سپریم کورٹ کا بڑا قدم، ایس آئی آر معاملے میں الیکشن کمیشن کو نوٹس، راہل گاندھی کے طرز عمل پر بھی عدالت کی ناراضگی

نئی دہلی: ملک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر (SIR) کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکشن کمشنر سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے ایک درخواست گزار کے طرز عمل پر بھی اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ اگلی سماعت میں اس سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

عدالت نے کن لوگوں کو نوٹس جاری کیا؟

15 اکتوبر 2026 کو چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باغچی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن رہنماؤں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے جواب طلب کیا ہے۔

ان درخواستوں میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے طریقہ کار اور ووٹروں کے نام حذف کرنے کے عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت نے ان درخواستوں کو ایس آئی آر سے متعلق پہلے سے زیر سماعت مقدمات کے ساتھ منسلک کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا کیا الزام ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں اور اس عمل میں شفافیت کی کمی ہے۔ درخواست گزاروں نے انتخابی فہرستوں میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے طریقہ کار پر بھی اعتراض کیا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی اہل شہری کا نام حذف کرنے سے پہلے مناسب اطلاع، سماعت کا موقع اور نام بحال کرانے کا مؤثر طریقہ ہونا ضروری ہے۔ درخواست میں انتخابی عمل کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے طریقہ کار سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے معاملات کی جانچ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ تاہم، یہ اپوزیشن کے الزامات ہیں اور ان پر عدالت کا حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

راہل گاندھی کے طرز عمل پر عدالت نے کیا کہا؟

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایک درخواست گزار کے طرز عمل پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت میں اس سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ نوٹس جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کسی فریق کے موقف کی حمایت یا مخالفت کر رہی ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ درخواست گزار کو اپنے طرز عمل کی وضاحت پیش کرنا ہوگی۔ تاہم، اس مرحلے پر بنچ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ کس درخواست گزار کے طرز عمل پر وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عدالت نے صرف راہل گاندھی کو ہی اس معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔

12 اکتوبر کو سپریم کورٹ تک نکالا گیا تھا مارچ

اس معاملے کا پس منظر 12 اکتوبر 2026 کو دہلی میں نکالے گئے اپوزیشن جماعتوں کے مارچ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک مارچ کیا تھا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے اس موقع پر انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے عمل پر روک اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایس آئی آر کے خلاف درخواست عدالت میں پیش کی گئی۔

دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کے عمل میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اس معاملے میں اب سپریم کورٹ کے سامنے الیکشن کمیشن کا جواب اور متعلقہ دستاویزات اہم ہوں گی۔

آگے کیا ہوگا؟

سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اب الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کو اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔ عدالت ایس آئی آر کے طریقہ کار، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے الزامات اور انتخابی عمل سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر مزید سماعت کرے گی۔

فی الحال عدالت نے ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کے الزامات کو حتمی طور پر درست قرار نہیں دیا ہے اور نہ ہی اس کارروائی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا عمل غیر قانونی ثابت ہو چکا ہے۔ معاملے کا حتمی رخ آئندہ سماعتوں اور عدالت کے فیصلے سے واضح ہوگا۔

البتہ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے اور درخواست گزار کے طرز عمل پر وضاحت طلب کرنے کے فیصلے نے ملک میں انتخابی فہرستوں اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading