نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز کرناٹک کے شہر بیدر میں شہریت ترمیمی قانون (سی اےا ے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ڈرامہ پیش کرنے والے اسکول، اساتذہ اور ڈرامہ میں حصہ لینے والی بچی کی ماں کے خلاف درج غداریٔ وطن کا مقدمہ مسترد کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو مسترد کر دیا۔
سماجی کارکن يوگیتا بھائنا کی عرضی میں اس قانون کے غلط استعمال سے نمٹنے کے لیے میکانزم بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ غداری کا مقدمہ درج کرنے کی منظوری کا حق ایک کمیٹی کو دیا جانا چاہئے۔
واضح رہے کہ بیدر کی عدالت کی طرف سے ملزمان کو یہ کہہ کر ضمانت دی جا چکی ہے کہ شاہین اردو میڈیم پرائمری اسکول کے بچوں کے ذریعے پیش کئے گئے ڈرامہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو ان پر تعذرات ہند کی دفعہ 124اے کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس دنیش مہیشوري کی بینچ نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہے۔ جسٹس كھانولكر نے عرضی گزار کی جانب سے عرضی دائر کرنے کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ‘متاثرہ فریق کو آنے دیجئے’۔
ادھر، بیدر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مناگولی پریماوتی نے منگل کے روز شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن، بیدر کے بانی کی درخواست ضمانت کو منظور کر لیا۔ ان پر غداری وطن مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جج نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ کے تمام پہلؤوں پر غور کیا ہے۔ اسکول کی تقریب کے دوران اداکارہ (طالبہ) نے ڈرامہ سے کے دوران سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجاً کچھ الفاظ کہے تھے، استغاثہ کے مطابق ڈرامہ کے وہ چند الفاظ ناگوار ہیں۔ تاہم، اگر بات چیت کو مجموعی طور پر پڑھا جائے تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ حکومت کے خلاف کوئی اشتعال انگیز تبصرہ کیا گیا ہے۔
بچوں نے اظہار خیال کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا اور اس کے ڈرامہ میں ایسا کچھ نہیں ہے جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ غداری کے جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔ جج نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں یہ مکالمہ حکومت کے خلاف توہین آمیزی یا عدم اطمینان کو ظاہر نہیں کرتا۔
جہاں تک آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (مذہب، نسل، مقام پیدائش، زبان کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے مابین دشمنی کو فروغ دینا) کے تحت ہونے والے جرم کا تعلق ہے، تو اس ڈرامے میں کسی دوسرے طبقہ کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ تمام فنکاروں نے صرف اتنا کہا ہے کہ اگر وہ سی اے اے اور این آر سی کے تحت مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کرتے ہیں تو مسلمانوں کو ملک چھوڑنا پڑے گا۔
جب پورے ڈرامے میں دوسرے مذاہب کا تذکرہ ہی نہیں ہے تو دو مختلف عقائد کے پیروکاروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جو آئی پی سی کی دفعہ 153 اے کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
انگریزی اخبار ’نیو انڈین ایکسپریس‘ نے اس معاملے پر بیدر کے ایس پی ناگیش ڈی ایل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ جج نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ صرف پیشگی ضمانت دینے کے حکم پر مشاہدہ ہے۔ ان مشاہدات کا اس مقدمے کی سماعت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جو 21 جنوری کو ڈرامہ پیش کرنے کی پاداش میں اسٹاف، والدین اور شاہین اردو میڈیم اسکول کے انتظامیہ کے خلاف چل رہا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو