سعودی عرب نے مساجد میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں دعا پر پابندی عائد کردی

ریاض: سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ "فلسطینی مسئلہ مجھے متاثر نہیں کرتا۔ میں صرف اپنے ملک کی پرواہ کرتا ہوں۔” سعودی حکومت نے مساجد میں فلسطین کے حق میں دعا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کو بڑا بیان دیا۔ اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق ایم بی ایس نے بلنکن کو بتایا کہ "وہ ذاتی طور پر فلسطینی مسئلے کی پرواہ نہیں کرتے۔” رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم بی ایس نے یہ بات جنوری میں اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران بتائی غزہ جنگ کے دوران سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، ملک میں فلسطین کے حق میں نعرے بازی بھی ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔اس فیصلہ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت سعودی عرب کی ترجیحات میں فلسطینی مسئلہ اب کم اہمیت اختیار کرچکا ہے اور یہ اپنے اندرونی امور پر زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہے۔ متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس سے اس طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں تاحال سعودی عرب کی جانب سے اس طرح کی خبروں کی تردید نہیں کی گئی ہے۔

یہ اقدامات سعودی عرب میں موجود مذہبی اور سیاسی جذبات کی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے باعث عوامی سطح پر فلسطینی حمایت کی مہمات پر سختی سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔( بہ شکریہ منصف حیدرآباد۔ انڈیا)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading