سعودی عرب میں عوامی مقامات پر ’قابل اعتراض لباس‘ پہننے کی پاداش میں 200 گرفتار

ریاض۔ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر پابندیوں میں کمی، سنیما پر دہائیوں سے عائد پابندی ہٹانے، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے اور اسپورٹس فیسٹول میں شرکت کی اجازت دینے کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا کریک ڈاؤن ہے.

مملکت سعودی عرب میں معاشرتی اقدار میں نرمی و ڈھیل کے بعد پہلے کریک ڈاؤن میں 200 سے زائد افراد کو نامناسب لباس پہننے اور ہراسانی کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا میں شائع فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، ریاض کی پولیس نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کئے گئے مختلف ٹوئٹس میں کہا کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران 120 خواتین اور مردوں کو ’ قابل اعتراض لباس‘ پہننے سمیت عوامی مقامات پر اخلاقیات کو مجروح کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading