شیو سینا کا 175ممبران اسمبلی کی حمایت کا دعویٰ

ممبئی، 3 نومبر (یو این آئی) مہاراشٹرا میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے اتوار کے روز کہا کہ ہمیں170؍ سے زیادہ ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تعداد175؍ بھی ہوسکتی ہے۔ ابھی تک ہم نے حکومت بنانے کے لئے بی جے پی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وقت بات چیت ممکن ہوگی جب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر اتفاق رائے پیدا ہو گا۔انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا کہ مہاراشٹرمیں اس بارشیوسینا کا ہی وزیر اعلیٰ ہوگا۔

دوسری طرف مہاراشٹرا کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی رہنما اجیت پوار نے کہا کہ انتخابات کے نتائج کے بعد پہلی بار سنجے راوت نے ان سے رابطہ کیا اور پیغام بھیجا ہے۔ اجیت اس وقت ایک میٹنگ میں تھے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی راوت سے بات کریں گے۔اجیت پوارنےکہا ’’راوت کا پیغام آیا تھا، لیکن میں ایک میٹنگ میں تھا، اس لئے پوری بات چیت نہیں ہوسکی۔
الیکشن کے بعد پہلی بارانہوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے۔ مجھےنہیں معلوم ہے کہ انہوں نےمجھے میسیج کیوں کیا تھا، میں تھوڑی دیرمیں انہیں فون کروں گا‘‘۔این سی پی لیڈراجیت پوارنےکہا کہ ان کوسنجے راوت کا ایک میسیج بھی آیا ہے۔

میسج میں لکھا ہے’’جے مہاراشٹر جس کا مطلب ہےکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کو فون کروں‘‘۔ اجیت پوارنے بتایا کہ شرد پواردہلی جارہے ہیں، جہاں پر اہم بات چیت کا امکان ہے۔ انہوں نےاشارہ دیا ہے کہ اس دوران شیوسینا کوحمایت دینےکی بات پربھی تبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے ساتھ کسی بھی طرح کا اتحاد کرنےکا فیصلہ صرف اکیلےاین سی پی نہیں کرسکتی ہے۔ اس لڑائی میں ہمارا ساتھ دیگراتحادی جماعتوں نے بھی دیا ہے، اس لئےان کے ساتھ بھی تبادلہ خیال ضروری ہے۔
واضح رہےکہ پیرکواین سی پی لیڈروں کی کانگریس صدرسونیا گاندھی سے میٹنگ ہےاوراس میٹنگ میں کئی اہم فیصلوں پرتبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔ ہمارے ساتھ دیگرپارٹیاں بھی جڑی ہوئی ہیں، اس لئے ہم سبھی سے بات کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لے سکیں گے۔سینا کے ترجمان ’ سامنا‘ کے ایک ہفتہ وار کالم میں ، راوت نے حکومت سازی سے متعلق تعطل کا موازنہ ’تکبر کی کیچڑ میں پھنسے رتھ‘ سے کیا ہے۔ ریاست میں صدرراج مسلط کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بی جے پی کی سب سے بڑی شکست ہوگی۔ دراصل بی جے پی کے وزیر سدھیر منگنتیوار نے کہا تھا کہ اگر ریاست میں7نومبر تک حکومت نہ بنائی گئی تو صدر راج کے نفاذ کا امکان پیدا ہو جائے گا ۔بی جے پی5سال تک اپنا ہی وزیر اعلی بنائے جانے کے اپنے موقف پر اٹل ہے جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ شیوسینا این سی پی کے ساتھ مل کر کانگریس کے بیرونی تعاون سے حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔ ریاست کے چند کانگریس قائدین نے کہا ہے کہ شیوسینا کو بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading