سیمی کے 124 کارکنان ۲۰سال بعد باعزت بری

بڑی خوشخبری ہے کہ آج گجرات کی ایک عدالت نے ہمارے. ۱۲۴ مسلمان بھائیوں کو جوکہ ممنوعہ تنظیم سیمی سے وابستہ ہیں انہیں باعزت بری کردیا ہے… یہ خوشخبری اس لحاظ سے ہیکہ میرے ایمانی بھائیوں کو کھلی فضاء میسر آئےگی ناکہ اس لحاظ سے کہ، ہمیں سسٹم پر یقین آگیا _

انہیں27دسمبر ۲۰۰۱ میں سورت سے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیاگیاتھا، اب ۲۰ سالوں کےبعد بے قصور قرار دےکر انہیں رہا کیا جارہاہے

میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسے لاکھوں باصلاحیت مسلمانوں کی زندگی بھارت کا یہ متعصبانہ سسٹم کھا گیاہے، میں کئی سالوں سے یہ بات کہتاہوں کہ اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا SiMi پر بھارت سرکار نے جو پابندیاں لگائی ہے اور جسطرح اس تنظیم کے ہزاروں وابستگان کو پابندسلاسل کرکے ان کی اور ان کے گھرانوں کی

زندگیاں تباہ کردی گئیں وہ تمام کارروائیاں بعد کے عدالتی ٹرائل کی روشنی میں خالص ناانصافی، تعصب اور ظلم ثابت ہوتی جارہی ہیں، تنظیم سیمی پر عائد سنگین ترین الزامات میں سے کبھی بھی کوئي ایک بھی جرم ثابت نہیں ہوسکاہے، کیونکہ جن مہلک الزامات کےتحت انہیں گرفتار کیا گیا وہ بےبنیاد ہیں اور بھارت کی اسلامو فوبیا زدہ خفیہ ایجنسیوں اور سنگھی پولیس کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے

میں نے کئی سالوں پہلے کئی ایک پرانے لوگوں سے ملکر اس مظلوم تنظیم اور طلباء تحریک کے باعزیمت لوگوں کےمتعلق معلومات حاصل کی تھی، کئی پرانی نشریات کو پڑھا تھا اور اسی نتیجے پر پہنچا تھا کہ، منقسم ہندوستان میں ایک پھلتی پھولتی اسلامی تحریک جس کی بنیادوں میں عظیم ترین اہل علم و دانش کی محنت شامل ہے، وہ ایسی انقلاب آفریں تحریک تھی کہ منقسم ہندوستان میں نوجوانان اسلام کے درميان اس تحریک سے زیادہ مؤثر اور مربوط کوئی دوسری تحریک نہیں ہوئی، اس کی بنیادوں میں جہاں راسخین فی العلم اسلامی مفکرین کا مجمع تھا وہیں اس کی صفوں میں جیالانِ اسلام کا ہجوم تھا منقسم بھارت میں نوجوانوں کی ایسی اسلامی تحریک کی نظیر نہیں ملتی،
لیکن جیسے جیسے اس کا دائرہء اثر وسیع ہوتا گیا یہ تحریک سافٹ ہندوتوا کی حامل حکومتِ ہند کی نظر میں کھٹکنے لگی اور شدت سے کھلنے لگی، چنانچہ اس پر پابندی عائد کردی گئی، اس کے کارکنان و ذمہ داران پر کریک ڈاؤن ہوا، ظالمانہ آزمائشوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا ہنوز جاری ہے،
اور اس کےبعد کی افسوسناک تاریخ یہ ہیکہ اس مؤثر تحریک کو ملت کی نمائندگی نے مظلوم بننے دیا
جبکہ یہ ہوناچاہئے تھاکہ، جہاں جہاں آپکو لگا کہ طلباء کی یہ تحریک فلاں معاملے میں غیرمحتاط روش اختيار کیے ہوئے ہے تو آپ اس بےاحتیاطی سے اختلاف کرتے ہوئے بھی ان کا ساتھ دے سکتے تھے، ملت کی کسی بھی جماعت پر کریک ڈاون کے مقابلے میں صرف مذمتی بیان کبھی کافی نہیں رہا، اور کوئي جواز نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں کو جیلوں کی سلاخوں میں برداشت کرلیا جائے، بلکہ کسی بھی انسان کی بنیادی آزادی کو سلب کرنے کا حق کسی کے بھی پاس نہیں
کیونکہ اس تحریک کی اگر جوکچھ غلطیاں آپ شمار کرا سکتے ہیں وہ الفاظ کے بےمحل استعمال کی ہوسکتی ہیں وہ غیر محتاط رویے کی ہوسکتی ہیں بس، لیکن کسی بھی غیرقانونی یا عسکری سرگرمیوں میں ان کا وجود آپ ثابت نہیں کرسکتے اور آپ کیا آج تک بھارت کی کسی بھی عدالت میں اس تحریک پر ایسے الزامات ثابت نہیں کیے جاسکے ہیں، البتہ یکے بعد دیگرے ان کے بے قصور اور باعزت بری ہونے کے کئی ایک ججمنٹ موجود ہیں اور آج تو، ۱۰۰ سے زائد اس تنظیم کے کارکنان بری قرار دیے گئے ہیں، کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ اس تحریک سے متعلق پھیلائی گئی ظالمانہ روایات کو ختم کیا جائے اس سے وابستہ ہزاروں ہزار مسلمانوں کےخلاف عام کیے گئے سوتیلے تاثرات کو ختم کیا جائے کم از کم اپنی امت کے درمیان تو حقائق عام ہونے چاہییں،
دیکھیے منقسم بھارت میں ایک لاکھ دلائل جمع ہوچکےہیں کہ، جن ظالموں کے لشکر کو آپ خوش یا اپنے سے مطمئن رکھنا چاہتےہیں وہ کسی حال میں ممکن نہیں ہے، کیا ایسے ظالموں کیلیے کسی ایک مؤمن کی بدنامی یا مظلومیت برداشت کرنے کا جواز ملتاہے چہ جائیکہ ہزاروں مومنوں کے متعلق افواہوں پر یقین کیا جائے دوسری طرف یہ ظالم ایسے ہیں جو اپنے ایسے لوگوں کی بھی بھرپیٹ تائید کرتےہیں جوکہ بم دھماکے میں مجرم ثابت ہوچکےہیں ۔
پھر دلائل کی روشنی میں دیکھیں:
ایکطرف صرف سرکاری بیانیہ ہے اور نرے الزامات کہ یہ جماعت دہشتگرد ہے
دوسری جانب پوری امت کی گواہی ہے، اور عدالتوں سے جاری کیے گئے بیشمار فیصلوں کی گواہی ہے کہ سیمی نامی تنظیم کو پھنسایا گیا ہے، کئی دفعہ باعزت بری کیے جانے کے فیصلے آچکے ہیں، عدالتیں ان کے کارکنان کو بری کرتی آئی ہیں، اور دستاویزات ہیں کہ انہیں سرکاری ٹرائل کا شکار بنایا گیا ہے ان کےمتعلق پھیلائی گئی رائے جعل سازی اور فریب کاری پر مشتمل ہے
آئیے سورت کیس میں رہا کیے گئے سیمی کے ۱۰۰ سے زائد اپنے بھائیوں کا استقبال کریں اور قید و بند کے شکار دیگر برادران کی حمایت میں آواز اٹھائیں، انہیں مظلوم سمجھیں مجرم نہیں _
حکومت سے سختی سے سوال کیا جائےکہ ان ایک سو سے زائد لوگوں کی جو زندگی جیل میں برباد ہوئی اس کی بھرپائی کون کرےگا؟

*سمیــع اللّٰہ خان*
6 مارچ سنیچر ۲۰۲۱
ksamikhann@gmail.com

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading