سری نگر:(بی بی سی کی رپورٹ)بی بی سی ہندی کے نامہ نگار دلنواز پاشا نے حال ہی میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر سرینگر کا دورہ کیا ہے۔ وہ اس جہاز میں سوار تھے جو دہلی سے سرینگر جا رہا تھا اور اس میں انڈیا سے کشمیر واپس جانے والے کشمیری مسافر سوار تھے۔ وادی میں آج کل معمولات زندگی کیا ہیں اور وہاں کے لوگ موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ اس بارے میں پڑھیے ان کی یہ رپورٹ۔
طیارہ سفید بادلوں سے گزرتا ہوا زمین کے قریب آتا ہے اور جہاز کی کھڑکی سے حدِ نگاہ تک ہریالی نظر آ رہی ہے۔
پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود گھر چاروں اطراف سے درختوں، سرسبز کھیتوں اور سنسان سڑکوں سے گھرے ہوئے ہیں۔
جہاز سے نیچے دیکھنے پر ہر چیز پرسکون اور بالکل غیر مضطرب دیکھائی دیتی ہیں۔
لیکن اگر آپ طیارے کے اندر نظر دوڑائیں گے تو بے چین چہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔ نیچے زمین پر کیا ہو رہا ہے، وہ اس صورتحال کے بارے میں بالکل بے خبر ہیں۔
دہلی سے اڑان بھرنے والی یہ پرواز اب سرینگر پہنچنے والی ہے۔ اگرچہ اس پرواز کا دورانیہ 75 منٹ ہے مگر ان لوگوں کے لیے، جو اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے بے قرار ہیں، یہ انتہائی طویل سفر محسوس ہو رہا ہے۔
‘میرے ہینڈ بیگ میں دالیں، کھانے کی اشیا اور دوائیں ہیں۔ کوئی تحفہ نہیں ہے۔ میرے پاس صرف اشیائے خوردونوش اور مشروبات ہیں۔’
‘میں کسی سے بات کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ نہ تو اپنی بیوی اور نہ ہی اپنے بچے سے۔ نہ ہی والدین، چچا یہاں تک کہ پوری وادی کشمیر میں کسی سے بھی نہیں۔’
‘میں آپ کو سچ بتاؤں تو میں عید منانے نہیں جا رہا۔ میں اپنے خاندان کے افراد کی خیروعافیت معلوم کرنے جا رہا ہوں۔ میں صرف اس لیے جا رہا ہوں کہ ان کو بتا سکوں کہ میں ٹھیک ٹھاک ہوں اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ کشمیر میں ذرائع مواصلات مکمل طور پر منقطع ہیں۔ ایسا محسوسں ہوتا ہے جیسے ہم آج کے دور میں نہیں بلکہ تاریک دور (قرون وسطی) میں جی رہے ہیں۔’’ذہن میں یہ خدشات لگاتار موجود ہیں کہ آیا وہاں (کشمیر) سب کچھ ٹھیک ہے یا نہیں۔ اور اس صورتحال کی وجہ سے ہم ٹھیک طرح سے کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ شدید ذہنی تناؤ ہے اور جب آپ اس کیفیت کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ میں برے برے خیالات آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو لیکن ہمیں وہاں کی صورتحال کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ ہم اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں جاننے لے لیے بے چین ہیں۔’
‘میں نے ہزارہا مرتبہ ان سے رابطے کی کوشش کی مگر تمام فون بند ہیں۔ ہر شخص کا فون ایک ہی وقت میں بند نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ ہے کہ میں اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔آصف دہلی کے اندرا گاندھی ایئر پورٹ سے سرینگر آئے ہیں۔ وہ دہلی میں ایک نجی بینک میں کام کرتے ہیں۔ گذشتہ کئی دنوں سے نہ وہ ٹھیک طرح سے سو پائے ہیں اور نہ ہی کچھ کھا پی سکے ہیں۔
آصف کے چہرے پر تھکن اور مایوسی نمایاں ہے۔ اگر طیارے میں موجود تمام افراد جو دہلی سے سرینگر جا رہے ہیں کے چہروں کو بغور دیکھا جائے تو ان سب کے چہروں پر بےچینی اور خوف انتہائی واضح ہے۔گذشتہ پیر کو انڈین حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا تھا اور اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ حکومت نے ریاستِ کشمیر کو دو حصوں میں منقسم بھی کر دیا تھا۔لیکن اس اعلان سے قبل حکومت نے وادی کا بیرونی دنیا سے ہر طرح کا رابطہ منقطع کر دیا گیا تھا۔ انٹرنیٹ کے علاوہ موبائل اور لینڈ لائن سروس بھی بند کر دی گئیں۔ہریانہ کے ایک میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم چار کشمیری طلبا کو اگلے مہینے ہونے والے امتحان کی تیاری کرنی تھی، لیکن اب وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ان طلبا نے بتایا کہ ‘امتحانات قریب تھے اور ہمیں ان کی تیاری پر توجہ دینی تھی لیکن ذرائع مواصلات بند کردیے گئے۔ ہم اپنے اہل خانہ سے بات نہیں کر سکتے۔ ہم ذہنی طور پر پریشان تھے۔ بہت پریشانی تھی۔ ہم کلاسوں میں جانے یا کچھ اور کرنے سے قاصر تھے۔ ہم وہاں عید منانے نہیں جا رہے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کی خیریت معلوم کرنے جا رہے ہیں۔’
انھوں نے مزید بتایا کہ ‘انڈین میڈیا نے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دیں۔ حکومت نے بھی کوئی صحیح معلومات نہیں دیں۔ ہم یہ جاننے میں ناکام رہے کہ وہاں اصل میں کیا ہو رہا ہے۔دہلی کی جامعہ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی شفورا کے سامان اور ہینڈ بیگ میں بھی صرف کھانا اور مشروبات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘میں بچوں کے لیے کھانا اور دوائیں لائی ہوں۔ چار دن قبل میں نے اپنے اہل خانہ سے بات چیت کی تھی لیکن اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ مجھے یہ تک نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔’انھوں نے کہا کہ ‘خوف کی فضا پیدا کی گئی ہے۔ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی دوسرے طریقے سے بھی کیا جا سکتا تھا۔ ہم گذشتہ ایک سال سے مرکزی حکومت کے ماتحت رہ رہے ہیں۔ بہت سی دوسری ریاستوں کو بھی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اگر وہ یہ کام دوسری ریاستوں سے شروع کرتے اور پھر کشمیر میں کرتے تو امید کی جا سکتی تھی کہ لوگ اسے قبول کر لیتے ۔ لیکن انھوں نے پہلے یہ کام کشمیر میں کیا، جہاں لوگوں کو مرکزی حکومت پر پہلے ہی کم اعتماد ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کا یہ ارادہ مشکوک دیکھتا ہے۔’شفورا کو معلوم نہیں کہ وہ سرینگر کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے بعد گھر کیسے پہنچیں گی۔ نہ صرف وہ بلکہ اس طیارے میں سوار کوئی بھی شخص سرینگر میں اپنے اہل خانہ کو اپنی آمد کے بارے میں آگاہ نہیں کر سکا۔
سرینگر کے ہوائی اڈے کے باہر سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک طالب علم کھڑی ہیں جن کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ان کا دوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ چکا ہے۔ انھیں صوپور نامی علاقے میں جانا ہے مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی سواری دستیاب نہیں ہے۔ اپنے گھر پہنچنے کے لیے وہ کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں مگر پھر بھی کوئی ٹیکسی ڈرائیور وہاں جانے کی حامی نہیں بھر رہا۔انھیں پریشان دیکھ کر چند نوجوان انھیں اپنے ہمراہ لے جانے کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ یہ نوجوان کپواڑہ جانے کے منتظر ہیں اور وہ وہاں تک کیسے پہنچیں گے اس بارے میں وہ خود بھی بے یقینی کا شکار ہیں
سکیورٹی کے ان پریشان کن حالات کے باوجود وہ اپنے گھروں کو کیوں واپس جا رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ہمارے اہل خانہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کی خیروعافیت جاننے اور ان کے ساتھ رہنے کے لیے آئے ہیں۔’جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ عید منانے آئے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ‘موجودہ حالات کے پیشِ نظر کوئی کیسے عید منا سکتا ہے؟ ہماری ترجیح عید منانا نہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔’چندی گڑھ سے آنے والی ایک طالبہ، جن کی آنکھوں میں آنسو ہیں، نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ ‘میرے کالج میں لوگوں نے مجھے بہت تسلی دی لیکن دل ہی دل میں میں بالکل قائل نہیں تھی۔ مجھے اپنے والدین کی کوئی خبر نہیں تھی۔ میں اپنی والدہ سے بات کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میں اب کالج اس وقت ہی واپس جاؤں گی جب حالات بہتر ہوں گے چاہے میں اپنی تعلیم میں پیچھے ہی کیوں نہ رہ جاؤں۔’ان کا ایک دوست دہلی سے آیا ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوائیں لے کر آئیں ہیں۔ وہ بھی افسردہ ہے اور کہتے ہیں کہ ‘میرے والد ذیابیطس کے مریض ہیں۔ میں ان کی ادویات دہلی سے لے کر آیا ہوں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ صورتحال کب تک جاری رہے گی۔’