شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے پیش نظر پی ایم مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جو ہندوستان کی پارلیمنٹ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ضرورت پاکستان کے اعمال کو عالمی اسٹیج پر لانے کی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے گزشتہ 70 سالوں کے اعمال کے خلاف کریں اور اپنی آواز اٹھایئں۔ اب اس بیان پر بالی ووڈ ڈائریکٹر انوراگ کشیپ نے پی ایم مودی پر طنز کسا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’کبھی کبھی لگتا ہے کہ پاکستان نہیں ہوتا تو مودی جی کے پاس بات کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ کام تو خیر وہ ویسے بھی تبھی کرتے ہیں جب آس پاس کیمرہ ہوتا ہے۔‘‘
CAA/CAB कहीं नहीं जाने वाला है।इनके लिए कुछ भी वापिस लेना नामुमकिन है क्योंकि वो उनके लिए हार होगी।यह सरकार हर चीज़ को हार-जीत में ही देखती है।इनका ईगो ऐसा है कि,सब जल जाएगा,राख हो जाएगा लेकिन मोदी कभी ग़लत नहीं हो सकता।क्यों? क्योंकि अनपढ़ लोग ऐसे ही होते हैं।
— Anurag Kashyap (@anuragkashyap72) January 3, 2020
انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’’سی اے اے/سی اے بی کہیں نہیں جانے والا ہے۔ ان کے لیے کچھ بھی واپس لینا ناممکن ہے کیونکہ وہ ان کے لیے شکست ہوگی۔ یہ حکومت ہر چیز کو ہار جیت میں ہی دیکھتی ہے۔ ان کا ایگو (انا) ایسا ہے کہ سب جل جائے گا، خاک ہو جائے گا لیکن مودی کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ اَن پڑھ (جاہل) لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
कभी कभी लगता है पाकिस्तान नहीं होता तो मोदी जी के पास बात करने के लिए भी कुछ नहीं होता । काम तो खैर वो वैसे भी तभी करते हैं जब आसपास कैमरा होता है ।
— Anurag Kashyap (@anuragkashyap72) January 3, 2020
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی، مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار سمیت پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ممبئی میں بالی ووڈ کے اداکار نے بھی اس بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں میں ممبئی میں اس قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔ مظاہرے میں فرحان اختر سمیت کئی دیگر اداکار بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اداکار ذیشاب ایوب اور اداکارہ سورا بھاسکر دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے میں بھی شامل ہوئے تھے۔ ساتھ ہی محمد ذیشاب ایوب نے کہا کہ اس قانون پر خاموشی کے سبب اب ملک کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے جب خاموشی کو خیر باد کہا جائے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
