طالبہ عائشہ میراں کی عصمت دری اورقتل۔واردات کے 12سال بعد لاش کو قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم

حیدرآباد14دسمبر(یواین آئی)ہاسٹل میں بی فارمیسی کی طالبہ کی عصمت دری اورقتل کی واردات کے 12سال بعد اس کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیاگیا۔یہ واردات 27دسمبر2007کو آندھراپردیش کے وجئے واڑہ میں پیش آئی تھی۔گنٹور ضلع کے تنالی کے چینچوپیٹ کے قبرستان پہنچی دہلی کی فارنسک ٹیم کی قیادت میں بی فارمیسی کی طالبہ عائشہ میراں کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیاگیا۔

سی بی آئی کے ایس پی ومل کی نگرانی میں فارنسک ٹیم کے ارکان نے لڑکی کے ناخن،ہڈیوں اور بال کے نمونے حاصل کئے۔اس کی بنیاد پر فارنسک ٹیم رپورٹ تیار کرے گی۔27دسمبر 2007کو یہ واردات پیش آئی تھی۔

اس معاملہ کے سلسلہ میں تاحال ملزم ستیہ بابو کو 11اگست 2008میں گرفتار کیاگیا۔وجئے واڑہ مہیلاسیشن کورٹ نے 2010میں ستیہ بابو کو 14سال کی جیل کی سزا سنائی۔بعد ازاں 31مارچ 2017میں ستیہ بابو کو ہائی کورٹ نے بے گناہ قرار دیا۔اس سلسلہ میں 8سال کی جیل کی سزا کے بعدستیہ بابو رہا کیاگیا تاہم 29نومبر2018کو ہائی کورٹ نے اس واردات کی سی بی آئی جانچ کے احکام دیئے۔جنوری 2019میں سی بی آئی نے اس معاملہ کی جانچ شروع کی۔سی بی آئی کی جانچ کے حصہ کے طورپر آج عائشہ میراں کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading