صندل ، ڈی جے اور فرقہ وارانہ کشیدگی! شکیل رشید ( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

ممبئی میں فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہوتے رہ گیا ! بات جمعہ کی رات کی ہے ، جب عبدالرحمن شاہ باباؒ کے سالانہ عرس کے صندل سے واپسی میں جلوس نل بازار کے گول دیول مندر کے قریب پوری آواز سے ڈی جے بجاتے ہوئے پہنچا ۔ جو اطلاعات ملی ہیں اُن کے مطابق مندر کے قریب ٹرک کو جنریٹر وین سے جوڑا گیا اور ڈی جے پوری آواز کے ساتھ کھول دیا گیا ، اور کچھ نعرے بازی بھی کی گئی اور ادھر ادھر جا رہے لوگوں سے بدتمیزی بھی ۔

ظاہر ہے کہ کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کے باہر یا قریب اگر ایسی حرکت کی جائے گی تو اعتراض تو کیا ہی جائے گا ، اور اعتراض کیا گیا ۔ اعتراض سے بات تو تو میں میں تک پہنچی اور پھر اللہ اکبر اور جئے شری رام کے نعرے گونجنے لگے ، سارے علاقے میں تناؤ پھیل گیا اور یقیناً تشدد شروع ہوجاتا ، لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کرکے حالات کو قابو میں کر لیا ۔ معاملہ صرف ایک مندر کے پاس ڈی جے بجانے کا ہی نہیں تھا ، معاملہ رات گیے ڈی جے بجانے کا بھی تھا ۔ اطراف کی عمارتوں میں لوگ نیند میں گم تھے ، لیکن میوزک کی بے ہنگم تیز آواز نے ان کی نیندیں اڑا دیں اور غصے میں ایک پورا ہجوم سڑک پر اتر آیا تھا ۔ دو باتیں بڑی اہم ہیں ،

کیا صندل سے لوٹنے والے جلوس کے شرکاء کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ڈی جے کا تیز آواز میں بجانا ، اور سوئی رات میں بجانا ممنوع ہے ؟ اور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک مندر کے پاس ڈی جے بجانے سے تناؤ کا پھیلنا ممکن ہے ؟

بالکل اسی طرح جیسے مسجد کے پاس تیز میوزک بجانے سے کشیدگی ممکن ہے ۔ ممبئی کے حالات اِن دنوں نارمل ہیں ، لیکن ادھر کچھ وارداتیں ایسی ہوئی ہیں جو شہر کے حالات کو کشیدہ کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ جیسے ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ایک پنڈت اور مورتی پر انڈے پھینکے گیے تھے ، حالت وہاں بھی بے قابو ہو گیے تھے لیکن پولیس کی بروقت کارروائی سے تشدد نہیں ہوا ، مگر پولیس ہنوز وہاں تعینات ہے ۔

ممبئی شہر میں یوں تو ہر دس سال کے وقفے سے فرقہ وارانہ فسادات ہوتے تھے لیکن ۹۳ – ۱۹۹۲ کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے ممبئی میں بڑی حد تک امن و چین ہے ۔ کبھی کبھی کوئی فرقہ پرست امن و امان کی فضا کو نفرت کی بولی سے زہریلا بنانے کی کوشش کرتا ہے ، لیکن شہر ممبئی محفوظ ہے ۔ ۹۳ – ۱۹۹۲ کے فسادات نے ممبئی والوں کو ایسا سبق دیا ہے کہ وہ فساد کا نام سن کر دل تھام لیتے ہیں ۔

تباہی اور بربادی بہت بڑے پیمانے پر ہوئی تھی ، جانیں بھی بہت زیادہ گئی تھیں اور تجارت و معیشت بیٹھ گئی تھی ۔ اب ممبئی والے نہیں چاہتے کہ کوئی فرقہ وارانہ فساد ہو ، مگر کبھی کبھی جب گول دیول مندر جیسے واقعے ہوتے ہیں تو فرقہ پرستوں کو موقعہ مل جاتا ہے ، اور یہ ایک موقعہ ہی تھا ۔ موقعہ دینے والے مسلمان تھے

لہذا اس سارے افسوس ناک واقعے کے لیے انگلیاں مسلمانوں کی طرف ہی اٹھیں گی ۔ کیا کسی بزرگ کے صندل میں ڈی جے کا بجانا اس قدر ضروری ہے کہ اس کے لیے فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے ؟ گول دیول مندر کے پاس لگ تو یہی رہا تھا جیسے کہ ڈی جے مسلمانوں کے دین و مذہب کا ایک لازمی جزو ہے ، اور چاہے جو ہو جائے ،

چاہے لوگوں کی نیندیں اڑیں ، چاہے مندر کے ذمہ داران اعتراض کریں ڈی جے بجتا رہے گا ! بھلا کب تک مسلمان اِن خرافات میں مبتلا رہیں گے اور خود بھی ذلیل ہوتے اور ساری قوم کو بھی ذلیل کرتے رہیں گے ! کیا اسلام یہ سکھاتا ہے کہ رات میں نیند کا مزہ لینے والوں کو شور مچا کر جگایا جائے ؟ کیا اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی کی بھی عبادت گاہ کے سامنے شرانگیز نعرے لگائے اور تیز آواز میں میوزک بجائی جائے ؟ اور کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو مغلظات سے نوازا جائے ؟ صندل کے جلوس میں شامل افراد کا رویہ انتہائی افسوس ناک تھا ، اور یہ مزید افسوس ناک اس لیے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ سب دین اور مذہب کے نام پر کیا گیا ، ایک بزرگ کانام لے کر کیا گیا ! مزید یہ کہ مقدمہ الگ درج ہوا ۔

ظاہر ہے کہ ان پر ہی یہ مقدمہ درج ہوا ہوگا جو ڈی جے بجانے کے مرتکب تھے ۔ رونا دھونا مچے گا ، شکایت کا پٹارا کھولا جائے گا کہ پولیس ستا رہی ہے ! پولیس تو یہ کرے گی ہی ، کیونکہ لا اینڈ آرڈر کو توڑا گیا ، تشدد کے لیے لوگوں کو اکسایا گیا اور شہر کو فرقہ وارانہ فساد کی کگار پر لا کر کھڑا کر دیا گیا ۔ سوال درگاہ کے منتظمین سے بھی ہے اور علمائے دین سے بھی ، کیا ڈی جے پر کسی عرس ، صندل وغیرہ میں پابندی لگانے کا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا ؟ منتظمین چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ جو ڈی جے کے ساتھ آیا ہے اسے عرس میں شامل ہونے نہیں دیا جائے گا ، اسے صندل سے دور رکھا جائے گا اور اسے چادر چڑھانے نہیں دیا جائے گا ۔ کیا منتظمین یہ کریں گے ؟

اور کیا علمائے کرام اس پر زور دیں گے ؟ دیکھتے ہیں! حالانکہ بارہ ربیع الاول کے جلوس میں بھی کوشش کی گئی تھی کہ ڈی جے نہ بجے ، مگر بجا ۔ عادت جو ڈال دی گئی ہے ۔ اب یہ عادت چھڑوانا ضروری ہو گیا ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading