ستاسی ہزارپانچ سوکتابیں جمع کرنے والا ہندوستانی

روِش کمار کا بلاگ

ترجمہ:نایاب حسن قاسمی

وہ دنیاکے عظیم قارئین اور کتاب دوستوں میں سے رہاہوگا،اس کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ کتابوں کے بغیر نہیں گزراہوگا،اس کی زندگی اپنے زمانے کی مشغول ترین زندگیوں میں سے ایک رہی ہوگی،اس وقت بجلی توہوگی نہیں ؛لہذاظاہر ہے کہ وہ دن کے اجالے میں پڑھتاہوگا،گھر میں ان کتابوں کو رکھنے کے لیے کمرے بنواتاہوگا،کمرے میں الماریاں رکھواتا ہوگا،گلیارے میں بھی کتابیں رکھی رہتی ہوںگی،بیرونی ممالک سے کتابوں کی آمد کا مہینوں انتظار کرتا ہوگا،اس کے دوست احباب تحفے میں کتابیں دیاکرتے ہوںگے،اتنا سب نہیں ہوتا، تو آشوتوش مکھرجی کے پاس ستاسی ہزار پانچ سو(87,500)کتابوں کا ذخیرہ کیسے اکٹھاہوپاتا؟

[soliloquy id=”13075″]
کولکاتامیں واقع نیشنل لائبریری میں مکھرجی کی کتابوں کی ایک مستقل لائبریری ہے،نیشنل لائبریری نے ان کی کتابوں کے ذخیرے کواچھی طرح سنبھال کر رکھاہے،وہاں جاتے ہی میں انیسویں اور بیسویں صدی کے ان ہندوستانیوں کے تصور میں کھوگیا،جنھیں کتابیں بدل رہی تھیں،جنھوں نے کتابوں کی قدرپہچانی،مجھے معلوم نہیں کہ اُس زمانے کی اجتماعی و انفرادی زندگی میں کتابوں کے کردارپر کوئی مستقل کتاب ہے یانہیں،مگر کیایہ جاننے کی بات نہیں ہے کہ آشوتوش مکھرجی کا ستاسی ہزار پانچ سوکتابوں کا ذخیرہ کیسے اکٹھاہوا؟اس دور میں ان کے علاوہ اور کون کون ایسے لوگ رہے ہوںگے،جن سے کتابوں پر گفتگو ہوتی ہوگی،جانکاری ملتی ہوگی،وہ کتابیں خریدتے ہوں گے اور سنبھال کر رکھتے ہوں گے؟

یہاں سب سے پرانی کتاب1525ءکی ہے،میں نے کئی زبانوں کی ڈکشنریاں دیکھیں،کچھ رنگین،کچھ تھری ڈی طباعت والی کتابیں توعجیب و دلچسپ تھیں،ایک تصویر بھی ہے،جس میں ایک زہریلا ہندوستانی سانپ پھن نکالے کھڑاہے،ایسا لگتاہے کہ کتاب کے اوپر ہی بیٹھاہے،ایک کتاب پر نظر پڑی، جس پر”ہندوتو“لکھا تھا،اس کے مصنف رام داس گوڑہیں،انھوں نے یہ کتاب ڈاکٹر شیاماپرساد مکھرجی کو ہدیہ کی تھی،آشوتوش مکھرجی شیاماپرساد کے والد تھے، ”ہندوتو“کو پلٹ کر دیکھا،تو اس کے اندرہندورسوم و رواج کی تفصیلات درج ہیں،اس مجموعہ¿ کتب میں ایک ہی کتاب کے کئی ورژن بھی ہیں،مثلاً ”عربین نائٹس“(The Arabian Nights )کے30مختلف ورژن ہیں،زیادہ تر کتابیں قانون کی ہیں ،مگر حیاتِ انسانی، علمِ نباتات، فزکس، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ،فلسفہ،معاشیات،فنونِ لطیفہ کی کتابیں بھی اس ذخیرے میں موجودہیں۔

ستاسی ہزار پانچ سو کتابیں اکٹھاکرنے والے آشوتوش مکھرجی کی زندگی اس دور میں کافی مشغول رہی ہوگی،انھیں علمِ ریاضی سے زیادہ شغف تھا،انھوں نے ریاضیات پر کئی تحقیقی مقالے لکھے،جواس دور کے مشہور اخبارات و رسائل میں شائع بھی ہوئے،1881ءمیں علمِ ریاضی پر ان کا تحقیقی مقالہ کیمبریج میں شائع ہوا تھا،انھیں اس علم سے اتنی محبت تھی کہ جرمن اور فرنچ ریاضی دانوں کے کارناموں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے انھوں نے یہ دونوں زبانیں سیکھ لیں،1887ءمیں قانون کی ڈگری حاصل کی اور وکالت شروع کردی،کولکاتا ہائی کورٹ کے جج بنے اور1920ءمیں کچھ عرصے کے لیے چیف جسٹس بھی رہے،ان کا شمار برطانوی ہندوستان کے بہترین ججوں میں ہوتا تھا۔
آشوتوش مکھرجی کی کتابیں بتاتی ہیں کہ ان کی دنیا کتنی بڑی تھی،حصولِ علم سے ان کی دلچسپی انھیںقانون کے علاوہ سنسکرت،انگریزی،فلسفہ وسائنس، مذہب، تاریخ،سماجیات جیسے موضوعات تک لے گئی،کیا کمال کی زندگی رہی ہوگی آشوتوش مکھرجی کی!وقت اور ذرائع ووسائل ہوتے،تواس عظیم کتاب دوست انسان کی زندگی کی کتابوں کے آس پاس تشکیلِ نوکرتا۔2014ءمیں ان کی 150سالگرہ منائی گئی تھی،نیشنل لائبریری نے ان پر ایک سوینیر شائع کیا ہے، 1924ءمیں ان کی وفات ہوگئی،اس کتابچے کے مطابق آشوتوش مکھرجی نے کولکاتا یونیورسٹی کو کافی بدل دیاتھا،پہلے یہ ایک امتحان لینے والا ادارہ سمجھا جاتا تھا،مگر ان کی وجہ سے طلبہ کے درمیان اس کی مقبولیت بڑھنے لگی،25سال کی عمر میں ہی وہ یونیورسٹی کے سینٹ ممبر ہوگئے تھے،1906ء سے1914ءتک وائس چانسلر رہے،1921ءمیں پھر سے وائس چانسلر بنے، 1908ءمیں کولکاتا میتھ میٹیکل سوسائٹی قائم کی،جب نیشنل لائبریری کو امپریئل لائبریری کہاجاتا تھا،تب اس کی کونسل کے ممبر تھے،آشوتوش مکھرجی کو بنگال ٹائیگر کہاجاتا تھا۔
کولکاتا میں آشوتوش مکھرجی کے نام پر سڑک ہے،کالج ہے،مگر آشوتوش مکھرجی وہاں نہیں ہیں،وہ ان کتابوں کے بیچ ہیں،جنھیں پڑھتے ہوئے،جمع کرتے ہوئے انھوں نے اپنی زندگی تمام کردی،کولکاتا جائیں،تونیشنل لائبریری ضرور جائیں اور نیشنل لائبریری جائیں ،توآشوتوش مکھرجی کا ذخیرہ کتب ضرور دیکھیں!

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading