طلاق ثلاثہ بل کے خلاف بورڈ کی طرف سے ٹویٹر پر چلائے جانے والے ٹرینڈ میں شرکت فرماکر ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں.
برادران اسلام! آپ سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ موجودہ حکومت اور اسلام دشمن طاقتیں اس بات کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں کہ اسلامی شریعت میں مداخلت کی جائے اور مسلمانوں سے ان کا اسلامی تشخص چھین لیا جائے انہیں ناپاک کوششوں کی ایک کڑی مسلمان خواتین کے تحفظ کے نام پر لایاگیا طلاق ثلاثہ بل ہے۔
اس سیاہ بل کے مطابق نہ مرد کو طلاق دینے کا حق ہوگا نہ عورت کو اپنے شوہر سے خلع لینے کا حق!!
شریعت کے مطابق طلاق دینے پر بھی طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ مسلم شوہر کو طلاق کا لفظ ادا کرنے پر ہی تین سال جیل جانا ہوگا اور اس کی بیوی کو گھر چلانے کے لیے بے سہارا چھوڑ دیا جائے گا۔ لوک سبھا میں یہ بل ہٹ دھرمی کے ساتھ پاس کرالیا گیا ہے اور اب اسے راجیہ سبھا میں پاس کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے ایک سال پہلے بھی یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے راجیہ سبھا میں مسترد کردیا گیا تھا۔ اب معمولی سے ترمیم کے بعد اسے پھر لایا گیا ہے۔
دستخطی مہم کے ذریعے ہر مسلک کی پونے تین کروڑ مسلم خواتین نے اور اسّی لاکھ سے زائد نے دوسو سے زائد ریلیوں کے ذریعے جمہوری طریقے پر اپنا احتجاج درج کرایا لیکن میڈیا اور حکومت دونوں ہی اندھے اور بہرے بنے رہے۔
مسلم خواتین کے اس تاریخی احتجاج کو میڈیا، حکومت اور پورے ملک کے سامنے لانے کے لیے ان شاء اللہ
آج بتاریخ 11 جنوری شام 8:30 بجے ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ چلایا جائیگا
آپ تمام غیور مسلمانان ہند سے گزارش ہے کہ کثیر تعداد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کیے جانے والے ہیش ٹیگ کو استعمال کرکے خوب ٹویٹس اور ری ٹویٹ کریں اور حکومت وقت کی شریعت میں مداخلت کی اس کوشش کو ناکام بنائیں اور اس پیغام کو خوب شئیر کریں۔
https://twitter.com/AIMPLB_Official?s=17