شام: مسلح گروپوں کا حمص کے شمالی دیہی علاقے پر کنٹرول، شہر کی جانب پیش قدمی

شامی فوج کی جانب سے الرستن کے پل پر (جو حمات اور حمص کے شہروں کو ملاتا ہے) شدید بم باری کے باوجود مسلح گروپ حمص کے دیہی علاقے کی جانب پیش قدمی میں کامیاب ہو گئے۔العربیہ نیوز کے ذرائع نے آج جمعے کے روز بتایا کہ مسلح گروپوں نے حمص کے شمالی دیہی علاقے پر تیزی کے ساتھ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ یہ پیش قدمی بنا کسی قابل ذکر مزاحمت کے سامنے آئی۔ اس کے نتیجے میں مسلح گروپ حمص کے دیہی علاقے میں تلبیسہ اور الرستن میں داخل ہو گئے اور وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔اسی طرح انھوں نے حمص کے وسط سے تقریبا 7 کلو میٹر دور واقع بتیر معلہ کے قصبے کے علاوہ الغنطو اور الدار الكبيرہ پر بھی قبضہ کر لیا۔مسلح گروپوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنگجوؤں کے ان علاقوں میں داخل ہونے کے مناظر پوسٹ کیے گئے۔مسلح گروپوں نے اپنے طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حمص شہر سے 5 کلو میٹر دور ہیں۔بعض مبصرین کے نزدیک حقیقی معرکہ اب حمص کے بیچ واقع ہو گا۔

حمص سے تازہ نفری کی آمد
انسانی حقوق کی شامی رصد گاہ المرصد کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے العربیہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ مسلح گروپوں کی یہ پیش قدمی شام سے حزب اللہ کے لیے لبنان جانے والی ہتھیاروں کی امداد کا سلسلہ منقطع کر دے گی۔اس کے علاوہ یہ حمص اور دمشق میں موجود بڑی تعداد میں ایران نواز ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

المرصد نے جمعرات کے روز رات گئے بتایا تھا کہ شامی فوج نے حمص شہر کو شمالی دیہی علاقے سے کاٹ دیا ہے۔ مزید یہ کہ حمص شہر کے اطراف شامی فوج کی بھاری تعداد موجود ہے۔شامی فوج کی جانب سے الرستن کے پل پر (جو حمات اور حمص کے شہروں کو ملاتا ہے) شدید بم باری کے باوجود مسلح گروپ حمص کے دیہی علاقے کی جانب پیش قدمی میں کامیاب ہو گئے۔

حمص سے پانچ کلومیٹر دور
العربیہ نیوز کے ذرائع نے آج جمعے کے روز بتایا کہ مسلح گروپوں نے حمص کے شمالی دیہی علاقے پر تیزی کے ساتھ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

ذرائع نے واضح کیا کہ یہ پیش قدمی بنا کسی قابل ذکر مزاحمت کے سامنے آئی۔ اس کے نتیجے میں مسلح گروپ حمص کے دیہی علاقے میں تلبیسہ اور الرستن میں داخل ہو گئے اور وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

اسی طرح انھوں نے حمص کے وسط سے تقریبا 7 کلو میٹر دور واقع بتیر معلہ کے قصبے کے علاوہ الغنطو اور الدار الكبيرہ پر بھی قبضہ کر لیا۔

مسلح گروپوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنگجوؤں کے ان علاقوں میں داخل ہونے کے مناظر پوسٹ کیے گئے۔

مسلح گروپوں نے اپنے طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حمص شہر سے 5 کلو میٹر دور ہیں۔

بعض مبصرین کے نزدیک حقیقی معرکہ اب حمص کے بیچ واقع ہو گا۔

حمص سے تازہ نفری کی آمد
انسانی حقوق کی شامی رصد گاہ المرصد کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے العربیہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ مسلح گروپوں کی یہ پیش قدمی شام سے حزب اللہ کے لیے لبنان جانے والی ہتھیاروں کی امداد کا سلسلہ منقطع کر دے گی۔اس کے علاوہ یہ حمص اور دمشق میں موجود بڑی تعداد میں ایران نواز ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

المرصد نے جمعرات کے روز رات گئے بتایا تھا کہ شامی فوج نے حمص شہر کو شمالی دیہی علاقے سے کاٹ دیا ہے۔ مزید یہ کہ حمص شہر کے اطراف شامی فوج کی بھاری تعداد موجود ہے۔المرصد کے مطابق شامی فوج نے اسلحے اور عسکری ساز و سامان سے بھری 200 سے زیادہ فوجی گاڑیاں حمص شہر منتقل کی ہیں۔ واضح رہے کہ حمص پر کنٹرول شامی افواج کے لیے ایک کاری ضرب ہو گی، بالخصوص جب کہ یہ شہر دار الحکومت دمشق سے تقریبا 20 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

یاد رہے کہ مسلح گروپوں نے جمعرات کی شام ملک کے چوتھے بڑے شہر حمات پر قبضہ کر لیا تھا۔ شام کے وسط میں واقع اس شہر پر کنٹرول حلب شہر پر قبضے کے چند روز بعد سامنے آیا۔تحریر الشام تنظیم اور دیگر اتحادی گروپوں نے تقریبا ایک ہفتہ قبل ملک کے شمال مغرب میں واقع ادلب سے اپنے حملے کا آغاز کیا تھا۔

شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ المرصد کے مطابق لڑائی میں اب تک 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مسلح گروپوں کے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج کے 65 سے زیادہ فوجی اور افسران مارے گئے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading