شہریت ترمیمی قانون: ’شاہین باغ مظاہرہ‘ کے پیچھے کی کہانی، جس سے آپ ہیں نا آشنا!

نئی دہلی: قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بہت سے لوگ ہیں اس مظاہرہ کو کامیاب کرنے میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں ان میں کچھ لوگ اسٹیج پر نظر آتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں آتے لیکن ان کا کردار کسی سے کم نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک اسعد غازی ہیں جو گزشتہ 16 دسمبر سے بلاناغہ مظاہرین کو سخت سردی اور بارش کے موسم میں چائے،سموسے، بسکٹ، پاپے لیکر پہنچ جاتے ہیں اور چار بجے سے چھ بجے تک مظاہرین کے جذبے کو گرم رکھتے ہیں۔

پیشے سے سول کنٹرکٹر اسعد غازی چاہے بارش ہورہی ہو، چاہے موسم کتنا بھی خراب کیوں نہ ہو، ہر موسم میں مظاہرین کو چائے پلانا نہیں بھولتے۔ چائے کے ساتھ کبھی سموسے لے جاتے ہیں، تو کبھی بسکٹ لے جاتے ہیں تو کبھی کیک رس لے جاتے ہیں، تو کبھی پاپے لے جاتے ہیں۔ غرض کہ یہ ان کا روز کا معمول ہے۔ جب یو این آئی اردو سروس نے ان سے پوچھا کہ آخر کس وجہ سے اور کس چیز نے آپ کو تحریک دی کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر ہر روزیہاں چائے بسکٹ لیکر آجاتے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، شاہین باغ سے اٹھنے والی تحریک نے پورے ملک کو بیدار کردیا ہے۔ یہ تو ہماری چھوٹی کوشش ہے تاکہ مظاہرین سردی کے موسم میں ڈٹے رہیں اور بسکٹ، سموسے، کیک رس اور چائے تو ان کو تھوڑی سی تازگی دیتی ہے۔

اسعد غازی نے بتایا کہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے یہ ہماری طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ روزانہ کا کیا خرچ آجاتا ہے، تو انہوں نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی، لیکن اصرار کرنے پر بتایا کہ تقریباً روزانہ دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں جو بغیر کسی تشہیر کے روزانہ خرچ کرتے ہیں۔

اسعد غازی نوائے حق رضاکار تنظیم چلاتے ہیں۔ اس کے 150 طلبہ کو انہوں نے گود لیا ہے جس کا سارا خرچ یہ تنظیم برداشت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سیکڑوں طلبہ ہیں جس کی فیس وہ خاموشی سے دیتے ہیں۔اس تنظیم کے کام کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ مختلف موضوعات آر ٹی آئی ڈالتے ہیں۔انہوں نے اس تنظیم کے خاص کارنامہ بتاتے ہوئے کہا کہ 2012 میں برمی مہاجرین یہاں آئے تھے، انہیں بھگانے کی کوشش کی گئی تھی، تو اس تنظیم نے اسے بسانے میں مدد کی تھی اور ہزاروں برمی مہاجرین کے پناہ گزیں کے کارڈ بنوائے تھے۔ کئی کیمپ میں بسایا تھا اور ان لوگوں کے کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading