سحری و افطارکی فضیلت احادیث کی روشنی میں

از: مفتی محمدضیاءالحق ندوی
ماہ شعبان المظم جوکہ ماہ رمضان المبارک کا پیش خیمہ ہےاسے ہم گزار چکے ہیں اور روزۂ رمضان جو ہم مسلمانوں کے ذمہ فرض عین ہے اس کے اندر کئے جانے والے بےشمار ایسے اعمال ہیں جس کو اپناکر ہم برکت و ثواب حاصل کرسکتے ہیں اسکی ایک اہم کڑی روزہ کے لئے سحری کا کھاناہے احادیث میں سحری کےفضائل وبرکات اور اس کی اہمیت بےشمار ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” سحری کھاؤ سحری کھانے میں برکت ہے "(ترمذی) یعنی سحری کھانے سے بدن میں نشاط اور قوت پیدا ہوتی ہے اور کہیں فرمایا” یہودونصاری اور ہمارے روزوں میں صرف سحری کافرق ہے” (ترمذی) اورحضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا”سحری کھانےمیں برکت ہےاسےہرگز نہ چھوڑو ،اگرکھانےکی خواہش نہ ہو تب بھی تم میں سے کوئی پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لے ،کیونکہ سحری کھانے والوں پراللہ تعالی رحمت نازل فرماتےہیں اور فرشتے ان کےلئے دعاکرتے ہیں "(مسنداحمد)
اور حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”سحری کھایا کرو اگرچہ پانی کاایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو” (ابن حبان)
مذکورہ بالااحادیث سے سحری کی فضیلت و اہمیت اظہرمن الشمس ہوجاتی ہے اس لئے سحری کھانےکااہتمام ضرورکرنا چاہیے تاکہ اس کےاجروثواب سے محروم نہ رہیں بعض وہ حضرات جو سحری کھائے بغیرروزہ رکھتے ہیں انہیں بھی سحری کااہتمام کرناچاہیے اگرچہ اس طرح سےان کا روزہ ہوجائے گا مگرسحری کےثواب سے محروم رہیں گے.

*سحری کا مسنون وقت کیاہے* ؟
رات کےآخری حصے میں صبح صادق سےپہلے پہلے سحری کھانامسنون ہے ، نصف شب کے بعد جس وقت بھی سحری کھائیں سحری کی سنت اداہوجائےگی البتہ بالکل آخری شب میں کھانا افضل ہے اسی لئے علماءنے سحری میں تاخیر کرنےکومستحب کہا ہے اورتاخیرکرنے کامطلب یہ ہےکہ جب تک صبح صادق کایقین نہ ہو اس وقت تک سحری کھاتےپیتے رہے اورجب صبح صادق نمودارہوجائےتوپھر کھانا پینا چھوڑ دے.
*افطارکی فضیلت :*
حضرت جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "اللہ تعالی کے لئے ہرافطار کےوقت آزاد کردہ لوگ ہوتے ہیں اوریہ ہر رات کوہوتے ہیں "(ابن ماجہ) یعنی افطارکے وقت اورافطارکی بڑی فضیلت ہے افطارکے وقت روزے داروں کی مغفرت ہوجاتی ہے اور اس وقت روزے داروں کی دعاخصوصیت کےساتھ قبول ہوتی ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "روزےدارکی دعا رد نہیں کی جاتی ہے "(مسند احمد)
*افطارکروانےکاثواب* :
روزہ افطارکرانے والوں کے بارے میں بڑی فضیلت ہے چنانچہ حدیث میں ہےکہ جس نےروزہ دارکوروزہ افطارکرایا اسےبھی اتنا ہی اجرملےگاجتنااجر روزہ دارکوملےگا اورروزہ دارکے اجرسےکوئی کمی نہ ہوگی (ترمذی)
اس حدیث سے یہ بات صاف واضح ہےکہ افطار کرانے والےکو کس قدر ثواب ملتا ہے لیکن بعض جاہل لوگ سمجھتےہیں کہ اگر دوسرے کی افطاری سے روزہ افطار کرلیں گےتو ہمارے روزے کاثواب افطاری کرانے والوں کومل جائے گا تو یہ غلط خیال وعقیدہ ہے اسی طرح بعض جگہیں مساجد میں آنےوالی عمدہ عمدہ افطاری چھپاکر رکھ لی جاتی ہے اور عام افطاری ضروت مندوں میں بانٹ دی جاتی ہے اور اگرکوئی مسافرکسی کے سامنےدسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے تو ان کے چہرہ کارنگ بدلنا شروع ہوجاتا ہےجبکہ ہمارے سلف صالحین کاحال یہ تھا کہ اپنی افطاری پردوسروں کوترجیح دیتے تھے اور بعض تو غریب ومسکین کے بغیر افطاری کرتے ہی نہ تھے. اس لئے اس مبارک ماہ میں اس طرح کا طرزعمل درست نہیں اس سےگریز کریں.اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام اورسلف صالحین کو اسوہ و نمونہ بنائیں.
*روزہ کس چیزسےافطار کرنا چاہیے ؟*
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے چند کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے اور اگر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند چھوہارے سے افطار فرمایا کرتےتھے اوراگر یہ بھی میسر نہ ہوتے تو پانی کے چندگھونٹ سے افطار کرلیاکرتے ” (ابوداؤد) اس حدیث کی روشنی میں علماءحدیث نے لکھا ہے کہ کھجور اور چھوہارے سےافطار کرنا افضل ہےاورپانی سے افطار کرنا مستحب ہے اس لئے اگر کھجور یا چھوہارہ میسر نہ ہو تو پانی سے ہی افطار کرلیا کریں.
*قارئین کرام!* ان باتوں سے سحری و افطار اورافطارکرانے والوں کیلئے کیافضیلت اور اجروثواب ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہےاس لئے اس مبارک ماہ میں جہاں پورا ملک لاک ڈاؤن ہے غریب عوام نان شبینہ کوترس رہے ہیں ان کا بھرپور خیال رکھیے اپنےافطار میں سے انہیں بھی پہونچادیجیے حدیث میں ہےکہ "اگرکوئی روزہ دار کوروزہ افطارکرائے تو اس کے صغیرہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اورجہنم کی آگ سے نجات ملتی ہے اور اس کواتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا روزہ دار کو ثواب ملتاہے صحابہ کرام نے فرمایا یارسول اللہ اگر کوئی روزہ افطارکرانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ کیسے اس ثواب کو حاصل کرےگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ثواب اللہ تعالی ایک گھونٹ شربت پلانے یا ایک کھجور کھلانے یا ایک گھونٹ پانی پلانے پر بھی دے دیتے ہیں ،اور جو پیٹ بھر کھانا کھلادیتا ہے اس کو اللہ تعالی میری حوض کوثر سے ایساپانی پلائیں گے کہ جنت میں پھر کبھی اس کو پیاس نہ لگےگی. اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے روزے دار بھائیوں کاخاص خیال رکھیں اورنیک عمل کے ذریعے اجروثواب کے مستحق ہوں.
اللہ ہمیں اس نیک عمل کی توفیق عطاءفرمائے. آمین
ـــــــــــــــــــــــــــــ
*مفتی محمدضیاءالحق ندوی*

9801698597
ziyanadwi980

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading