نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کو ختم کرنے کی دیوبند کے کچھ علماء کی اپیل پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون شبانہ قریشی نے دو ٹوک الفاظ میں اس اپیل کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا ’’یہ مذہب کی لڑائی نہیں ہے جو ہم ان کی بات مان لیں، یہ لڑائی آئین کو بچانے کے لئے ہے اور جب تک سی اے اے اور این آر سی واپس نہیں ہوتا تب تک ہماری لڑائی جاری رہے گی ۔‘‘
واضح رہے دیوبند میں جمعرات کے روز ضلع مجسٹریٹ کی قیادت میں ایک ٹیم کی مدرسہ کے منتظمین سے بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد مدرسہ کے ذمہ داران نے دیوبند میں جاری خواتین کا مظاہرہ ختم کرنے کی بات کہی تھی لیکن وہاں کی خواتین نے ان کی اس اپیل کو ٹھکرا دیا تھا۔ جمعہ کے روز اس بات کو مشتہر کیا جانے لگا کہ دیو بند کے علماء نے شاہین باغ کی خواتین سے مظاہرہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
Reacting to #DarulUloomDeoband Mohtamim's statement, #ShabanaQureshi, a protester at #ShaheenBagh told @thewire_in : "Ye mazhab ki ladai nahi hai jo hum unki baat maan lein. Ye ladai Samvidhan ko bachane ki hai. Jab tak CAA NRC wapas nahi hota, hamari ladai jari rahegi." pic.twitter.com/UdH609AyEx
— Mahtab महताब مہتاب (@MahtabNama) February 7, 2020
واضح رہے دیوبند کے عیدگاہ میدان میں گزشتہ گیارہ یوم سے جاری خواتین کے احتجاج میں جمعرات کے روز اس وقت ہنگامہ ہو گیا تھا جب انتظامیہ کی تشکیل کردہ کمیٹی خواتین کو سمجھانے اور دھرنا ختم کرنے کے لئے ان سے بات چیت کرنے عیدگاہ میدان پہنچی۔
Saharanpur: Women protesting against CAA&NRC allegedly threw bangles on administrative committee members who came to interact. Dinesh Kumar, SSP says, "We had sent the committee as per govt's order to make people aware about NRC but some anti-social elements didn't let it happen" pic.twitter.com/msOIRqMkhN
— ANI UP (@ANINewsUP) February 7, 2020
خواتین کی طرف سے ارم عثمانی، آمنہ روشی، سلمہ احسن اور فوزیہ پروین وغیرہ نے کمیٹی میں شامل چیئرمین ضیاء الدین انصاری، سابق اسمبلی رکن معاویہ علی، مولانا مزمل علی قاسمی، بدر کاظمی وغیرہ سے گفتگو شروع کی ہی تھی کہ پنڈال میں موجود سیکڑوں خواتین کا شور اور جم کر نعرہ بازی شروع ہوگئی۔ خواتین نعرہ بازی کرتے ہوئے پنڈال سے نکل اس مقام پر پہنچ گئی جہاں کمیٹی کے لوگ خواتین سے احتجاج ختم کرنے کے لئے بات چیت کررہے تھے۔

پنڈال میں دھرنے پر بیٹھی سیکڑوں خواتین نے زوردار ’گو بیک ‘ اور ’دیوبند کے نیتا شرم کرو ‘ کے نعرے لگائے۔ خواتین میدان سے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئیں، یہاں تک کہ انہوں نے کمیٹی میں شامل لوگوں پر چوڑیوں کی برسات کر دی۔ اس ماحول کو دیکھتے ہوئے کمیٹی کے لوگوں نے عیدگاہ میدان سے باہر نکلنا ہی مناسب سمجھا۔
قبل ازیں، شہر میں سی اے اے، مجوزہ این آرسی اور این پی آر کی مخالفت کو لے کر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں گزشتہ گیارہ روز سے چل رہے خواتین کے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے انتظامیہ افسران کی ٹیم دیوبند پہنچی اور یہاں پر ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پی کی قیادت میں ایکتا کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ شہر کے معزز لوگوں کو اس کمیٹی میں شا مل کر کے انہیں دھرنے کو پرامن طریقے سے ختم کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ایک میٹنگ کے دوران ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پی نے کہا کہ حکومت نے این آرسی پر پارلیمنٹ میں تحریری طور پر جواب دیا ہے اور جس میں این آرسی کے نفاذ پر کوئی بات نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، ایسے حالات میں اب دیوبند میں خواتین کو اپنا دھرنا ختم کر دینا چاہئے۔ اس کے لئے انتظامیہ نے دیوبند علاقے کے معزز افراد سے آگے آنے کی اپیل کی اور معزز افراد کو شامل کرکے ایکتا کمیٹی کی تشکیل کی گئی اور ان سے دھرنے کو ختم کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔
انتظامیہ کی جانب سے ایس پی دیہات ودیا ساگر مشر نے کہا کہ دیوبند کے عوام نے ہمیشہ انتظامیہ کا تعاون کیا ہے اور امن وامان قائم رکھنے میں ان کی بھر پور مدد کی ہے ، انہیں امید ہے کہ اس مرتبہ بھی انتظامیہ کی مدد کرتے ہوئے یہاں کے افراد خواتین کو سمجھاکر دھرنا ختم کرنے کا کام کریں گے۔ خواتین کو سمجھانے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں سابق اسمبلی رکن معاویہ علی، چیئرمین ضیائ الدین انصاری، نجمی، بدرکاظمی، حاجی ریحان الحق ، مفتی احسان قاسمی، مولانا مزمل علی، مولانا عبدالخالق مدراسی وغیرہ کو شامل کیا گیا ۔ میٹنگ میں نیتا مظاہر حسن، سید حارث، محمد اسلم، مولانا سالم اشرف وغیرہ موجود رہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو