شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف رابوڑی میں احتجاج
تھانے (آفتاب شیخ)
شہریت ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیے جارہے ہیں اسی کی مناسبت سے تھانے شہر کے قدیم مسلم آبادی والے علاقے رابوڑی میں سنی اتحاد کمیٹی کی جانب سے بعد نماز جمعہ مومن پورہ جمعہ مسجد کے سامنے پرامن طریقے سے احتجاج درج کیا گیا جس میں سننی اتحاد کمیٹی کے علاوہ رابوڑی کے مختلف اداروں نے اور ذمہ داران نے شرکت فرمائی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مومن پورہ جمعہ مسجد کے خطیب وامام مولانا عظیم الدین نوری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے ہم اس بل کی مخالفت بحیثیت مسلمان نہیں بلکہ بحیثیت ہندوستانی کر رہے ہیں بلکہ جو لوگ یہ بات آپ کے دل و دماغ میں بھر رہے ہیں وہ ہمارے مدعے کو سمجھے ہی نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم وطن کی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے گزارش کی کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے ہم یہاں مسلمانوں کو بچانے نہیں بلکہ ہمارے ملک کے آئین کو بچانے کے لیے جمع ہوئے ہے اور جب تک یہ فیصلے کو واپس نہیں لیا جائے گا تب تک احتجاج کرتے رہیں گے۔ کارپویٹر نجیب ملا نے لڑائی کی شروعات ہوچکی ہے اس موقع پر کہا کہ نہ ہم چپ رہیں گے نہ ہم تشدد برباد کریں گے۔ ہندوستان کی تاریخ ہے کہ جس جس نے مذہب کے نام پر اس ملک کو تقسیم کرنا چاہا وہ خود مٹ چکا ہے۔ پاکستان سے لڑنے والے شہید عبدالحمید تھے شاہ اور مودی نہیں تھے ہر لڑائی میں مسلمان نے عیسائی نے سکھ، ہندو نے جان دی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ انڈیا گیٹ پر جتنے نام لکھے ہیں اس میں کوئی بھی مودی اور شاہ کا ذکر نہیں ہیں، اس ملک کی ترقی کے لئے جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہایا ہے ان سے پوچھا جارہا ہے کہ اپنی شہریت کا ثبوت دیں۔ یہ ہندو مسلم کا قانون نہیں ہے آج اس کے خلاف سب سے پہلے اگر آواز کسی نے اٹھائی ہے تو ہمارے ھندو بھائیوں نے اٹھائی ہیں سب سے پہلے وہی آگے آئیں ہے ملک کی لڑائی میں مسلمان بھی شہید ہوا ہے انہوں نے مودی شاہ کو یاجوج اور ماجوج سے تعبیر دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں مل کر ملک کو برباد نہیں کرسکتے۔ ہم کو اس احتجاج کو آگے لے کر جانا ہے کچھ لوگ آپ کے پاس آئیں گے دین حدیث کا نام پر آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن دین تشدد برپا کرنے کے لیے نہیں کہتا ہے ہمارے نوجوانوں کو ظلم کے خلاف یہ لڑائی جیتنا ہے تو ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ جب تک ہماری آواز صدر جمہوریہ ہند تک نہیں پہنچ جاتی تب تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد اصغر مقادم نے کہا کہ یہ جو قانون نافذ کیا جا رہا ہے اور جو لوگ ہندو مسلم کے زاویے سے دیکھ رہے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ قانون اگر ہندو مسلم سے تعلق ہوتا تو نارتھ ایسٹ کیوں جل رہا ہے، لکھنؤ کیوں جل رہا ہے، یا جامعہ میں اتنا ہنگامہ کیوں برپا یے ہمارے ہندو بھائی، سکھ بھائی سب سے زیادہ سڑک پر لڑتے نظر آرہے ہیں یہ گنگا جمنی تہذیب اس بات کی علامت کر رہی ہے یہ کسی ہندو مسلم کا قانون نہیں یہ بتانا چاہونگا پوچھنا چاہوں گا کہ جس پارٹی کا وجود انیس سو اسسی میں ہوا وہ ہم سے انیس سو ستر کے ثبوت مانگ رہے ہیں۔ جب ملک کا بٹوارہ ہوا ہمارے آباؤاجداد نے خواجہ کے ہندوستان کو اپنایا گرونانک، شری رام چندر اور شری کرشن کے ہندوستان کو اپنایا ان سے آپ اپنی شہریت کا ثبوت مانگ رہے ہو اس وقت جن لوگوں نے شری رام چندر جی کو اہمیت نہیں دی آج وہ لوگوں سے آپ کہہ رہے ہو کہ آپ یہاں آجائے ہم آپ کو اس ملک کی شہریت دیں گے۔ اختتام میں مفتی عظیم الدین نوری نے ملک میں امن و امان کے لیے اور ملک کی سلامتی کے لیے دعا کی اس کے بعد تھانے کے کلکٹر کو میمورنڈم پیش کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اس کالے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ اس موقع پر انجمن خاندیش کے صدر سید عباس علی، جمعہ مسجد کے قیس راوی، اقرا ایجوکیشن کے نثار سیفی، خدام خواجہ کے ذوہیب شیخ، سنی سرکل کے صفدر اشرفی، محسن شیخ، تبریز سید،
،اسلم گھاوٹے، چراغ الدین شیخ، مسعود فقیہ، اشتیاق ہاشمی، امجد برکاتی، جاوید سید، ابرار چودھری و بھاری تعداد میں عوام کا جم غفیر موجود تھا۔