جلگاؤں : (سید علی انجم رضوی) : ریاست مہاراشٹر میں کچھ مہینوں سے عظیم شخصیات کی گستاخی کے معاملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بڑے پیمانے پر احتجاج کرتی نظر آرہی ہیں۔ 17 دسمبر کو ممبئی میں مہا وکاس اگھاڑی کا ایک بہت بڑا مورچہ بھی نکالا گیا۔ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ کئی سماجی تنظیمیں بھی میدان عمل میں آ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی شہر میں احتجاجی سرگرمیاں نظر آرہی ہیں۔
پچھلے دنوں جلگاؤں شہر میں کچھ غیر مسلم سماجی تنظیموں نے عظیم شخصیات کی ہونے والی مبینہ گستاخی کے خلاف راستہ روکو آندولن کیا۔ اس آندولن میں چند مسلم رہنما بھی نظر آئے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اقرا ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والی اردو اسکول کی برقع پوش طالبات کو پڑھائی کے اوقات ہی میں اسکول کی وین میں بٹھا کر شہر سے کچھ کلو میٹر دور لاکر آندولن میں شریک کروایا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہوگیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں دیگر اقوام کے طلباء یا طالبات شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے "بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” کی طرز پر ہماری اسکول کی پردہ نشین طالبات کو سب کے سامنے لے جاکر احتجاج میں شریک کرانے کی وجہ سے تعلیمی ادارے کے ذمہ داران کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔
عظیم شخصیات کی مبینہ گستاخی کے خلاف کیے گئے احتجاج کی وجہ سے پولیس نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ ایف۔آئی۔آر درج کردی ہے۔ ایف آئی آر نمبر 2022 /358 کے مطابق جلگاؤں کی ایک سماجی تنظیم نے عظیم شخصیات کی ہونے والی گستاخیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے پولیس سے اجازت لینے کے لیے تحریری عریضہ دیا۔ جسے پولیس نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ جلگاؤں کلکٹر کے حکم کے مطابق جلگاؤں ضلع میں 10 دسمبر 2022 سے لے کر 24 دسمبر 2022 تک ( 3 )( 1) 37 دفعہ لگائی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائی وے پر آمد و رفت میں رخنہ اندازی ہونے کی صورت میں عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی متاثر نہ ہو، اس لیے عریضہ گزار مناسب طریقہ استعمال کرتے ہوئے اپنے مطالبات منوا لیں۔ اس طرح کی نوٹس دے کر عریضہ گزاروں کو احتجاج کی منظوری دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
اس کے باوجود 13 دسمبر 2022 کو صبح دس بجے سے لے کر دوپہر دو بجے تک وقت وقت پر شہر سے چند کلومیٹر دور بامبھوری ہائی وے روڈ پر، گرنا ندی کے پل کے پاس، جین کمپنی کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سدھانشو تریویدی، بھاجپ کے رہنما راؤ صاحب دانوے اور چندرکانت پاٹل کے مبینہ طور پر عظیم شخصیات کی گستاخی کرنے کے خلاف کیا گیا۔ جلگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن میں اس جرم کے خلاف آئی۔پی۔سی کے تحت دفعہ 143, 188, 341, مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کے تحت دفعہ 135 اور (C) (1) 37, جووینائیل جسٹس ایکٹ (نابالغوں کے انصاف قانون) (نابالغوں کی فکر اور حفاظت) 2015 کی دفعہ (2) 83 کے تحت ایف۔آئی۔آر درج ہو چکی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔ کل 69 لوگوں کے خلاف ایف۔آئی۔آر۔ درج ہوئی ہے۔ جن میں اقراء ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر عبدالکریم سالار، اقراء اسکول کے صدر مدرس اور ایک دیگر مدرس بھی شامل ہیں۔
اس میں دو رائے نہیں کہ اگر کہیں عظیم شخصیات کی گستاخی ہو رہی ہو تو جمہوری طرز پر ان گستاخیوں کے خلاف احتجاج کیا جانا بیدار معاشرے کی علامت ہے۔ لیکن سستی شہرت کے لیے اسکول کے پڑھائی کے اوقات میں ایسی دھوم دھام کی جگہ پر برقہ پوش مسلم طالبات کو لے جانا اور وہاں پر پولیس کے ڈر سے لڑکیوں کا ادھر ادھر ہونا بھی تشویش ناک تھا۔
معاشرے میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ جب "مہاپرشوں” (عظیم شخصیات) کے مہاپرش بلکہ دنیا میں سب سے بڑے مہاپرش (عظیم شخصیت) آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیاں ملک میں اور ملک سے باہر ہوتی ہیں تب یہ سماجی تنظیمیں احتجاج کیوں نہیں کرتیں اور ہمارے یہ نام نہاد مسلم رہنما بھی کس بل میں جاکر چھپ جاتے ہیں۔