شعبہ اسلامک اسٹڈیز مانو میں پروفیسر اقتدار محمد خان، دہلی کا لکچر
حیدرآباد، 12 فروری . ”عرب قومیت کے آغاز کی کئی وجوہات رہیں، جن میں پان توران ازم ایک ہے کہ اس کے رد عمل کے طور پر اس کا آغاز ہوا۔ دوسری وجہ عرب حمیت ہے اور تیسری وجہ صلیبی جنگوں کے بعد مسلمانوں کی جمعیت بکھیرنے کے لئے عیسائیوں کی پشت پناہی۔ اس تحریک کے پیش نظر عرب معیشت، حاکمیت، تہذیب، زبان اور سیاسی قوت وغیرہ میں نجی استحکام حاصل کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ ترکوں کے ماتحت بن کر نہ رہ جائیں۔ پھر بعد میں جب عیسائیوں نے فرانس میں اس کے پہلے اجتماع کا خود اہتمام کیا تو عرب اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، بلکہ اس کا اثر اب تک ان پر قائم ہے“۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اقتدار محمد خان (سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ پروگرام بعنوان ”عرب قومیت: ایک تعارف“ کے تحت لکچر کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا ”البتہ اس تحریک کو عرب کے مفاد پسند امراءاور حکومت کی کمزور پالیسی کی وجہ سے زیادہ فروغ اور استحکام حاصل ہوا۔“ سلسلہ کلام آگے بڑھاتے ہوئے مہمان مقرر نے کہا ”سلطنت عثمانیہ اپنی مدت حکومت اور رقبہ کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی حکومت تھی، لیکن چونکہ جدید ذرائع نقل وحمل ان کے قبضہ میں نہ تھے اور نہ ہی جدید ذرائع مواصلات ان کی دسترس میں تھے، جو دراصل قوموں کے عروج کی کلید ہیں، لہٰذا وہ یورپ کا مرد بیمار قرار پایا، اور برطانیہ اور دیگر یورپی قوتیںان وسائل سے آراستہ ہو کر عروج حاصل کرتی گئیں اور عالم عرب میں عرب قومیت کو فروغ دے کر ان کی متحدہ قوت کو منتشر کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔“ صدر شعبہ ڈاکٹر محمد فہیم اخترنے اپنے صدارتی خطاب میں مہمان مقرر کے پر مغز اور قیمتی خطاب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ” آج کے خطاب سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں سب سے پہلے کسی بھی تحریک کی حقیقت سے واقف ہونا چاہئے اور اس کی فکری یلغار کا جواب دینے کے لئے تیار ہونے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے لائحہ عمل بھی تیار کرنا چاہئے“۔ اس پروگرام کا آغاز پی ایچ ڈی اسکالر محمد صلاح الدین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، سمیرا رابعہ نے نعت شریف پیش کیا، مجتبیٰ فاروق نے کلمات تشکر ادا کئے اور ڈاکٹر محمد عرفان احمد ، اسسٹنٹ پروفیسرنے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔