سبری ملا میں خواتین کے داخلے کے بشمول کئی مدہبی مسائل وسیع تر بنچ کے سپرد

مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق فیصلہ پر نظرثانی کرنے کی درخواستوں کو زیر التوا رکھنے سپریم کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی۔14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ 7 رکنی ججس کی بنچ سبری ملا مندر اور مساجد میں خواتین کے داخلے کے بشمول مختلف مذہبی مسائل کا دوبارہ جائزہ لے گی۔ خاص کر داودی بوہرہ طبقہ میں خواتین کی عبادتوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ ججس کی پانچ رکنی بنچ نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا کہ ان مسائل کو وسیع تر بنچ کے سپرد کردیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنا منقسم فیصلہ 3:2 کی بنیاد پر دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواستوں پر غور و خوص کیا گیا۔ ستمبر 2018ء کے فیصلہ پر کہ کیرالا میں سبری ملا مندر میں تمام عمر کی خواتین کو داخلے کی اجازت دینے کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کے ججس کی رائے 3:2 پر منقسم رہی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس اے ایم کھانولکر اور اندر ملہوترہ کی جانب سے اکثریتی فیصلہ کیا گیا کہ مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق داخل کردہ نظر ثانی درخواستوں کو زیر التوا رکھا جائے اور کہا کہ مذہبی مقامات میں خواتین کے لیے پابندیوں کو صرف سبری ملا تک ہی پابند نہ کیا جائے بلکہ تمام مذاہب میں اس عمل کو روکا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ کے ججس کی اکثریتی فیصلہ میں یہ نہیں کہا گیا کہ سبری ملا مندر میں خواتین کے داخلے کی اجازت دینے 28 ستمبر 2018ء کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف کوئی منفی رائے قائم ہوئی ہے۔ قبل ازیں دیئے گئے فیصلہ پر حکم التوا دیا جائے اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا خواتین مندر میں داخل ہوسکتی ہیں۔ مندر میں خواتین کو پوجا کی اجازت دینے کا عمل 17 نومبر سے آغاز ہورہا ہے۔ اکثریتی رائے کے بعض حصوں کو پڑھ کر سناتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ درخوستگزاروں کی خواہش ہے کہ مذہب اور عقائد کے مسئلہ پر بحث کا احیا کیا جائے۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading