ریاض: سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ "فلسطینی مسئلہ مجھے متاثر نہیں کرتا۔ میں صرف اپنے ملک کی پرواہ کرتا ہوں۔” سعودی حکومت نے مساجد میں فلسطین کے حق میں دعا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کو بڑا بیان دیا۔ اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق ایم بی ایس نے بلنکن کو بتایا کہ "وہ ذاتی طور پر فلسطینی مسئلے کی پرواہ نہیں کرتے۔” رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم بی ایس نے یہ بات جنوری میں اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران بتائی غزہ جنگ کے دوران سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے۔
Saudi Imams are banned from praying for the Palestinians or mentioning them in their supplications in mosques across Saudi Arabia, but especially in Makkah and Madinah.
— Visegrád 24 (@visegrad24) September 26, 2024
اس کے علاوہ، ملک میں فلسطین کے حق میں نعرے بازی بھی ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔اس فیصلہ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکومت سعودی عرب کی ترجیحات میں فلسطینی مسئلہ اب کم اہمیت اختیار کرچکا ہے اور یہ اپنے اندرونی امور پر زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہے۔ متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس سے اس طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں تاحال سعودی عرب کی جانب سے اس طرح کی خبروں کی تردید نہیں کی گئی ہے۔
BIG NEWS 🚨 Saudi Arabia bans Imams from praying for Palestine or even mentioning it in their sermons in Saudi mosques.
Saudi prince Mohammed bin Salman said he personally DOESN’T CARE about Palestinian issue.
Saudi says THERE IS NO PLACE for ‘political slogans’ in Hajj in… pic.twitter.com/JqStsRXpdB
— Times Algebra (@TimesAlgebraIND) September 27, 2024
یہ اقدامات سعودی عرب میں موجود مذہبی اور سیاسی جذبات کی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے باعث عوامی سطح پر فلسطینی حمایت کی مہمات پر سختی سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔( بہ شکریہ منصف حیدرآباد۔ انڈیا)
Even in Saudi Arabia they have had enough. pic.twitter.com/NQyaRmqoWI
— RadioGenoa (@RadioGenoa) September 29, 2024