ڈھاکہ:( ایجنسیز)بنگلہ دیش میں گذشتہ ماہ سے جاری پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد مستعفی ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنی بہن کے ساتھ ایک ہیلی کاپٹر میں ڈھاکہ سے انڈیا روانہ ہوئیں۔ ادھر بنگلہ دیشی دارالحکومت میں مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم آفس سمیت کئی اہم مقامات پر توڑ پھوڑ کی ہے اور عوامی لیگ کے دفاتر کو نذرِ آتش بھی کیا ہے۔
انڈیا کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے دلی کے قریب ایک فوجی اڈے پر ملاقات ہوئی۔اطلاعات کے مطابق دلی کے قریب غازی آباد میں ہندن ایئر بیس پر اجیت دوول نے شیخ حسینہ کا استقبال کیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شیخ حسینہ کو لے جانے والا فوجی طیارے نے ہندن ایئر پورٹ پر مقامی وقت کے مطابق قریب پانچ بجے لینڈ کیا تھا۔دلی میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ انڈیا میں قیام نہیں کریں گی بلکہ وہ یہاں عارضی طور پر رُکی ہیں۔
وہ یہ عندیہ دیتے ہیں کہ شیخ حسینہ ممکنہ طور پر برطانیہ جائیں گی۔اس حوالے سے کوئی مصدقہ تفصیلات نہیں ہیں کہ آیا وہ انڈیا میں دو سے تین گھنٹے رُکیں گی یا دو سے تین دن۔دریں اثنا شام کو انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات ہوئی اور انھیں بنگلہ دیش کی صورتحال کے حوالے سے بریفننگ دی گئی۔شیخ حسینہ سنہ 2009 سے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں مگر کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وہ مستعفی ہوچکی ہیں
خیال ہے کہ شیخ حسینہ انڈیا پہنچ چکی ہیں جبکہ ڈھاکہ میں مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم آفس سمیت کئی اہم مقامات پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا ہے ڈھاکہ میں حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پیر کو پُرتشدد واقعات میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں مظاہرین نے پولیس کی کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کیا جبکہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے مجسمے کو بھی گِرا دیا۔سرکاری ٹی وی پر خطاب کے دوران بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔
تاحال جنرل وقار الزمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس عبوری حکومت کی سربراہی کون کرے گا۔ اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اب تک سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرے شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ایک تحریک میں بدل چکے تھے