نئی دہلی۔آخر وہ کون ہے جس نے جیوترادتیہ سندھیا اور بی جے پی کے درمیان’ ڈیل‘ کرائی۔ کون ہے وہ شخص جس نے سندھیا کو 18 سال کا کانگریس کاساتھ چھوڑنے کے لئے راضی کیا؟ وہ کون ہے جس کی مدد سے سندھیا کی اب بھگوا پارٹی میں انٹری ہونے جا رہی ہے؟ ان سبھی سوالوں کا جواب ایک ہی ہے.
انگریزی ویب سائٹ آؤٹ لک کی ایک رپورٹ کے مطابق، مدھیہ پردیش میں مچے سیاسی اتھل پتھل کے پیچھے بی جے پی کے ترجمان ظفر اسلام (Zafar Islam) کا ہاتھ ہے۔ ظفر نے ہی سندھیا کو کانگریس سے ناطہ توڑ کر بی جے پی خیمے میں لانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔
ظفر اسلام میڈیا کے لئے جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر مباحثوں میں وہ ہر روز بی جے پی کا بچاؤ کرتے ہیں۔سیاست میں آنے سے پہلے وہ ایک غیرملکی بینک میں کام کرتے تھے اور لاکھوں میں تنخواہ پاتے تھے۔ حالانکہ، بعد میں وہ وزیر اعظم مودی سے متاثر ہو کر بی جے پی میں آ گئے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ ظفر اسلام اور جیوترادتیہ سندھیا ایک دوسرے کو کافی وقت سے جانتے تھے۔ سندھیا کے دہلی واقع گھر پر بھی ظفر کی ملاقات ہو چکی ہے۔ حالانکہ، گزشتہ پانچ مہینے سے ظفر اور سندھیا کے درمیان ملاقات کا سلسلہ بڑھ گیا تھا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہیں سے بی جے پی نے کھیل شروع کیا تھا۔