خون عطیہ کیمپوں کا انعقاد اب صرف بلڈ بینک کرسکیں گے، سماجی تنظیمیں بلڈ بینک کے تعاون سے حصہ لے سکیں گی
ممبئی:(ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تُکارام مُنڈھے نے خون عطیہ کیمپوں کے انعقاد کے سلسلے میں نئے ضابطے جاری کیے ہیں۔ ان ضابطوں کے مطابق اب صرف بلڈ بینک ہی خون عطیہ کیمپوں کا انعقاد کرسکیں گے۔ سماجی تنظیموں یا دیگر اداروں کو ان کیمپوں کے منتظم کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم یہ تنظیمیں بلڈ بینک کے تعاون سے کیمپوں میں حصہ لے سکیں گی۔
تُکارام مُنڈھے نے بتایا کہ بلڈ بینکوں کے پاس خون عطیہ کیمپ منعقد کرنے کے لیے ضروری تکنیکی سہولیات، طبی عملہ اور تربیت یافتہ افراد موجود ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ خون عطیہ کیمپوں کے انعقاد کی ذمہ داری صرف بلڈ بینکوں کو سونپی جائے، تاکہ خون عطیہ کرنے کے عمل میں طبی اصولوں اور مقررہ ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
مفت تحائف کا لالچ دینے کی شکایات
گزشتہ چند دنوں کے دوران ایف ڈی اے کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض خون عطیہ کیمپوں میں خون عطیہ کرنے والوں کو گھڑیاں اور دیگر مفت تحائف دینے کا لالچ دیا جارہا تھا۔ حکام کے مطابق خون عطیہ کرنے والوں کو اس طرح تحائف کی پیش کش کرنا قواعد کی خلاف ورزی اور قابلِ کارروائی معاملہ ہے۔
ایف ڈی اے نے ان شکایات کی تحقیقات کیں، جن کے دوران الزامات میں حقیقت پائی گئی۔ اس کے بعد ایسے کیمپوں کے انعقاد پر عارضی طور پر روک لگادی گئی ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
خون عطیہ کے ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد
ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ خون عطیہ کرنے کے عمل کو محفوظ، شفاف اور طبی اصولوں کے مطابق بنانے کے لیے مقررہ ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ خون عطیہ کرنے والوں کو مفت تحائف کا لالچ دے کر کیمپوں میں شرکت کے لیے راغب کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔
محکمہ کے مطابق نئے ضابطوں کا مقصد خون عطیہ کیمپوں کے انعقاد میں نظم و ضبط برقرار رکھنا، طبی معیار کو یقینی بنانا اور خون عطیہ کرنے کے عمل میں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی کو روکنا ہے۔