دارالعلوم دیوبند کو دیکھ کر اور یہاں کے علماء سے ملاقات کرکے کیا خوشی کااظہار ۔
دیوبند ۔ 12؍ دسمبر 2018 (سمیر چودھری)
عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کو قریب سے دیکھنے اور برصغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت میں تحریک دیوبند کی کاوشوں کو سمجھنے کے لئے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک گیارہ رکنی وفد نے دارالعلوم دیوبند پہنچ کر یہاں انتظامیہ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور ادارہ کی خدمات کے سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کی۔
گزشتہ روز عارض محمد کی قیادت میں یہ وفد دارالعلوم دیوبند پہنچا، جہاں ان کاوالہانہ انداز میں خیر مقدم کیا۔
11 نفر پر مشتمل اس وفد میں تین خواتین کے علاوہ ہندوستانی کیتھولک عیسائیوں کے اعلی مذہبی قائد بشپ فادر جان باسکو تھے،جو ہندوستان کے اگلے بشپ ہونگے،فادر نکولس برلا ہندوستان کیتمام کانونٹ اسکولوں کے مذھبی سربراہ،کیتھولک بشپ کانفرنس کے قومی سکریٹری ہیں،دہلی اقلیتی کمیشن کی ممبر سسٹر استاسیا گل لمبے زمانہ سے اقلیتوں کے مسائل پر کام کررہی ہیں، علاوہ ازیں اس وفد میں سسٹر اسنیہا،فادر نیلسن وغیرہ تھے،سبھی اپنے اپنے میدان میں قومی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
دارالعلوم دیوبند کو قریب سے دیکھنے اور یہاں کی مہمان نوازی کے بعد ان حضرات کے جذبات دیدنی تھے،انہوں نے گوگل سے کسی اور دیوبند کو جانا تھا،سر کے آنکھوں سے کسی اور دارالعلوم کو دیکھا۔
اس دوران شعبہ انٹر نیٹ کے ناظم مفتی محمد اللہ خلیلی، شعبہ انگریزی کے استاذمولانا توقیر اور مولانا عبد الملک انہیں دارالعلوم دیوبند کے متعلق تفصیل سے بتایا۔ اس دوران انہوں نے مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند سے تفصیلی ملاقات کی۔
خاص بات یہ ہے کہ ان عیسائی پادریوں اور سسٹرز نے یہاں دارالعلوم دیوبند کی قدیم مسجد میں ظہر کی نماز میں شرکت کی۔اس دوران مولانا مقیم الدین قاسمی، مولانا مہدی حسن عینی قاسمی وغیرہ موجودرہے۔