ناندیڑ (راست )مودی حکومت کی جانب سے لائے جارہے شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہاہے ۔اسی سلسلہ میں آج ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک کی جانب سے خواتین کا احتجاجی جلسہ عام کاا انعقاد کیا گیا ۔جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے شرکت کی ۔شرکاء میںمسلم خواتین کے علاوہ دیگر مذاہب کی خواتین بھی نظر آئی ۔جلسہ سے خطاب کرنے کیلئے مختلف سماجی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ ملی تنظیموں سے وابستہ ذمہ دار خواتین کو مدعو کیا گیا تھا ۔
جن میں اورنگ آباد سے جماعت اسلامی ہندکی مبشرہ فردوس ،کمیونسٹ پارٹی سے اجولہ پڈلوار ،کانگریس کی ڈاکٹر کرونا جمداڑے ،سماجی کارکن ایڈوکیٹ جوتی چندن شیوے ،کارپوریٹر ڈاکٹر عرشیہ کوثر ،ملکہ فردوس ،سپریہ گائیکواڑ،ایڈوکیٹ مادھوری شرساگر کے نام شامل ہے ۔ دوپہر دیڑ بجے سے شام پانچ بجے تک یہ احتجاجی جلسہ لیا گیا ۔
تقریروں کے بیچ بیچ میں این آر سی ،سی اے اے اور این پی آر کیخلاف خواتین نے زور دار انداز میں نعرے بازی ۔اس قانون کو کالا قانون بتاتے ہوئے فوری اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔جلسہ میں شریک خواتین نے این آر سی ،سی اے اے اور این پی آر کی منسوخی سے متعلق تحریری مواد پر مبنی پلے کارڈ بھی لئے ہوئی تھی ۔جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جسے سائحہ تنویر نے پیش کیا ۔اس کے بعد ملکہ فردوس صاحبہ نے افتتاحیہ کلمات پیش کئے اور احتجاجی جلسے کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کیا ۔جس میں انہوں نے کہا کہ سی اے اے ،این آر سی اور این پی آر کے خلاف جو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک چلائی جارہی ہے اسی سلسلہ کی کڑی کے طورپر یہ جلسہ کا انعقاد کیا ۔اور مودی حکومت کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں اس قانون کے خلاف نہ صرف مرد حضرات راستہ پر اترے ہیں بلکہ ہم خواتین بھی ان کے شانہ بشانہ احتجاج میں شامل ہے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جوتی چندن شیوے نے کہا کہ سی اے اے جیسا کالا بناکر حکومت نے ایک بہت بڑی غلطی کی اس کا احساس عام عوام کو ہورہاہے لیکن حکومت کو زرہ برابر بھی احساس نہیں ہے ۔یہ کالاقانون نہ صرف مسلمانوں کے خلاف بلکہ چالیس فیصد ہندو قوم کے لوگ بھی اس سے متاثر ہونگے ۔آج ہمیں اس کالے قانون کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔سپریہ گائیکواڑ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ ایک خاص مذہب کے خلاف سازش رچی گئی ہے ۔ماضی میں بھی یہ قانون تھالیکن اس طرح سے ذات پات کی بنیاد پر کسی کو شہریت دینے یا کسی کو نہ دینے کی بات نہیں کی گئی تھی لیکن بی جے پی نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے اسے مزید مشکل اور متنازعہ بنادیا ہے ۔اگریہ قانون اپنی موجودہ شکل میں نافذ ہوتا ہے تو اس کے کافی منفی پورے ملک کی عوام پر پڑے گے اور لوگ انتشار کا شکار ہونگے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری یہ قانون منسوخ کرے ۔ڈاکٹر عرشیہ کوثر نے کہا کہ سی اے اے جیسے کالے قانون کو لاکر مودی حکومت ملک میں نفرت اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔اس قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔
قانون کیخلاف احتجاج کرنے والوں کی آوزوں کو بھی دبانے کیلئے پولیس کے ذریعہ سختیاں کی جارہی ہے ۔لیکن ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ جب تک حکومت یہ قانون واپس نہیں لے لیتی ہم خاموش نہیں بیٹھے گے بلکہ اپنا احتجاج جاری رکھے گے ۔جلسہ کے اختتام پر صدارت کرتے ہوئے اورنگ آباد سے تشریف لائی ڈاکٹر خان مبشرہ خانم نے کہا کہ ہمارے آج کے جلسہ میں کثیر تعداد میں خواتین کی شرکت اور مختلف سماج سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک پلیٹ فارم جمع ہوکر سی اے اے ،این آرسی ،اور این پی آر کیخلاف احتجاج درج کیا ہے ۔حکومت کو یہ بات سمجھ لینے چاہئے کہ ملک بھر میں آگ لگی ہے ۔لوگ گولیاں کھارے ہیں جیلوں میں جارہے ہیں ۔احتجاج کرنے کیلئے عورتیں سڑکون پر نکل آرہی ہے مودی حکومت نے پورے ملک میں اتھل پھتھل مچا دیا ہے ۔یہ حکومت نہیں چلارہے ہیں بلکہ عوام کو لڑارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب ہم جاب چکے ہیں مودی حکومت ہمیں دھوکا نہیں دے این پی آر این آر سی کی پہلی سیڑی ہے ۔مودی حکومت نے جو کالا قانون لایا ہے وہ کالا قانون نہ صرف جمہوریت کے خلاف بلکہ انسانیت کیخلاف بھی ہے اور ہم خواتین آج اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور احکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ سی اے اے اور این آر سی کو فوری منسوخ کرے ہم لوگ اپنی جانوں کی ومال کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہے لیکن کا غذات نہیں بتائیں گے ہم حق کے لئے کھڑے ہیں ۔
جلسہ کی نظامت ڈاکٹر نسرین زبیری نے بخوبی انجام دئے ۔جلسہ کا اختتام قومی ترانہ کے ساتھ کیا گیا ۔جلسہ میں نظم و ڈسپلن کو برقرار رکھنے کیلئے ہیپی کلب اور خادمین کے امت والینٹرس کے علاوہ خواتین والینٹرس نے بھی اپنی خدمات انجام دی ۔جبکہ جلسہ کے تمام انتطامی امور پر کل جماعتی تحریک کے تمام ذمہ داران نظریں جمائے ہوئے تھے ۔جلسہ گاہ میں شرکاء کو کسی بھی طرح کی مشکلات پیش نہ آئے اس کے لئے پینے کا پانی اور دیگر ضروریات فراہم کی گئی اور ایل اے ڈی کا بھی نظم کیا گیا ۔جلسہ کے اختتام پر ضلع انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کلکٹر سنتوشی دیوکتے اور تحصیلدار اجولہ پانگرکر نے جلسہ گاہ پہنچ کر خواتین کی جانب سے صدر جمہوریہ کے نام دیا گیا مکتوب قبول کیا ۔