بابری مسجد فیصلہ کے تناظر میں خفیہ ایجنسیوں کی سوشل میڈیا پر کڑی نگاہ، سرگرم افراد کی نگرانی شروع، قابلِ اعتراض پوسٹس کرنے سے گریز کریں

بابری مسجد ہندوستان کی تاریخ کا انتہائی قدیم اور طویل ترین مقدمہ ہے۔ لیکن اب سپریم کورٹ سے اس پر فیصلے صادر ہونے کی گھڑی قریب آچکی ہے- گزشتہ مہینہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی سمیت پانچ رکنی بینچ نے بابری مسجد اور رام جنم بھومی مقدمے کی مکمل 40 روز تک بلاناغہ سماعت کی اور فیصلہ کو محفوظ کرلیا ۔ دونوں فریقوں نے اپنے دعوی کو دلیل سے ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ہندو فریق نے آستھا کو بنیاد بناکر اپنا دعوی ثابت کرنے کی کوشش کی، دوسری طرف مسلمانوں نے ملکیت کا ثبوت پیش کیا، صاف لفظوں میں یہ کہ مسلم فریقوں کے وکلاء نے دلائل اور ثبوت پیش کیا، جبکہ ہندو فریقوں نے آستھا کو بنیاد بناکر اپنے حق میں فیصلہ دینے کا مطالبہ کیا۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے کہاتھاکہ بابری مسجد کا مقدمہ ملکیت کا ہے اور وہی فیصلے کی بنیاد ہوگی۔ اسی طرح موجودہ چیف جسٹس آف انڈیابھی برابر یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ یہ ملکیت کا مقدمہ ہے۔ بہر حال سنوائی مکمل ہوچکی ہے اور اگلے ایک دوہفتہ کے اندر فیصلہ آنے کی امید ہے۔ 17نومبر کو موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا ریٹائرڈ ہورہے ہیں اس لئے امید یہی ہے کہ 10نومبر کے بعد اور 17نومبر سے قبل کسی بھی دن فیصلہ آسکتاہے-
مسلمانوں نے شروع دن سے یہی کہا ہے کہ ہمیں ہندوستان کے آئین اور یہاں کی عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہمیں منظور ہوگا۔ آج بھی ملک کی عدلیہ کا وقار برقرار ہے، فیصلہ کی بنیاد حقائق اور ثبوت وشواہد ہوں گے، یہاں ثبوت وشواہد کو معتبر مانا جاتاہے۔اس لئے یہ امید رکھنا چاہیئے کہ سپریم کورٹ کے ججز حضرات کا قلم انصاف کرے گا، ثبوت وشواہد اور دلائل کو ہی بنیاد بناکر فیصلہ کیا جائے گا۔ امید یہی ہے کہ یہ فیصلہ حقائق کی بنیاد پر ہوگا۔ مسلمانوں کو عدالت سے مایوسی کا سامنا نہیں کرناپڑے گا۔

انصاف دینے میں کسی طرح کی کوئی تاہی ججز نہیں برتیں گے۔ اگر ایسا ہوتاہے یعنی فیصلہ میں مسلمانوں کی موقف کی تائید ہوجاتی ہے تویہ موقع اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تشکر وامتنان پیش کرنے کا ہوگا- اور اگر خدانخواستہ فیصلہ خلافِ توقع آتاہے تو یہ ہمارے لئے بہت سخت آزمائش کی گھڑی ہوگی، یہ مرحلہ بہت مشکل ہوگا۔ یہ وقت بے پناہ آزمائشوں سے گزر نے کا ہوگا۔ ایسے موقع پر تمام مسلمانوں کو صبر کا دامن تھامے رکھنا انتہائی ضروری ہوگا- ایسے موقع پر تمام مسلمانوں کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ اپنے غصہ کے اظہار میں کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کہ ہمیں دشواری کا سامنا ہو ۔ سوشل میڈیا اور کہیں بھی جزباتی بیان نہ دیں ،کوئی بھی ایسا ردعمل ظاہر نہ کریں جوکہ قانونی ضابطہ کے خلاف ہو، سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوان نسل اس کا خاص خیال رکھیں، ہرگز کوئی بھی پوسٹ اور کمنٹ ایسا نہ کریں جس سے کہ فرقہ پرستوں کو مقامی تھانوں میں شکایت کرنے کا موقع فراہم ہو، اپنے جذبات پر قابورکھیں، کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے کہ مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے، عدلیہ کی اہانت یا آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگے- سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر سرکاری ایجنسیوں نے سوشل میڈیا پر کڑی نگرانی شروع کردی ہے، خفیہ ایجنسی اور پولیس انتظامیہ پوری طورپر مستعد ہے، سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اگر کوئی شخص افواہ یا بدامنی پر مشتمل کوئی پوسٹس سوشل میڈیا پر ارسال یا شئیر کریگا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پر عام لوگوں کی رائے پر نظر رکھے ہوئے ہے، یہاں تکہ اُردو پوسٹس کی بھی سخت نگرانی ہورہی ہے ۔

سوشل میڈیا کی نگرانی کا یہ کام آج سے شروع کردیا گیا ہے اس بارے میں یوپی خفیہ محکمہ کے انچارج نے اس نگرانی کے عمل کی تصدیق کی ہے ۔ اس کام میں پولیس کو انٹرنیٹ کی بڑی نجی کمپنیوں سے تکنیکی مدد مل رہی ہے۔ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنے کا کام بعض سافٹ ویئر کررہے ہیں اور معلومات کو سمجھنے اور ان پر نگرانی کا کام تکنیکی ماہرین کی ٹیم کررہی ہے ۔ اس لئے فیصلہ آنے کے بعد جزباتی اور قابلِ اعتراض پوسٹس تبصرے کرنے سے گریز کریں- اس وقت کسی بھی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز پیغام جاری کرنا جرم کے زمرے میں ہے ایسا کرنے سے بغیر کسی وارنٹ کے گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔
اگر فیصلہ ہمارے موقف کے مطابق آتاہے تو ہم بارگاہ ایزدی میں سجدہ شکر بجالائیں گے اور اگر ہمارے موقف کے خلاف آتاہے تو اس وقت ہم صبر ،برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں گے، ملک کے مختلف طبقات کے قائدین و رہنما کے ساتھ مل کر آئندہ کا کوئی لائحہ عمل طے کریں گے-

آزاد صحافی : شاہد معین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading