سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشورمیں ایس آئی او کے مطالبات کوبھی شامل کریں

بیدر :(ورق تازہ نیوز) ہندوستان کے طلبہ اور نوجوان اس وقت کئی طرح کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔حکومتیں اور تعلیمی ادارے ان کے مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں ایس آئی او طلبائی منشور برائے پارلیمانی انتخابات جاری کرتی ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتی ہیکہ ان مطالبات کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں۔

 

آج اس ضمن میں ایس آئی او یونٹ کے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی اطلاع دی ۔ایس آئی او کے ذمہ داران نے کہاکہ طلبہ و نوجوانوں کے تعلیمی اور روزگار کے مسائل عوامی بحث کا حصہ بننا چاہیئے۔طلبائی منشور برائے پارلیمانی انتخابات میں تعلیم ،طلباء،سماجی انصاف، ماحول ،طلباءاور نوجوانوں کے اہم مسائل کے حل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔نیز مختلف تعلیم کے کمیشنوں کے مشوروں کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم کےلئے GDPکا 8فیصد حصہ سرف کیاجائے تاکہ ہم دوسرے ترقی پذیر ممالک سے تعلیم کے میدان میں مقابلہ آرائی کرسکیں۔RTEایکٹ 2009 کو سختی سے ساتھ لاگو کیا جائے ۔ قانون برائے حق تعلیم (RTE) کے تحت بچہ کی عمر 18 سال تک کی جائے تاکہ بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرسکے۔ اس کے علاوہ بنیادی تعلیم بچہ کی اپنی مادری زبان میں ہو۔ ہر گاو¿ں میں سرکاری اسکول قائم کیا جائے ۔ اسکولوں تک آسان رسائی کےلئے حکومت مفت ٹرانسپورٹ کی سہولیات طلباءکو فراہم کرےپ ۔سماجی انصاف کے تئیں مطالبہ کیا گیا ہیکہ رنگاناتھ مشرا کمیشن کو سامنے رکھتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کو 10فیصد تعلیم روزگار میں ریزرویشن دیاجائے۔ کرناٹک کے ایسے اضلاع جہاں اقلیتوں کے تعداد زیادہ ہو وہاں پر ملک کی بڑی بڑی یونیوارسٹی جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی و دیگر کے بیرونی کیمپس قائم کئے جائیں تاکہ اقلیتی طلبہ اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading