عورت اسلام اور ہم

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

انسانی معاشرے میں جتنی اہمیت مردوں کی ہے اتنی ہی عورتوں کی بھی ہے اس بات پر دو رائے نہیں ہوسکتی۔ بغیر وجودِ زن کے انسانی معاشرے کا تصور، بہت مضحکہ خیز ہے۔ لیکن یہ معاشرہ کیا عورت کو بنیادی اور جائز حقوق بغیر پش و پیش اور این و آں کے پوری فراخدلی اور درد مندی کے ساتھ فراہم کرتا ہے،کیا اُس کے جائز مسئلوں کے حل میں پہل کرتا ہے، کیا اُ س کے ساتھ ہر اُ س مقام پر جہاں اُس کا حق بنتا ہو اُسے مساویانہ اور برابری کا حق دیتا ہے، کیا اُ سکے ساتھ زیادتی کے موقعے پر اُس کے پہلو میں کھڑے ہو کر اُس کا دفاع کرنے کی جرء ت رکھتا ہے، شاید اکثر معقول پسند انسانوں کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال بہت ہی گھمبیر اور اپنے اندر بہت سارے معمے اور کہانیاں لئے ہوئے ہے۔ روز اول سے ہی عورت اپنی جسمانی ساخت اور فطری کمزوریوں کی وجہ سے انسانی معاشرے میں دوسرے درجے پر شمار ہوکر حاشیے میں آگئی۔ مرد اپنی اُن فطری طاقتوں اور جسمانی ساخت کے بنا پر جو قدرت نے اُسے بغیر مانگے عطا کر رکھا تھا اپنے آپ کو عورت پر حکمراں کی حیثیت سے پیش کرنے لگا۔ معلوم تاریخ کا ہر صفحہ آپ کو میری اس بات کی گواہی دیتا ہوا نظر آئے گا۔ اور اُس دن احساس کمتری کا شکار ہوئی عورت معاشرے میں اپنے مقام پہچاننے میں ایک لمبے عرصے تک ناکام رہی۔ وقتا فوقتا اُ سکے حق میں آوازیں اُٹھتی رہیں لیکن ظلم و زیادتی کی فضائیں اتنی تاریک تھیں یہ قمقمے کچھ خاص فرق پیدا نہ کرسکیں۔

حالیہ تاریخ میں سب سے مضبوط آواز عورت کے حق میں جو اُٹھی، وہ اسلام کی آواز تھی۔ پستی اور تنزل کے گہرائیوں میں کھوئی، اپنے ہی ہم خلق کے ظلم و زیادتی کی شکار، اس خوبصورت مخلوق کو اسلام نے نہ صرف اُس کا چھینا ہوا حق اُسے دلوایا بلکہ اُسے معاشرے میں بلند و بالا پہچان بھی عطا کی۔ صرف تقویٰ کو ارفع او اعلیٰ کی پہچان بتا کر جنسی برتری کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔ گناہوں کی پوٹلی قرار دی گئی عورت پر اپنے عبادت گاہوں کے دروازے وا کردئے۔ جہاد کے میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کے مواقعے فراہم کئے۔ کبھی اُس کی خدمت کو اُخروی نجات کا سبب بتا کر جنت کو اُس کے قدموں کے نیچے رکھ دیا تو کبھی اُس کے ساتھ ظلم و ذیادتی کو بدترین گناہ قرار دے کر معاشرے میں اُس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ لیکن بُرا ہو مردانہ سماج کی احساس برتری کا کہ اُسے یہ برابری اور مساوات ایک آنکھ نہیں بھائی، مجوسی اور اسرائیلی روایتوں کے سہارے اُس نے اسلامی تعلیمات کے شفاف جھیلوں میں گند پھیلانی شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت سارے صالح نفوس بھی اس گند سے پیدا ہونے والی جراثیموں کا شکار ہو کرمردانہ برتری اور مردانہ تکبر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ یہ ایک مستقل اور الگ موضوع ہے، انشاء اللہ پھر کبھی اس پر تفصیلی بحث ہوگی۔

اس وقت ہمارے آگے صرف یہی ایک بات ہے کہ اگر ہم لوگوں نے اپنی عورتوں کو وہ تمام حقوق نہیں دئے جو اصحاب شریعت نے انہیں دے رکھی ہیں تو یقین مانئیے اللہ کے یہاں کل قیامت میں اُس کی جوابدہی اور پکڑ جو ہوگی وہ تو ہوگی ہی، لیکن دنیا میں ہی ہماری آنے والی نسلیں ہمیں غاصب اور مجرم کہنے پر مجبور ہوجائینگی۔شارع اسلام کی طرف سے عورتوں کو دئے گئے حقوق کو یہ کہہ کر منسوخ کرنا کہ چونکہ یہ دور فتنوں کا ہے اس لئے اس پر عمل مناسب نہ ہوگا خود شارع علیہ السلام کی توہین نہیں ہے تو کیا ہے، نعوذ باللہ، اللہ ایسی سوچ سے بھی ہماری حفاظت کرے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم روایتوں کی بھول بھلیوں سے نکل کر کتاب اللہ کو مظبوطی سے تھامے اُس کی روشنی میں شارع علیہ السلام کی ثابت سنتوں کے صراط مستقیم پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading