
محمد اصغر محمد زاہد‘ناندیڑ
(M.Com, DBM, D.T.L.) Cell : 9423140834 ASGAR & ASSOCIATES(Consultants in Taxation Law)
مالی سال 2019-20 کیلئے فائنائنس منسٹر پیوش گوئل نے عبوری بجٹ پیش کیا۔ جس میں کچھ طبقوں کیلئے راحت دی گئی ہے۔ میڈیا نے یہ نیوز بہت ہی غلط طریقے سے چلائی ہے کہ 5 لاکھ روپئے تک کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ 5 لاکھ روپئے کے اوپر ہی ٹیکس لگے گا، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کی ایک جھلک کچھ اس طرح ہے۔
پانچ لاکھ تک کوئی ٹیکس نہیں ، یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے۔Basic Limit کی حد اور ٹیکس سلیب(Tax Slab ) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس عبوری بجٹ میں تبدیلی کی گئی ہے کہ 87 Aدفعہ کے تحت چھوٹ کو بڑھا دیا گیاہے۔12500 روپیہ تک۔ مثلا ً مندرجہ ذیل جدول سے آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ کیسے گھما پھرا کر عبوری بجٹ میں انکم ٹیکس کی تبدیلی کی گئی۔

عادل فاضل
مالی سال (2019-20) مالی سال (2018-19)
9,25100 9,25000 تنخواہ کاروبار دیگر ذرائع سے کل آمدنی
(-) 2,00000 (-) 2,00000 Standard Deduction
50,000 کو چھوڑ کر
ہاﺅسنگ لون سود کی ادائیگی
Interest on Housing Loan
(-) 1, 50,000 (-) 1, 50,000 Sec. 80’C کی کٹوتی
(-) 50,000 (-) 50,000 Sec.80’CCD کی کٹوتی
(-) 25,000 (-) 25,000 80 D Mediclaim کی کٹوتی
500.100 500.000 کل آمدنی
12520 12500 مندرجہ بالا ٹیکس
0 12500 87 A U/s ٹیکس Rebate
12520 0 نیٹ ٹیکس
50 4 % Cess
1302 0 نیٹ ٹیکس کی ادائیگی
عادل اور فاضل کی آمدنی میں صرف 100 روپئے کے معمولی فرق کی وجہ سے عادل کو 13201 روپئے انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اسطرح کے غیر معمول نتائج وہاں رہتے ہیں۔
قانون اور لاجیک یہ اجنبی ہوتے ہیں۔ان کو درست ہونا پڑے گا۔معیاری کسوٹی پڑھنے کا فائدہ دستیاب ہے۔ اعلیٰ معیاری (Standard Deduction) کا فائدہ صرف تنخواہ یافتہ افراد اور پنشنروں کےلئے ہی دستیاب ہے۔ دوسرے ذریعہ سے آمدنی والے افراد کو Standard Deduction کا کوئی فائدہ ملنے والا نہیں ہے۔ ایسا سمجھا جا رہا تھا کہ شاید دفعہ 80 C کی موجودہ حد 1,50,000 سے بڑھائی جائے گی ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ اعلیٰ معیاری کٹوتی 40,000/- سے بڑھا کر 50,000/- کر دیا گیاہے۔اسطرح صرف 2000 انکم ٹیکس کی ہی چھوٹ رہے گی۔ بچت کھاتے میں 40,000/- روپئے پر T.D.S. نہیں ہوگا۔ پہلے یہ حد 10,000 روپئے تک ہی تھی ، یہ بھی ایک اچھا فیصلہ ہے۔ بجٹ کے تعلق سے صر ف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بجٹ غریب افراد کیلئے اچھا ہے اور مڈل کلاس طبقہ کیلئے کوئی خاص نہیں ہے ۔ دولت مند افراد کیلئے ایک بہترین عبوری بجٹ ہے ۔ یہ صرف عبوری بجٹ ہے ابھی مکمل بجٹ آناباقی ہے۔ دیکھتے ہیں نئی حکومت اس بجٹ میں کیا تبدیلی کرتی ہے۔ اس کے بعد ہی عبوری بجٹ کی حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔
(امیروں کیلئے دفعہ 54 فائدہ مند )
انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعہ 54 میں تبدیلی کی وجہ سے دولت مند افراد کو ہی بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔مثلاً ایک بڑی جائیداد کے فروخت کرنے پر جو آمدنی (Long Term Capital Gain) ہوتا ہے اُسے 2 کروڑ روپیوں تک دو بچوں کیلئے گھر خرید کر آسانی سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک شخص خود کے قبضے کے طور پر دو رہائشی گھروں کا اعلان کر سکتا ہے۔ عبوری بجٹ سے پہلے یہ چھوٹ صرف ایک رہائشی گھر تک ہی محدود تھی۔
ہندوستان میں بڑے شہر مثلاً ممبئی ، چنئی، کولکتہ میں جائیداد کی قیمتیں بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کو فروخت کرنے پر حاصل ہونے والی آمدنی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔دوسرے ایسے شہروں میں Builder ان کا رہائشی مکان خرید لیتے ہیں اور بدلے میں ان کو دو اپارٹمنٹ دیتے ہیں۔
ایسے شہروں میں Long Term Capital Gain بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حکومت نے شاید یہی سوچ کر اس میں تبدیلی کی ہے۔ دھیان رہے کہ یہ فائدہ صرف رہائشی گھروں کیلئے ہے۔اور ہندوستان میں رہنے والے افراد ہی اس فائدہ سے دستیاب ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا فائدہ زندگی میں صرف ایک بار ہی لیا جا سکتا ہے۔
پراپرٹی ڈیلر ہوشیار
انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی دفعہ 269SS کو 1 جون2016 سے لاگو کیا گیاہے۔لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے بہت سے افراد اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والے افراد ابھی بھی اس قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
پراپرٹی خرید و فروخت پر 20,000/- سے زیادہ کا لین دین نہ کریں۔ انکم ٹیکس کے قوانین میں اہم تبدیلیوں کے ساتھ 20,000/- یا ا س سے زیادہ کیلئے رئیل اسٹیٹ میں فروخت یا خریداروں کیلئے سزا کے قصوروار پائے گئے۔
اس قانون کو لاگو کرنے کا مطلب رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں زیادہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور کالے دھن کو روکنا ہے۔
گورنمنٹ کس طرح غیر قانونی کاروبار کو روکے گی
30 لاکھ سے زیادہ کے سبھی Sale Deed کی معلومات Registry Office سے حاصل کی جا رہی ہے۔انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی Cross Checking جاری ہے کہ انکم ٹیکس دہندے نے اپنے ITR میں خرید و فروخت کی گئی پراپرٹیز کی جانکاری دی ہے یا نہیں ۔اور اس کی ادائیگی یا قبول کئے گئے رقم کی نوعیت کس طرح ہے؟
انکم ٹیکس کی دفعہ 269SS کے تحت کوئی بھی فرد 20,000/- سے زیادہ کی رقم قبول نہیں کر سکتا۔
20,000/- سے زیادہ کی ادائیگی صرف RTGS یا Demand Draft یا NEFT کے ذریعہ ہی قابل قبول مانی جاتی ہے۔
ملک میں زیادہ سے زیادہ چھوٹے اور بے روز گار کسان اس سے واقف نہیں ہیں۔ لہٰذ ا غریب افراد و غریب کسانوں کو آسانی سے غیر قانونی طور پر اس Cash Dealing کرایا جاتا ہے۔ اور غریب کسان آسانی سے اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بھاری جرمانہ (Heavy Panalty ) :۔
Joint Commissioner of Income Tax کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پنالٹی لگائے۔
20,000/- روپے سے زائد جتنی رقم دی گئی ہے۔ اتنی ہی رقم پنالٹی کے طور پر وصول کی جا سکتی ہے۔