ رہے ہوتے ہیں کہ آج ذائقے کی بھوک اطالوی پاستا سے مٹائیں یا جاپانی سوشی سے؟
ایک طرف بھوک، غذا سے کہیں زیادہ ہے؛ اور دوسری طرف غذا، بھوک سے کہیں زیادہ۔
غزہ میں غذا بھوک مٹانے کے لیے ناکافی ہے، اور یہاں غذا ذائقوں کی تسکین کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
اقوامِ متحدہ (UN) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 1.3 ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع کر دی جاتی ہے،
جبلہ اسی دنیا میں غزہ کے مظلوم بھوک سے تڑپتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں!
انسانیت کی اس حیوانیت پر افسوس کا فسانہ الفاظ میں سمٹنے سے قاصر ہے۔
اے کاش! مسلم حکمرانوں کے ضمیر جاگ اٹھیں؛
وہ چند ٹکڑوں کی معمولی امداد و خیرات کے بجائے اہلِ غزہ کے لیے عزت و خودکفالت کے مستقل انتظامات کریں،
اور اس ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرکے اس پر معصوموں کے خون کا قصاص نافذ کریں۔
اور امت بھی اپنی رنگین محفلوں میں نعمتوں کے ضیاع سے باز آئے،
تاکہ تمہاری محفلوں سے اٹھنے والی قہقہوں کی گونج غزہ کے بچوں کی سسکیوں پر غالب نہ رہے،
اور تمہارے دسترخوان کی رعنائیاں کسی مظلوم کے آنسوؤں کا مذاق نہ بن جائیں۔