سی اے اے اور این آر سی سے جہاں مستقبل میں مسلمانوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا وہیں عالمی سطح پر ملک عزیز کا وقار بھی مجروح ہوگا اور اس کی شبیہ داغدار ہوگی، برسوں سے باہم شیر و شکر ہوکر زندگی گزار رہے مختلف ادیان و فرق کے ماننے والوں کے درمیان بھید بھاؤ پیدا ہوگا اور پھر لامتناہی خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ اللہ نہ کرے اگر اس بل کو کالعدم کرانے میں کامیابی نہیں ملی تو پھر ملک کا آئین اور دستور بازیچۂ اطفال بن جائے گا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ظالم و جابر اور خود سر کارندے جس طرح چاہیں گے ظلم و ستم کا بازار گرم کریں گے، اونچ نیچ، مذہب، ذات، برادری اور زبان کی بنیاد پر دنگا فساد کروائیں گے۔
آر ایس ایس کی بنیادی پالیسی اور نظریہ چوں کہ یہ ہے کہ اس ملک کو اسرائیل کی مانند تبدیل کر دیا جائے کہ جس طرح یہودیوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کرکے ایک نئے ملک اسرائیل کی بنیاد رکھی اور پھر اس میں صرف اور صرف یہودیوں کو ہی شہریت کا حق دار قرار دیا، اپنے ملک کے دروازے دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے والے یہودی کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیا، حتیٰ کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر کوئی یہودی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسرائیل کے قانون کے مطابق اسے پیدائشی طور پر اسرائیل کی شہریت مل جاتی ہے، بعینہ اسی طرح آر ایس ایس کی منشا یہ ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنایا جائے اور یہاں پر صرف اور صرف ہندو دھرم کی نشو و نما اور آبیاری ہو، ہندو دھرم میں بھی جو نچلی ذاتوں جیسے اچھوت اور شودر وغیرہ ہیں ان کو کٹھ پتلی بنا کر رکھ دیا جائے،
انھیں اونچے عہدے، تعلیم اور سرکاری نوکریوں کے حقوق سے محروم کر دیا جائے، ان کا سب بڑا نشانہ تو درحقیقت مسلمان ہیں، ان کی خواہش ہے کہ اندلس کی طرح یہاں سے بھی مسلمانوں کا نام و نشان مٹا کر انھیں اس ملک سے بے دخل کر دیا جائے یا یہ کی انھیں اس ملک میں دوم درجے کا شہری بنا کر ان سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا جائے اور بالخصوص جمہوری آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے بابا بھیم راؤ امیڈکر کی سرکردگی میں بنے ہوئے ہندوستان کے سیکولر قوانین کو بے حیثیت قرار دیا جائے اور اس میں حسبِ منشا حذف و اضافہ کرکے نیا آئین اور قانون نافذ کیا جائے اور بدقسمتی سے موجودہ حکومت اور اس کے حکمران آر ایس ایس کے اسی تھیوری پر نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چل رہے ہیں، نیز آر ایس ایس کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں، جمہوریت کا خون کرنا ان کی دیرینہ خواہش ہے۔ چناں چہ اقتدار کی کرسی پر جب سے یہ لوگ براجمان ہوئے ہیں اپنے خاکے میں دھیرے دھیرے رنگ بھر رہے ہیں، گھر واپسی کا نعرہ لگانا، لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ٹارگیٹ کرنا، مسلمانوں یا ان کی تہذیب سے جڑی جگہوں کے نام کو ہندتوا آئیڈیالوجی والے نام سے بدلنا، طلاق ثلاثہ بل پاس کرنا، کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرنا، بابری مسجد-رام جنم بھومی ملکیت معاملے پر غیر منصفانہ فیصلہ صادر کروانا، اس کی زندہ مثالیں ہیں اور اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ سی اے بی اور این آر سی کا نفاذ ہے، سی اے بی جو کہ اب لوک سبھا سے ہوتے ہوئے راجیہ سبھا میں پاس ہو کر سی اے اے بن چکا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کی ہلاکت خیزی اس وقت واشگاف ہوتی ہے جب اسے این آر سی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، جینیوں، بدھوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ظلم و جبر کا شکار ہونے کی وجہ سے انھیں محض چھ سال کے قیام کے بعد شہریت دی جائے گی جب کہ اس ایکٹ میں مسلمانوں کو سرے سے خارج کر دیا گیا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کا نفاذ ہی دراصل متعصبانہ اور دستور ہند کے خلاف ہے۔ آئین ہند نے تمام شہریوں کو یکساں طور پر حقوق فراہم کی ہے، مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا یہ قانون آئین ہند کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے بعد جب پورے ملک میں این آر سی کا نفاذ ہوگا جیسا کہ وزیر داخلہ امت شاہ بار بار اس کا ذکر کر چکے ہیں کہ آسام کے بعد پورے ملک میں ہم این آر سی لائیں گے،
این آر سی لاگو ہونے کے بعد سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا مسلمانوں کو ہی کرنا پڑے گا اس لیے کہ جو مسلمان 1971 سے پہلے کا صحیح دستاویز پیش نہیں کر سکیں گے انھیں ڈیٹینشن کیمپ میں سڑنا پڑے گا اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو، پارسی، جین، عیسائی، اور بودھ دھرم کے لوگ اگر چہ اپنی شہریت ثابت نہ کر سکے اور اپنے دستاویزات پیش کرنے سے قاصر رہے تو پھر انھیں شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت ہندوستان کی شہریت دے دی جائے اور یہ کالا قانون اسی لیے لایا ہی گیا ہے کہ مسلمانوں کو گھس پیٹیا ثابت کرکے انھیں عضو معطل بنا دیا جائے، شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جب پورے ملک میں مظاہرہ کیا گیا، یونی ورسٹیز کے طلبہ و طالبات نے سڑکوں پر نکل کر اس کے خلاف آواز بلند کی، سیکولر ہندوؤں، اپوزیشن سیکولر پارٹی کے لیڈران اور ملک کے سیاسی و سماجی شخصیات نے جب اس کے خلاف مورچہ کھولا تو حکومت کے رویے میں کچھ تبدیلی پیدا ہوئی اور نیا جال لایا پرانا شکاری کے تحت اب مردم شماری کے نام پر ایک نیا جال بچھانے کی ناروا کوشش کی گئی ہے جس کا نام این پی آر یعنی قومی آبادی رجسٹر ہے، 2010 کے قومی آبادی رجسٹر کو بنانے کے لیے 15 پوائنٹس پر ڈیٹا جمع کیا گیا تھا، لیکن نئے این پی آر میں 21 پوائنٹس کی جانکاری مانگی گئی ہے جس میں والدین کی جائے پیدائش بھی شامل ہے، اس نئے این پی آر میں والدین کی جائے پیدائش والا پہلو کافی اہم مانا جا رہا ہے، ماہرین قانون اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ این پی آر دراصل ایک سازش ہے یہ ڈیٹا در اصل این آر سی کے لیے پہلی سیڑھی اور پہلا قدم ہے اگر این پی آر کا اندراج ہوگیا تو مشتبہ افراد خود بہ خود ان کے جال میں پھنس جائیں گے اور اسی بنیاد پر این آر سی کا نفاذ ہوگا، خیر ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور سب سے پہلے سی اے اے کے خاتمے کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اس لیے کہ یہی بنیاد ہے اگر شہریت ترمیمی قانون میں مسلمانوں کو شامل کر دیا جائے تو حکومت این آر سی اور این پی آر کا جو ڈھکوسلہ کر رہی ہے وہ آپ سے آپ تہس نہس ہوجائے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ جو تحریک جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونی ورسٹی کے جیالوں نے شروع کی تھی اس تحریک کو مزید منظم اور مستحکم کیا جائے۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی اگر ان پر دباؤ ڈالا جاتا تو شاید ان کے اندر کچھ نرمی پیدا ہوتی۔
دنشواران اور ماہرینِ قانون کا مشورہ یہ بھی ہے کہ اب ہمیں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ معتبر وکلا کی مدد سے اس کالے قانون کے خلاف زیادہ سے زیادہ عرضیاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں داخل کروانی چاہیے، کیوں کہ کورٹ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اگر عرضیاں داخل کی گئیں تو کورٹ کو عوام کے حق میں ہی فیصلہ دینا پڑے گا۔
قابلِ فخر اور مبارک باد کے مستحق ہیں ملک کے وہ نوجوان، مرد، عورتیں، بوڑھے اور ننھے منے بچے جو میدان میں اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی قیمت پر بھی اس قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے حوصلوں کو بلند کیا جائے، زخمی ہونے والے نوجوانوں کی امداد کی جائے، جیل میں محبوس نوجوانوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جائیں اور احتجاج کو مذہبی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
اسی طرح مسلم تنظیموں کے بہت سے قائدین جو حکومت کا آلۂ کار بن کر ہنوز خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اپنے مفاد کے لیے بولنے سے ڈرتے ہیں، ایسے میر جعفروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، اور اِس کالے قانون کے خلاف لکھنے، بولنے اور احتجاج کرنے والوں کو ناعاقبت اندیشی کا طعنہ دینے والوں سے بھی دور رہا جائے تو بہتر ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ مصلحت پسند لوگ ابھی بھی سی اے اے اور این آر سی کی سنگینی سے بے خبر ہوکر اسے معمولی سمجھ رہے ہیں اور شاید اسی لیے خموش بھی ہیں، اللہ انھیں سمجھ عطا فرمائے، اللہ کرے اس بل کی مخالفت میں احتجاج و مظاہرے کی جو گونج دنیا بھر سے سنائی دے رہی وہ کار آمد و ثمر بار ثابت ہو، نوجوانوں کی کوشش رنگ لائے اور باشعور مسلمانوں نیز انصاف پسند غیر مسلموں کے مثبت اقدامات منظم سطح پر کوئی انقلاب برپا کرسکے۔ آمین!