شہریت قانون: متھرا روڈ اور کالندی کنج کے درمیان سڑک بند

متھرا روڈ اور کالندی کنج کے درمیان سڑک بند

نئی دہلی: دہلی ٹریفک پولیس نے جمعہ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے متھرا روڈ اور کالندی کنج کے درمیان سڑک نمبر 13 اے کو بند کردیا اور نوئیڈا سے دہلی آنے والے لوگوں کو ڈی این ڈی یا اکشردھام کی جانب سے آنے کی صلاح دی ہے۔ ٹریفک پولیس نے ٹوئٹ کرکے کہا،’’متھرا روڈ اور کالندی کنج کے درمیان سڑک نمبر 13اے پر ٹریفک بند ہے۔ نوئیڈا سے دہلی آنے والے لوگوں کو ڈی این ڈی اور اکشردھام کی سمت سے آنے کی صلاح دی جاتی ہے۔‘‘

لکھنؤ میں 150 مظاہرین گرفتار، 14 اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بند

شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں ہنگامہ جاری ہے. وہیں جمعرات کو لکھنؤ میں ہوئے تشدد میں پولیس نے اب تک 150 کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 19 FIR درج کی گئی ہیں. وہیں لکھنؤ، غازی آباد سمیت 14 اضلاع میں انٹرنیٹ کی سروس بند کر دی گئی ہے.

بھیم آرمی نے کیا دہلی جامع مسجد سے احتجاج کرنے کا فیصلہ، 3 میٹرو اسٹیشن بند

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) کے خلاف بھیم آرمی کے جمعہ کو جامع مسجد سے لے کر جنترمنتر تک مارچ نکالنے کے اعلان کے پیش نظر امن و قانون بنائے رکھنے کےلئے احتیاط کے طورپر تین میٹرو اسٹیشنوں پر آمد و رفت بند رکھی گئی ہے۔ دہلی میٹرو کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ ،جسولاوہار اور شاہین باغ میٹرو اسٹیشن آج بند رہیں گے۔ ان اسٹیشنوں پر ٹرینیں بھی نہیں رکیں گی۔ بھیم آرمی کے لیڈر چندرشیکھر نے ’چلوجامع مسجد‘ کا نعرہ دیا ہے اور جامعہ کے طلبہ نے بھیم آرمی کو اپنی حمایت دی ہے۔

جامعہ نگر علاقے کے شاہین باغ میں احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے نوئیڈا جانے والے متھرا روڈ سے کالندی کنج روڈ کو بند رکھا ہے۔ انہوں نے نوئیڈا جانے کےلئے آشرم اور مہارانی باغ کی سمت سے جانے کی صلاح دی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے متھرا روڈ سے کالندی کنج راستہ بند ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کواحتجاجی مظاہروں کی وجہ سےدہلی کے 20 اسٹیشنوں کو بند کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ گھنٹوں کےلئے کچھ علاقوں میں موبائل خدمات بھی بند کردی گئی تھیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جسولا وہار، شاہین باغ، منرکا، لال قلعہ، جامع مسجد، کشمیری گیٹ، چاندنی چوک، وشو ودیالے، بارہ کھمباروڈ، پٹیل چوک، لوک کلیان مارگ، سینٹرل سیکریٹیریٹ، ادیوگ بھون، وسنت وہار، منڈی ہاؤس، آئی ٹی او، راجیوچوک، پرگتی میدان اور خان مارکٹ میٹرو اسٹیشنوں کو بند کیا گیا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading