سی اے اے: میگھالیہ میں تشدد کے دوران ایک شخص کی موت، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ

ملک کے کئی حصوں میں سی اے اے کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرہ جاری ہے۔ تازہ معاملہ میگھالیہ کا ہے جہاں خاصی اسٹوڈنٹ ایسو سی ایشن (کے ایس یو) اراکین اور غیر قبائلیوں کے درمیان تصادم کی خبر ہے۔ تصادم کے بعد میگھالیہ پولس نے شیلانگ کے آس پاس کے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 6 اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔

پولس کے مطابق میگھالیہ کے مشرقی خاصی ہلس ضلع میں ترمیم شدہ شہریت قانون (سی اے اے) اور اِنر لائن پرمٹ (آئی ایل پی) پر ایک میٹنگ کے دوران کے ایس یو اراکین اور غیر قبائلیوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ یہ میٹنگ جمعہ کو ضلع کے ایچامتی علاقہ میں ہوئی تھی۔ کشیدہ ماحول کو دیکھتے ہوئے افسران نے بتایا کہ ریاست کے 6 اضلاع مشرقی جینتیا ہلس، مغربی جینتیا ہلس، مشرقی خاصی ہلس، ری بھوئی، مغربی خاصی ہلس اور جنوب مغربی خاصی ہلس میں جمعہ کی شب سے 48 گھنٹوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں۔

دوسری طرف میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کانراڈ سنگما نے اس پورے معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ سنگما نے بتایا کہ میں نے اس ایشو پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔ میٹنگ میں ریاست کے وزیر داخلہ، داخلہ سکریٹری، ڈی جی پی اور دیگر افسر ان موجود تھے۔ ہم نے اب تک ایک رات کرفیو لگایا ہے۔ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading