سہارنپور: اترپردیش کے ضلع سہارنپور کنگوہ اسمبلی سیٹ پر 21 اکتوبر کو ہونےوالے ضمنی الیکشن میں برسراقتدار پارٹی(بی جےپی) اپوزیشن پارٹیوں کے ووٹوں کےتقسیم کا فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ مسلم اور دلت اکثریتی حلقہ ہونے کہ وجہ سے گنگوہ بی جے پی کا گڑھ نہیں رہا ہے ۔اس حلقے سے سینئر گرجر لیڈر آنجہانی چودھری یش پال سنگھ سابق وزیر و سابق رکن پارلیمان اور ان کے حریف سابق مرکزی وزیر رشید مسعود کا بول بالا رہا ہے۔ ملک میں مودی لہر کی وجہ سے بی جے پی نے 2017 کے انتخاب میں اس اسمبلی حلقے سے جیت درج کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ کانگریس کا دامن چھوڑکر آئے رکن اسمبلی پردیپ چودھری نے علاقے کے دونوں سینئر سیاسی لیڈروں کے خیموں رشید مسعود اور چودھری یش پال کو ٹکر دیتے ہوئے یہاں سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیت درج کی تھی۔
کیرانہ کے بی جے پی رکن پارلیمان حکم سنگھ کے انتقال کے بعد ہوئے لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ان کی بیٹی مرگانکا سنگھ کو اپوزیشن کے متحدہ امیدوار تبسم نے شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔اس سے سبق لیتے ہوئے 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے رکن اسمبلی پردیپ چودھری پر داؤ لگایا جو صحیح ثابت ہوا حالانکہ اس ضمنی الیکشن میں پردیپ چودھری اپنی بیوی کو ٹکٹ دلانا چاہتے تھے لیکن اعلی قیادت نے اسے قبول نہیں کیا۔ بی جے پی نے منتشر اپوزیشن کی وجہ اپنے ضلع جنرل سکریٹری کیرت سنگھ پوار کو امیدوار بنایا ہے جبکہ کئی سینئر لیڈر مکیش چودھری، ابھے چودھیر، منیش چوہان، سابق ایم ایل اے منوج چودھری دعویدار تھے لیکن پارٹی نے ان سبھی پر کیرت سنگھ کو ترجیح دی۔
رشید مسعود کے کنبے سے ان کے بھتیجے و سابق میونشپل کارپوریشن کے چئیر مین نعمان مسعود کانگریس کے امیدوار ہیں۔ان کے چھوٹے بھائی عمران مسعود ریاستی کانگریس کے نائب صدر کا علاقے کے مسلمانوں پر کافی اثر ہے۔ بی ایس پی نے بھی گرجر سماج سے تعلق رکھنے والے مسلم امیدوار ارشاد چودھری کو اپنا امیدوار بناکر مسلم ووٹوں کے تقسیم کو اک دم طے کردیا ہے۔ ارشاد چودھری ضلع پنچایت صدر رہ چکے ہیں اور ایک بار انہیں ملائم سنگھ یادو نے لوک سبھا کے الیکشن میں بھی میدان میں اتارا تھا۔ بی ایس پی پہلی بار ضمنی الیکشن لڑرہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ مایاوتی نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضمنی الیکشن میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔
سماج وادی پارٹی نے چودھری یش پال سنگھ کے بیٹے رودر سین کو امیدوار بنایا ہے۔ ان کے بھائی اندر سین ایس پی سے باغی ہوکر 2017 کا اسمبلی الیکشن لڑچکے ہیں۔ انہیں 47219 ووٹ ملے تھے۔ تب بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی چودھری مہی پال سنگھ کو 44717 ووٹ ملے تھے اور کانگریس امیدوار نعمان مسعود نے 61418 ووٹ حاصل کر کے دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔ اس سیٹ پر بی جے پی سے جیت حاصل کرنے والے پردیپ چودھری کو 99446 ووٹ ملے تھے۔ سال 2012 کے انتخاب میں پردیپ چودھری نے کانگریس امیدوار کے طور پر سماج وادی پارٹی کے رودر سین کو تقریبا 4 ہزار ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست دی تھی۔
بی جے پی نے اگر ضمنی الیکشن میں جیت درج کی تو یہ بات تقریبا طے ہوجائے گی کہ گنگوہ حلقے سے رشید مسعود۔عمران مسعود اور چوھری یشپال سنگھ کا دبدبہ ورسوخ ختم ہوچکا ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ریاستی بی جے پی کے صدر سوتنتر دیو سنگھ اور جنرل سکریٹری(تنظیم) سنیل بنسل حلقے کا دورہ کرچکے ہیں۔
ایس پی رکن اسمبلی سنجے گرگ کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو شائد ہی انتخابی تشہیر کے لئے آئیں۔ مایاوتی کے آنے کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ بی جے پی خوداعتماد سے بھری ہوئی ہے۔ جموں۔کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کئے جانے کے بعد پہلی بار عوام کے رخ کا انداز ہوگا۔ گنگوہ اسمبلی سیٹ پر تین لاکھ 69 ہزار 367 ووٹرس ہیں۔ جنمیں ایک لاکھ 97 ہزار 166 مرد اور ایک لاکھ 72 ہزار 180 خاتون جبکہ 21 تیسری جنس کے رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ اس سیٹ پر 207 پولنگ سنٹر اور 436 بوتھ بنائے گئے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
