سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق اذان کیلئے لاؤڈاسپیکر کااستعمال کیا جائے، علمائے کرام کی اپیل

ممبئی،25اپریل(یواین آئی) ممبئی میں مسجدوں میں لاؤڈسپیکر پر اذان کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے اور اس کے ذریعے ملک بھر میں امن و امان خراب کرنے اور فساد کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے حساس معاملے میں مسلمان صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ،شرپسندوں کو امن وامان خراب کرنے کا موقع نہ دیں، آج یہاں آل انڈیا علما بورڈ کی ایک اہم میٹنگ میں ان خیالات کا اظہار کیاگیا۔ مذکورہ میٹنگ میں چند علما کرام اور تنظیموں کے ذمہ داران کانفرنسنگ کے ذریعے شریک ہوئے اور ملک کی موجودہ صورت حال پر اپنی بات رکھی۔ میٹنگ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی اور مسجدوں سے لاؤڈاسپیکرہٹانے کے معاملے میں ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ علما بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنس کے مطابق لاؤڈاسپیکر کا استعمال کیا جانا چاہئے، لاؤڈاسپیکر کا استعمال ضرورت کے لئے ہے اور سپریم کورٹ نے اس کے لئے اوقات بھی مقرر کئے ہیں۔ اس پرعمل کرنا چاہئے۔

علما بورڈ کی سپریم باڈی میں دہلی شاہجہانی عید گاہ کے شاہی امام مولانا نیاز احمد قاسمی، مولانا نوشاد احمد صدیقی، مفتی طاہر حسین مظاہری، مولانا شمیم اختر ندوی، صوفی احمد رضا قادری، قاری محمد یونس، علامہ بنئی حسنی وغیرہ شامل ہیں۔ میٹنگ میں علما بورڈ کی جانب سے ملک اور ریاست کی مساجد کے آئمہ کرام اور کمیٹی ممبران سے اپیل کی گئی ہے کے سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنس پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

آل انڈیا علما بورڈ کی میٹنگ میں ملک کے موجودہ نازک صورت حال نیز حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہا کرتے ہوئے بورڈ کے صدر علامہ بنئی نے کہاکہ ملک میں حالات بہتر نہیں ہیں، ملک کہاں جارہا ہے کس سمت جارہا ہے اس پرغور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے پر نظر رکھی جارہی ہے، نت نئے مسائل کھڑے کرکے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو الجھا کرانہیں پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ علامہ نے کہاکہ آج کی یہ بات نہیں ہے ملک میں برسہابرس سے مسجدوں پر لا ؤڈاسپیکروں سے اذان ہو تی ہے تو دوسری طرف مندروں میں بھجن کرتن ہوتا ہے لیکن کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا لیکن اب چندلوگوں نے اعتراض کیاہے ، جو یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں امن وامان اور شانتی رہے۔ وہ اس طرح کے مسائل کھڑا کرکے فساد کروانا چاہتے ہیں اور کئی جگہوں پر وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ علامہ نے کہاکہ فسادات میں مسلمانوں کے املاک کو نشانہ بنایا جارہاہے، ملزم انہی کوٹھہرا یا جارہاہے، گرفتار بھی انہی کو کیا جارہاہے۔ایسے حالا ت میں ہمیں صبرو تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading