ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس کے فوری بعد وہ ملک سے فرار ہوچکی ہیں اور انڈیا میں پناہ لی ہے ۔ آرمی چیف وقار الزمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک عبوری حکومت اقتدار سنبھالے گی۔
بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ گنابھابن میں شیخ مجیب الرحمان کا ایک مجسمہ تھا۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسے مشتعل افراد نے گِرا دیا ہے۔وزیر اعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے سرگرم مرکزی رہنما اور ریاست کا بانی مانا جاتا ہے۔
صائم فاروق کا کہنا ہے کہ یہ مناظر ایسے ہی ہیں جیسے 2003 میں جب عراق میں مظاہرین نے صدام حسین کا مجسمہ گِرایا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ لوگ اس مجسمے پر حملہ آور ہوئے تھے۔
مشتعل مظاہرین نے وزرا کے جانے کے بعد ان کی ذاتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ فاروق بتاتے ہیں کہ بعض لوگ ان بکتر بند گاڑیوں کی چھتوں پر چھڑ گئے اور ان میں توڑ پھوڑ کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ شیخ حسینہ کے جانے سے فوج کے دستوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے جو سڑکوں پر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے خلاف سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے تین روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا جو کہ آج سے شروع ہو رہی ہیں۔ان تعطیلات کے دوران تمام نجی و سرکاری ادارے، بینک، عدالتیں اور تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
یہ خصوصی تعطیلات بدھ تک جاری رہیں گی اور اس دوران کرفیو بھی نافذ العمل رہے گا۔اتوار کی شب سے ملک میں موبائل انٹرنیٹ بند ہے۔ اگرچہ ملک میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ بحال ہے تاہم فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی سروسز معطل کی گئی ہیں۔
آج طلبہ سخت سکیورٹی کے باوجود ڈھاکہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ اتوار سے پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم از کم 90 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔