پونے میں روزانہ ایک عصمت دری، کوئیتا گینگ، منشیات اور غنڈہ گردی میں اضافہ: ہرش وردھن سپکال
ایپسٹین فائل میں نام آنے کے بعد نریندر مودی امریکہ کے دباؤ میں، جنگ بندی، تجارتی معاہدہ اور خام تیل خریدنے جیسے فیصلوں کا یکطرفہ اعلان امریکہ کر رہا ہے
جس ترنگے کے لیے ہزاروں لوگوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں، وہ ترنگا آر ایس ایس کے دفتر پر کئی برسوں تک نہیں لہرایا گیا
پونے/ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے پونے میں بڑھتے جرائم، خواتین پر جنسی مظالم، منشیات کے کاروبار اور غنڈہ گردی کو لے کر ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنہیں ’’نئے پونے کا معمار‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، انہی کے دور میں شہر کی قانون و انتظامیہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
پونے میونسپل کارپوریشن میں کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر پرشانت جگتاپ کی جانب سے آئین چوک، واناودی میں قائم کیے گئے 45 میٹر بلند قومی پرچم کے ستون کی افتتاحی تقریب اور کانگریس کارکنان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ پونے شہر میں جگہ جگہ ’’دیویندر فڑنویس نئے پونے کے معمار‘‘ کے پوسٹر اور بینر لگائے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی پونے میں خواتین پر جنسی مظالم کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف جنوری سے مارچ کے درمیان جنسی استحصال کے 700 واقعات درج ہوئے اور شہر میں روزانہ ایک عصمت دری کا واقعہ پیش آ رہا ہے۔
سپکال نے کہا کہ پونے میں منشیات کا کاروبار کھلے عام جاری ہے، کوئیتا گینگ کا دہشت پھیلانے والا سلسلہ جاری ہے، جبکہ گلٹیکڑی مارکیٹ یارڈ میں غنڈہ عناصر کی مداخلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی ’’نئے پونے‘‘ کی تعمیر ہے اور کیا ان تمام حالات کے ذمہ دار دیویندر فڑنویس نہیں ہیں؟ اس موقع پر پونے کانگریس کے شہری صدر اروند شندے، سابق وزیرِ مملکت رمیش باگوے، سابق رکن اسمبلی موہن جوشی، خزانچی ابھیے چھا جیڑ، سابق رکن اسمبلی دیپتی چودھری سمیت بڑی تعداد میں کانگریس کے عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔ تقریب کا آغاز نسراپور، پونے میں چار سالہ متاثرہ بچی اور خواتین و بچوں پر مظالم کے دیگر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرکے کیا گیا۔
ہرش وردھن سپکال نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر زیر بحث ایپسٹین فائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اس معاملے نے ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس میں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے جنسی استحصال اور قتل جیسے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد دنیا کی کئی اہم شخصیات کو استعفیٰ دینا پڑا۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائل میں ہندوستان کی دو اہم شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، جن میں مرکزی وزیر ہردیپ پوری اور وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اس معاملے کے بعد شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران اچانک جنگ بندی کا اعلان امریکہ نے کیا، امریکہ کے دباؤ میں تجارتی معاہدہ کیا گیا، اور روس سے خام تیل نہ خریدنے کی ہدایات بھی امریکہ کی جانب سے دی جا رہی ہیں، جبکہ وزیر اعظم خاموش ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’نریندر سرنڈر ہو چکے ہیں‘‘۔ سپکال نے مزید کہا کہ جس طرح ایپسٹین فائل میں کم عمر بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات سامنے آئے، اسی طرح کے واقعات مہاراشٹر میں بھی بڑھ رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
قومی پرچم ترنگے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اس ترنگے کی حفاظت کے لیے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور سینوں پر گولیاں کھائیں، لیکن ترنگے کی توہین برداشت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ترنگے کا زعفرانی رنگ قربانی کی علامت ہے، سفید رنگ سچائی اور روشنی کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ سبز رنگ خوشحالی اور سرسبزی کی علامت ہے، اور اشوک چکر ترقی اور حرکت کی علامت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ان تینوں رنگوں کے فلسفے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ آر ایس ایس نے آزادی کے بعد تقریباً پچاس سے پچپن برسوں تک اپنے دفتر پر ترنگا نہیں لہرایا، اس لیے ایسی سوچ کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی ترنگے کے خلاف ’’کالی ٹوپی‘‘ اور آئین کے خلاف ’’منوواد‘‘ کی لڑائی ہے۔پونے میں 34 ہزار کروڑ روپے کے 54 کلومیٹر طویل زیرِ زمین سڑک منصوبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے سپکال نے کہا کہ اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منصوبے کے اعلان سے قبل نہ کوئی عوامی سماعت کی گئی اور نہ ہی کارپوریٹرس کو اعتماد میں لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پونے میں بدعنوانی کی جڑیں مضبوط کرنے والا منصوبہ ہے، جس کے خلاف عوامی سطح پر آواز اٹھائی جانی چاہیے۔