عالمی وبا کے کٹھن ایام کے بیچ نفرت کے چند سوداگر میڈیا چینلس اور وھاٹس ایپ یونیورسٹی کے توسط سے ایکٹیو ہوگئے اور من گھڑت کہانیوں کا سیلاب چل پڑا، جس نے انسانیت نوازی کی کئی دلنواز تصویروں کو چھپادیا۔ ضروری ہے کہ ان سچائیوں کی جھلکیاں زیادہ تواتر کے ساتھ سامنے آئیں ۔۔
1) ممبئی کی اعلیٰ تعلیم یافتہ دیندار خاتون نکہت محمدی ایک لاکھ مستحق لوگوں کو لاک ڈاون کے دوران بلاتفریق کھانا کھلارہی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کوئی شخص اس مشکل گھڑی میں بھوکا نہ سوئے۔ اور یہ بھی چاہتی ہیں کہ یہ رسائی بڑھ کر پانچ لاکھ تک ہوجائے۔ سب کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے یہاں صرف ویجیٹیرین غذا تیار ہوتی ہے۔ (ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ)
2) حیدرآباد میں جماعت اسلامی ہند اور اسکی ملحقہ تنظیموں نے لاک ڈاون کے دوران تمام طبی و انتظامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے انتھک سروے کے ذریعے مستحق ترین لوگوں کی گھر گھر جاکر نشاندہی کی اور انھیں ایک ماہ کا راشن اس طرح پہنچانے کا باوقار نظم کیا کہ نہ دینے والے کا نفس موٹا ہو نہ لینے والے کی خودادری مجروح ہو۔ اس مشن کے روح رواں منیرالدین صاحب اور انکی ٹیم کی محنتیں لاجواب ہیں جو اب تک دیڑھ کروڑ روپیے سے زائد تعاون کا ذریعہ بنے۔
3) ممبئی کے سلیم کوڈیا بلا لحاظ مذہب و ملت گیارہ ہزار لوگوں کی بے لوث کفالت کررہے ہیں۔۔(maeeshat.in۔ ۹ اپریل)
4) دہلی میں جماعت اسلامی ہند کے والنٹیرس فسادات ریلیف ورک کے ساتھ ساتھ لاک ڈاون ریلیف کی دوہری ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ابتدائی دس دنوں میں 21 ہزارمستحق لوگوں تک رسائی لائق تحسین ہے۔
5) جماعت اسلامی ہند مہاراشٹریہی کام اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے 250 شہروں میں انجام دے رہی ہے۔اور بے شمار خاندانوں کا سہارا بنی۔ (لوکمت سماچار۔ ۲ اپریل)
6) کولار کے تجمل اور مزمل اوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کٹھن گھڑی میں لوگوں کی بے بسی ان سے دیکھی نہ گئی اور انھوں نے اپنی زمین 25 لاکھ روپیے میں بیچ کر 2000 مستحقین کے اناج کا بلاتفریق مذہب بندوبست کیا۔ (روزنامہ سالار۔ 13 اپریل)
7) لاک ڈاون کے دوران آنند وہار، بلند شہر میں روی شنکر کی ارتھی اٹھانے کے لیے جب کوئی آگے نہ آیا تو بستی کے بزرگ محمود صاحب اور انکے ساتھی لڑکوں نے یہ کام انجام دیا۔ (دی وائر۔ 29 مارچ)۔ ایسا ہی واقعہ باندرہ میں پیش آیا جہاں پریم چند مہاویر کی نہ صرف آخری رسومات بلکہ ڈاکیومینٹیشن اور ضروری کاروائی یوسف صدیق شیخ اور انکے دوستوں نے انجام دیں۔ (دکن ہرالڈ، ممبئی۔ 9 اپریل)
8) ناگپور کے آصف شیخ نے کم خرچ سینیٹائزنگ مشین ڈویلپ کی اورانتظامیہ اور محکمہ صحت کو شاندار راحت فراہم کی۔ (ٹی این این۔ ناگپور کی رپورٹ) کچھ ایسا ہی انوکھا کام ماندسور کے نہارو خان نے کیا اور اسپتال کو قیمتی تحفہ دیا۔ جس پر تفصیلی ستائشی رپورٹ ایک قومی چینل نے نشر کی اور اسے حیرت انگیز ایجاد قرار دیا۔ (اے بی پی نیوز)
9) کورونا بحران سے نمٹنے کے لیے دئیے جانیوالے عطیات میں 1125 کروڑ روپیوں کے ساتھ دوسرا سب اونچا نام عظیم ہاشم پریم جی کا ہے۔
10) اس قومی بحران میں فارماسوٹیکل محاذ پر ملک کی امیدیں یوسف حمید اور انکی سپلا کمپنی کی انتھک جدوجہدسے وابستہ ہیں جنھوں نے سابقہ وبائی امراض اور دیگر مہلک بیماریوں کی موثراور سستی دواوں سے ملک کو نوازا۔ (ٹائمز آف انڈیا۔ 21 مارچ)
11) بنگلور کے گلوبل اسکول کے ریاض سر ، عبدالرحیم سر اور دیگر اساتذہ اپنی محدود اآمدنی سے دو ہزار لوگوں کا لنگر لاک ڈاون کے دوران چلارہے ہیں ۔ ( نیوز 18 کی رپورٹ )
12) اس بحران میں مستحق ترین لوگوں کی نشاندہی سب سے مشکل کام ہے ۔ خوددار مفلس لوگوں تک رسائی سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ اس کام کو آسان کردیاحیدرآباد کے اشہر فرحان( چیف ڈویلپر ) ا ور سریدھر نے ۔ انکی ویب سائیٹ مستحقین اور عطیہ دہندگان کو خاموشی سے جوڑنے کا کام کررہی ہے اور یہ سروس بالکل مفت ہے ۔ ( تلنگانہ ٹوڈے ۔ 14 اپریل )
13) برٹین میں اب تک جملہ 8 ڈاکٹرس کورونا وائرس متاثرین کا علاج کرتے ہوئے انتقال کرگئے ۔۔ ان آٹھ درد مند شہیدوں میں حسب ذیل پانچ نام شامل ہیں ۔
ڈاکٹر حبیب زیدی، اریما نسرین، ڈاکٹر الفا سعد، ڈاکٹر امجد الحوارین، اور ڈ اکٹر عادل
دنیا ان محسنین کی ممنون ہے ۔ (مارننگ کرانیکل ۔13 اپریل )
14) امریکہ کے ڈاکٹرآصف چودھری اور ڈاکٹر شیرین روحانی کا نکاح 21 مارچ کو ہوا ۔ نیو یارک میں انسانیت کی تڑپ ان سے دیکھی نہ گئ ۔شادی ہوئے ابھی 12 گھنٹے ہی گزرے تھے کہ وہ خدمت کے جذبے سے ہسپتال لوٹ آئے ۔ اور 22 مارچ کو ڈاکٹر شیریں ہسپتال سے گھر نہ لوٹیں بلکہ مالک حقیقی سے جا ملیں ۔
(مارننگ کرانیکل ۔13 اپریل )
یہ تو بس چند جھلکیاں ہیں۔ ایسی نہ جانے کتنی دلنواز سچائیاں ہیں جن کی خوشبوکو نفرت کی ابلتی غلاظت بہالے جارہی ہے۔ ممکن ہے وقت کے ساتھ ساتھ اگلے چند ماہ میں ایسی مزید ہزاروں انسانیت نواز تصویریں جلوہ گر ہونگی جوبالآخر غلاظت کے سوتوں کا منہ بند کرنے کا سبب بنیں گی۔
سرد ہوتو سکتی ہے اب بھی آتش نمرود
کوئی ابن ابراہیم پہلے نار تک پہنچے
شجاعت حسینی
(ممکن ہوتو آپ بھی ایسی منفرد اسٹوریز کمنٹس میں حوالے کے ساتھ شیر فرمائیے ۔ ایک تفصیلی رائٹ اپ علاقائی زبانوں میں شائع کروانا چاہتا ہوں ۔ )