علم کیا ہے ؟
علم کی تعریف مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے. مشہور ماہر تعلیم جان لاک کا کہنا ہے کہ تعلیم کا بنیادی مقصد ڈسیپلین ہےـ روسو نے نعرہ دیا کہ تعلیم برائیوں سے بچانے کا نام ہے ـ کارل مارکس نے تعلیم کو بنیاد کہا ہےـ مگر اسلام نے علم کے تمام پہلوؤں سے انسان کی ذہنی و فکری اخلاقی وہ علمی تربیت کو علم کا مقصد قرار دیا ہے. علم کے معنی مختصراً یہ ہے کہ علم نام ہے ارض و سماء کی پوشیدہ قوتوں سے واقفیت کا۔
علم زندگی ہے۔
امام بن حنبل رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کھانے پینے سے کہیں زیادہ انسان کو علم کی ضرورت ہے کیوں کہ علم ہی سے انسان اور حیوان میں تمیز کی جاسکتی ہے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دل مردہ ہے اور اس کی زندگی علم ہے ۔علم بھی مردہ ہے۔ اس کی زندگی طلب پر منحصر ہے ۔
قرآن کہتا ہے کہ علم والے اور بغیر علم والے ایک جیسے نہیں ہو سکتے ۔جیسے آنکھ والے اور اندھے ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔
زمین پر اللہ تعالی نے جب اپنا خلیفہ بھیجنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے اسے علم کی دولت سے نوازا. فرشتوں سے مکالمے کے وقت اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر برتری واضح کرنے کے لیے ان کے علم الاشیاء کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔
اسلام نے علم کا جو تصور دیا ہے اس میں تعلیم و تربیت دونوں کو یکساں مقام حاصل ہے. آج علم سے تربیت کا حصہ نکل چکا ہے اور علم صرف تعلیم بن کر رہ گیا ہے. جس کا مقصد بھی صرف اچھا اسٹیٹس اچھی نوکری کوٹھی گاڑی کی چاہت کی بنا پر طے کیا جا رہا ہے۔
علم کی تقسیم۔
افسوس کے آج ہم نے علم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ۔ دینی علم اور عصری علم، امام شافعی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ علم دو چیزوں کا نام ہے جسم کے لیے علم طب اور دین کے لئے علم فقہ، علم نام ہے جاننے کا،اس کی تقسیم کا کوئی جواز نہیں ملتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے علوم کی پانچ شاخیں ہیں۔ دین کے لیے علم فقہ ،جسم کے لۓ علم طب، تعمیر کے لئے علم ہندسہ ، زبان دانی کے لئے علمی نحو، وقت جاننےکےلیے علم نجوم۔(احیائے علوم الدین )
فریضئہ حصول علم۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔
۔علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اورعورت دونوں پر فرض ہے. یہ بھی ایک نکتہ ہے کہ مرد علم حاصل کرتاہے تو اکیلے ہی حاصل کرتا ہے۔لیکن ایک عورت علم حاصل کرتی تو پورا خاندان علم سے بہرہ مند ہوتا ہے۔کیونکہ اس کی گود میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔
نیپولین کا مشہور قول ہے۔تم مجھے تعلم یافتہ لڑکیاں دو میں تمہیں اچھی قوم دونگا۔ جتنی بھی قومیں آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے وہ علم کی بدولت ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ۔قرآن میں سورۃ طہ میں اللہ رب العزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلم کو تاکید کرتے ہیں کہ دعا کیجئے اے رب میرے رب میرے علم میں اضافہ کر .اس سے ہمیں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
غذا جسم کی ضرورت ہے اور علم روح کی، دنیا اور آخرت کی کامیابی بغیر علم کے ممکن نہیں۔ ہم ہر حال میں علم حاصل کو اپنا مشن بنائیں ۔
عرشیہ شکیل
نالا سوپارہ