عشرۃ ذی الحجہ : ایک الٰہی تحفہ از: شیخ فاطمہ بشیر ‘ممبرا

کائنات کے خالق و مالک اللہ وحدہٗ لاشریک نے اس کرہ ارض کی اشرف مخلوق انسان کے لئے قدم قدم پر اپنی رحمتوں کا خزانہ دفن کردیا ہے۔ دن و رات، ماہ و سال، لمحہ و پل اور گھڑیوں کی تبدیلی میں اپنے کرم کا نزول فرمایا ہے۔ انسان کے نفس میں خیر و شر کے امتیاز، اس کے انتخاب اور عمل کی آزادی کا عنصر بھی رکھ دیا ہے۔ لیکن ابنِ آدم کا ازلی دشمن شیطان اُسکی رگوں میں خون کی طرح گردش کررہا ہے، جو اُسے ہمہ وقت نیکی، بھلائی اور اچھائی کی راہ سے موڑ کر بدی، برائی اور شر کی جانب گامزن کرنا چاہتا ہے۔ انسان بہرحال خطاؤں کا پُتلا ہے۔ جانے انجانے میں کئی غلطیاں سرزد کربیٹھتا ہیں۔ گناہوں کے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے۔ لیکن رحمتِ خداوندی اُسے تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ یہ رحمت اُسے ندامت، توبہ و استغفار، صدقہ و خیرات اور دعاؤں کے ذریعے اپنے سدھار کا موقع فراہم کرتی ہے۔ غرض نسلِ شیطانی کے ابنِ آدم کو پھسلانے، بہکانے اور بھٹکانے کے جتنے حربے ہو اس سے زیادہ الرحمٰن کے بندوں کے پاس مواقع ہیں، جن میں وہ اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ سکیں۔ اسی مقصد کے تحت اللہ ربّ العزت نے سال میں کچھ ماہ، کچھ ایّام، کچھ گھڑیاں اور وقت اس قدر بابرکت اور خاص کردیئے جن میں بندہ مومن اپنی گزری زندگی پر معافی کا طلبگار ہوسکتا ہے۔

خالقِ ارض و سماء نے ازل سے جب سے اس کائنات کا وجود ہوا، سال میں 12 مہینے پیدا کیے، جس کا ذکر سورۃ التوبہ میں ہے، اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ (مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے) سورۃ التوبہ : 36 ۔ غرض وقت اور دن و رات کے سلسلوں کے آغاز سے مہینوں کی تعداد 12 ہیں۔ جن میں کچھ مہینے، دن اور گھڑیاں عبادت اور نیکیوں کے لحاظ سے پسندیدہ، افضل ترین، محبوب ترین اور مقبول ترین بنادی گئیں۔ جن میں تقریباً 120 دن یا 4 مہینے حرمت والے بنائے، جن کے عزت و احترام کا حکم دیا۔ جن میں خصوصی طور پر اپنی جانوں پر ظلم، زیادتی اور گناہوں سے منع کیا اور نیکیوں کی کثرت کا حکم دیا گیا۔ ان 4 مہینوں کی تفصیلات صحیح البخاری سے ہمیں ملتی ہے، جس میں پے در پے تین مہینے ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ایک درمیانی مہینہ رجب حرمت والے ہیں۔

ذی الحجہ یا ذو الحجہ جسکے معنی حج کا مہینہ، دراصل اسلامی سال کا آخری یا بارہواں مہینہ ہے۔ اور اس کے پہلے دس دن عموماً عشرۃ ذو الحجہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اسکی اہمیت کا مزید اندازہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ "ما من أیام أعظم عند الله ولا العمل فیهن أحب الی الله عزوجل من هذہ الأیام یعنی من العشر۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دِس دنوں سے بزرگ و برتر اور کوئی دن نہیں ہیں نہ ان دنوں کے عمل کے برابر کسی اور دنوں کا عمل اللہ کو محبوب ہے۔” (مفہومِ حدیث – صحیح البخاری، سنن ابو داؤد) وہیں دوسری جگہ فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اللہ کو ان 10 دنوں کے اعمال جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ محبوب ہے (مفہومِ حدیث – صحیح البخاری)۔ یہاں حدیث میں "احبّ” کے الفاظ آئے ہیں جس کے اصل معنی ہے زیادہ پسندیدہ، زیادہ محبوب، زیادہ افضل۔ یہ دراصل ہم عاصی گناہگار بندوں کے لئے ایک خوشخبری ہے کہ ایسے ایّام ہم پر جلوہ افروز ہونے والے ہیں جن کے برابر سال کے کوئی دن نہیں، اور ہمارے لیے ایک نعمت ہے کہ ہمیں ان ایّام تک پہنچنے کا موقع عنایت فرمایا ہے، جس میں اللہ کو راضی کرنا، اسے منانا اور اس سے قریب تر ہونا بہت آسان ہے۔

عشرۃ ذو الحجہ الٰہی تحفہ کیوں؟

1۔ اللہ نے اپنے ایمان والے بندوں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں انعامات کا وعدہ کیا ہے اور یہ ایّام مومنوں کے لئے دنیا کا ایک انعام ہے۔
2۔ اُمتِ مسلمہ پر یہ اللہ کے خیر، اسکی نعمت اور لطف و کرم کی بہترین عکاسی ہے۔
3۔ ہم کم ہمت، کمزور، گنہگار اور معصیت میں ڈوبے خطاکار بندوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ یہ مبارک دنوں کا وہ سلسلہ ہے جب ندائے خداوندی اپنے بندوں کو پکار پکار کر کہتی ہے، ” لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْـمَةِ اللّـٰهِ ” کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو. اپنے اعمال سے دل برداشتہ اور دل گرفتہ نہ ہو۔ بلکہ کامل یقین کے ساتھ رحمتِ خداوندی کا امیدوار بنا رہے، اُسکی طرف پلٹ آئے، اپنی عملی زندگی میں اُسکی رضا کے مطابق تبدیلی لئے اور شیطان کی محنتوں کو اکارت کردے، تو اللہ رحمان و رحیم بھی اُسے اپنی پناہوں میں لے لے گا۔
4۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ماہِ رمضان کے بعد اپنی لاپرواہی اور شیطان کے بہکاوے میں سرزد ہوئے گناہوں کی معافی، نیکیوں میں سبقت اور درجات بلند کروانے کا یہ شاندار موقع ہے۔
5۔ پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے، "جو شخص بھی نیک عمل (عملِ صالحہ) کرے گا خواہ وہ مومن مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ حیات (حَيَاۃً طَيِّبَۃً ) عطا کریں گے اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے۔” (سورۃ النحل : 97)
یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اعمالِ صالحہ کی بدولت مومن بندے کی زندگی نہ صرف عالمِ آخرت میں پاک و پاکیزہ ہوگی بلکہ اس فانی دنیا کی میسر کردہ زندگی بھی پاک و پاکیزہ کردی جائیں گی۔ یعنی مؤمنین کے نیک اعمال پر خداوند تعالیٰ اپنا لطف و کرم کرتے ہوئے انہیں دوسرے لوگوں کی معمولی زندگی سے مختلف غیر معمولی زندگی عطا کرے گا۔ لہٰذا مومنین کے لیے یہ دس بیش بہا دن حیاتِ طیبہ اور پاک و خوبصورت زندگی کے حصول کا آسان اور سہل راستہ ہے۔
6۔ یہ ایّام اللہ ربّ العزت کی جانب سے ایک تحفہ ہے کیونکہ اسکی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ صرف حجاج کرام کے لیے ہیں، بلکہ جو حج کے لیے نہیں جاسکتے وہ بھی ان ایّام سے مکمل طور پر مستفیذ ہوکر اسکی برکات سمیٹ سکتے ہیں۔
7۔ ان ایّام میں جہاں حجاج جانی مالی خرچ کے ذریعے مقام، گھربار، آل و اولاد کو چھوڑکر صرف ایک لباس، ایک کلمہ، ایک مقام، ایک سا حلیہ اپنائے، مجنون اور عاشق بن کر، ایک رب کی رضامندی اور خوشنودی کی خاطر بنفس نفیس مکہ کی وادیوں میں پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، وہیں غیر حاجیوں کو قربانی کے ذریعے خلیل اللہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ذبیح اللہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اطاعت و فرمانبرداری کا عظیم جذبہ اپنی روح میں پروان چڑھانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

8۔ انہی ایّام میں سورۃ المائدہ کی آیت 3 اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا کے ذریعے دینِ حنیف، دینِ محمدی اور دینِ ابراہیمی کی تکمیل کا اعلان کرکے جہاں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اہم ذمےداری اُمتِ مسلمہ کے کندھوں پر ڈالی گئی، وہیں اس بات کا اطمینان ہوگیا کہ اب یہ شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تاقیامت کے لیے مبعوث کردی گئی، اب کسی نئے دین و شریعت کے آنے کا کوئی امکان نہیں۔
9۔ اس عشرے میں ایک دن ایسا بھی رکھ دیا گیا جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، "اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی اور دن میں اپنے بندوں کو آگ سے آزادی نہیں دیتا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟” (مفہومِ حدیث – صحیح مسلم)
10۔ یہ ایّام اُن کے لیے سنہرا موقع ہے جو اللہ کے نزدیک جانا چاہتا ہو، اپنے گناہوں کی بخشش کروانا چاہتا ہو، نیکیوں کا پلڑا بھاری کروانا چاہتا ہو، عند اللہ صالح اور مقرب بندوں میں شمولیت کا خواہشمند ہو، محبوبِ الٰہی بننا چاہتا ہو، جہنم سے دوری چاہتا ہو، اپنے نیک اعمال کے صلے میں اللہ سے جنت کی تمنا اور امید و آس لگائے بیٹھا ہو۔

لہٰذا ان رحمتوں اور برکتوں سے مالامال ایّام کی اہمیت جانیں، اُن کی قدر کریں اور اُن سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے ان دنوں کی فضیلت سے اُمتِ مسلمہ کے ہر عام و خاص کو مستفیذ فرمائے۔ آمین یارب العالمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading