لندن: ہندوستان کے تیسری مرتبہ عالمی چیمپین بننے کی راہ میں آج آسٹریلیا سے سخت چیلنچ کا سامنا ہوگا۔ آئی سی سی عالمی کپ کے اس اہم میچ میں کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ روی شاستری کی حکمت عملی کا بھی کڑا امتحان ہوگا۔ ہندوستان نے اپنے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ پر 6 وکٹ سے آسان جیت درج کی تھی جبکہ گزشتہ دو مہینے میں کھیل میں لگاتار بہتری لا رہی آسٹریلیا نے افغانستان اور ویسٹ انڈیز کے خلاف پیشہ ور رویہ کا مظاہرہ کیا۔ کیریبیائی ٹیم کے خلاس اس نے بہت ہی خراب صورت حال سے بالاتر ہو کر جیت درج کی تھی۔
آسٹریلیائی ٹیم نے ایک سال تک کئی تنازعات میں گھرنے کے بعد صحیح وقت پر واپسی کی ہے اور اب وہ ویسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے جیسی کہ پانچ مرتبہ کی چیمپین سے توقع کی جاتی ہے۔ یہ یقینی طور پر ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہوگا۔ ہندوستان کو آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ باہمی سریریز میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب ٹیم انڈیا بلے بازی اور گیندبازی دونوں کے بہتر توازن کی تلاش میں ہے۔
گزشتہ سیریز میں ہندوستان کی سپاٹ پچوں پر آسٹریلیائی بلے بازوں اسمتھ اور ورنر کی غیر موجودگی میں ہندوستانی اسپینروں کلدیپ یادو اور یجویندر چہل کا بخوبی سامنا کیا تھا۔ کپتان ایرون فنچ اور عثمان خواجہ نے بھی یادو کی آف اسپن گیدوں کو بہتر طریقہ سے کھیلا تھا ایسی صورت حال میں ہندوستانی کوچ اور کپتان کو متبادل تلاش کرنے ہوں گے۔
حریف خیمہ میں دو کرشمائی بلے بازوں اسمتھ اور وارنر کی موجودگی کے پیش نظر ہندوستان اوول کی پچ اور موسم کے لحاظ سے حتمی الیون میں تبیلی کر سکتا ہے۔ ان دنوں آسٹریلیائی کھلاڑیوں نے پہلے دو میچوں میں ایک ایک نصف سنچری لگا کر حریف ٹیم کے گیند بازوں کو آگاہ بھی کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ میچ میں باہر رہے محمد شامی کو بھی ٹیم میں لیا جا سکتا ہے۔ شامی کو حکمت عملی کے طور پر باہر رکھا گیا تھا کیوں کہ جنوبی افریقہ کے بلے بازوں اسپینروں کو ٹھیک سے کھیل نہیں پاتے۔
ہندوستان اور آسٹریلیا اس سال دو ونڈے سیریز کھیل چکے ہیں۔ ہندوستان نے آسٹریلیا کو اسی کی زمین پر 1۔2 سے ہرایا تھا جبکہ آسٹریلیا نے ہندوستان کو اسی کی زمین پر 2۔3 سے شکست سے دوچار کیا تھا۔ آسٹریلیا عالمی کپ میں اپنے پہلے مقابلے جیت چکا ہے اور عالمی چمپئن ٹیم اپنی پرانی لے میں دکھائی دے رہی ہے۔
آسٹریلیا نے ہندوستان میں ون ڈے سیریز جیتے کے بعد پاکستان کو 0۔5 سے کلین سوئپ کیا تھا۔ عالمی کپ میں آسٹریلیا اپنے دو میچوں میں افغانستان اور ویسٹ انڈیز کو ہراچکا ہے جبکہ ہندوستان نے جنوبی افریقہ پر جیت درج کی ہے۔
2015 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی میزبانی میں ہوئے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے ہندوستان کی شاندار مہم کو سیمی فائنل میں روک دیا تھا۔ ہندوستان نے گروپ مرحلے میں اپنے سبھی چھ میچ جیتےتھے لیکن آخری چار میں آسٹریلیا کے سامنا اس کا چیلنج ناکامی سے دوچار ہوگیا تھا۔ آسٹریلیا نے پھر معاون میزبان نیوزی لینڈ کو فائنل میں پانچویں مرتبہ خطاب اپنے نام کیا تھا۔ ہندوستان کو اس مرتبہ گزشتہ عالمی کپ میں شکست کا بدلہ بھی چکانا ہے۔
ہندوستان اس مقابلے میں وہی ٹیم اتارے گی جس نے جنوبی افریقہ کو چھ وکٹ سے ہرایا تھا۔ ہندوستان کے لئے اپنے آخری کھلاڑی بائیں ہاتھ کے اوپنر شیکھر دھون کی فارم ہے جو اپنے فارم سے جدوجہد کررہے ہیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف سستے میں آؤٹ ہوگئے تھے۔ شیکھر کا آسٹرلیا کے خلاف اچھا ریکارڈ ہے اور کپتان وراٹ کوہلی کو امید ہے کہ شیکھر فارم میں واپس لوٹیں گے اور ایک بڑی اننگ کھیلیں گے۔
نائب کپتان روہت شرما نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ ناٹ آؤٹ سنچری بنائی تھی وہ مین آف دی میچ بھی رہے تھے۔ اگر شیکھر اپنی لے حاصل کرلیتے ہیں تو روہت اور شیکھر کی ہندوستانی اوپننگ جوڑی آسٹریلیاکے لئے سردرد پیدا کرسکتی ہے۔کپتان وراٹ کوہلی بھی آسٹریلیا کے خلاف اس اہم مقابلے میں بڑی اننگ کھیلنے کے لئے بیتاب ہوں گے۔ یہ صورت حال چوتھے نمبر کےبلے باز لوکیش راہل کی ہوگی۔
لیگ اسپنر یوجندر چہل نے گزشتہ میچ میں چار وکٹ لئے تھے لیکن اس مقابلے میں چائنامین گیند باز کلدیپ یادو ترپ کا پتہ ثابت ہوں گے۔ آسٹریلیاکو گزشتہ میچ میں سابق کپتان اسٹیون اسمتھ نے 73 اور آٹھویں نمبر کے بلے باز ناتھن کولکٹر نائل نے 92 رن بنا کر بچایا تھا لیکن ہندوستان کی شاندار گیندبازی کے خلاف اس کے ٹاپ آرڈر کو اپنے مظاہرہ میں بہتری لانی ہوگی۔ آسٹریلیا کے خلاف ایک مرتبہ پھر ترپ کا پتہ تیز گیندباز مشیل اسٹارک رہیں گے جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ وکٹ لئے تھے۔ یہ مقابلہ یقینی طور سے شاندار ہوگا کیونکہ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی خطاب کی دعویدار مانی جارہی ہیں۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
