ناندیڑ ضلع کے ماہور گھاٹ میں خوفناک حادثہ، 100 فٹ گہری کھائی میں گرا ٹیمپو، 3 افراد ہلاک، 3 زخمی

ماہور (ورق تازہ نیوز): مہاراشٹر کے مشہور مذہبی مقام شری کھیتر ماہور گڑھ پر شار دیہ نوراتری تہوار کے موقع پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔ اسی دوران رینوکا ماتا کے درشن کے بعد یوتمل واپس لوٹنے والے عقیدت مندوں کی گاڑی کو ماہور گھاٹ میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ سامنے سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی کے باعث ڈرائیور کا گاڑی پر سے قابو چھوٹ گیا، جس کے نتیجے میں میکسیمو جیتو ٹیمپو تقریباً 100 فٹ گہری کھائی میں جا گرا۔ جمعہ 16 اکتوبر کو صبح تقریباً 5 بجے محکمہ تعمیراتِ عامہ کے دفتر کے پیچھے گھاٹ کے پہلے خطرناک موڑ پر پیش آنے والے اس حادثے میں 3 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ 3 دیگر زخمی ہوگئے۔ اس افسوسناک واقعے سے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور گھاٹ کی سڑک پر حفاظتی انتظامات کا مسئلہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔

درشن کے بعد واپسی کے دوران حادثہ

موصولہ اطلاعات کے مطابق یوتمل میں فرنیچر کی دکان پر کام کرنے والے 6 مزدور بدھ 15 اکتوبر کی رات تقریباً 10:30 سے 11 بجے کے درمیان گاڑی نمبر MH 29 BE 6859 کے میکسیمو جیتو ٹیمپو میں سوار ہوکر ماہور کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ نصف شب کے قریب ماہور پہنچنے کے بعد انہوں نے شری رینوکا ماتا کے درشن کیے۔ درشن کے بعد واپسی کے سفر کے دوران ان کی گاڑی گھاٹ کے پہلے ہی خطرناک موڑ پر حادثے کا شکار ہوگئی۔

بتایا جاتا ہے کہ سامنے سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی ڈرائیور کی آنکھوں پر پڑی۔ اسی دوران سامنے والی گاڑی کے مخالف سمت سے آنے کے باعث ٹیمپو کو سڑک کے کنارے کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور ٹیمپو سیدھا گہری کھائی میں جا گرا۔ جائے حادثہ پر حفاظتی ریلنگ یا مضبوط حفاظتی دیوار نہ ہونے کے باعث حادثے کی شدت میں اضافہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔

3 افراد کی موت، زخمیوں کا علاج جاری

اس حادثے میں راہل ٹھاکرے اور پریتم پردھان کی جائے حادثہ پر ہی موت ہوگئی۔ شدید زخمی باباراؤ ٹیکام کو علاج کے لیے دیہی اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں دورانِ علاج ان کی بھی موت ہوگئی۔ حادثے میں دتو میشرام، پرتیک آر کے اور یشونت پاٹل زخمی ہوئے ہیں۔

دیہی اسپتال کے میڈیکل افسر ڈاکٹر بپن بابھلے نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اطلاعات کے مطابق کھائی میں گرتے وقت ٹیمپو پتھروں سے ٹکرا گیا، جبکہ پتھر اور گاڑی بھی بعض افراد کے اوپر گرنے سے انہیں شدید چوٹیں آئیں۔

پولیس اور مقامی افراد نے بچاؤ کارروائی انجام دی

حادثے کی اطلاع ملتے ہی وہاں موجود عقیدت مندوں نے ہنگامی نمبر 112 پر رابطہ کیا۔ گشت پر مامور پولیس انسپکٹر دیوی داس چوپڑے اور پولیس اہلکار پون راؤت نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کی۔ مقامی شہریوں کی مدد سے زخمیوں کو کھائی سے باہر نکال کر دیہی اسپتال پہنچایا گیا۔

کھائی میں گرے ہوئے مہلوکین کی لاشوں کو باہر نکالنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ پولیس انسپکٹر چوپڑے نے صحافی الیاس باوانی اور صحافی گوپال چوہان کے تعاون سے لاشوں کو باہر نکالنے کی کارروائی انجام دی۔ اسی دوران شردا کنسٹرکشن کے سپروائزر سرینواس نے فوری طور پر کرین دستیاب کرائی، جس کی مدد سے کھائی میں گرے ہوئے ٹیمپو کو باہر نکالنا ممکن ہوسکا۔

دیہی اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور 108 ایمبولینس کے عملے نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی۔ مہلوکین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا۔ امدادی کارروائیوں میں ایس بی بوتھنگے، دتا پالاٹواڑ، ایس کنٹھیکر، آر شریمگلے، پی آر جوڈے، جی آر بھوپالے، امرتا کرہالے اور گنیش دھولگنڈے سمیت دیگر ملازمین نے تعاون کیا۔

خطرناک موڑوں پر حفاظتی انتظامات کا مسئلہ پھر زیر بحث

پولیس انسپکٹر دیوی داس چوپڑے کی رہنمائی میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر شرد گھوڑکے، پولیس ہیڈ کانسٹیبل ستیہ مل مڈاوی، پولیس اہلکار سنگھ رتن سونسلے اور پون راؤت کے علاوہ ہوم گارڈ ایس پی بھگت اور مرکٹے مزید تحقیقات کررہے ہیں۔

نوراتری تہوار کے سبب ماہور گڑھ پر عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ کے درمیان پیش آنے والے اس حادثے نے گھاٹ کی سڑک پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ مقامی سطح پر خطرناک موڑوں پر مضبوط حفاظتی ریلنگ اور دیگر ضروری اقدامات کی ضرورت ایک بار پھر شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading