شام کے صدر بشار الاسد کے دمشق سے فرار اور دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے والے مسلح دھڑوں کے بارے میں اتوار کو دنیا جاگ اٹھی جہاں انہوں نے دمشق کے مالکی محلے میں شام کے صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس قدم نے شام میں تقریباً 13 سال سے جاری تنازع کا خاتمہ کردیا۔ اس تنازع نے نے معیشت کو تباہ کر دیا اورشامی پاؤنڈ کو تباہی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ یہ تنازع شہریوں کی اکثریت کے لیے انتہائی غربت کا باعث بن گیا تھا۔
العربیہ بزنس کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام کی معیشت کو ان تمام سالوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے اثرات پر قابو پانے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ یہ بھی اس شرط پر ہوگا جب سیاسی طوفان تھم جائیں اور ملک کو بیرونی حمایت حاصل ہو۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک بڑی اور امیر تارکین وطن کمیونٹی اور بین الاقوامی تنظیمیں شام میں قدم رکھنے کے لیے تیار ہیں، اس طرح اب ملک کو برسوں میں پہلی بار خوشحال ہونے کا موقع ملا ہے۔
2011 سے معاشی زوال
شام میں 2011 میں بشار الاسد کی علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی پرامن احتجاجی تحریک کو دبانے کے بعد شروع ہونے والے تنازعے کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے شام کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اس سال حقیقی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد کمی متوقع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار نے 2010 اور 2021 کے درمیان شام کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 54 فیصد کمی ظاہر کی ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ تنازع کے اثرات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔
نجی کھپت جو ترقی کا بنیادی محرک ہے 2024 میں کمزور رہے گی کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں قوت خرید کو کم کرتی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی کی غیر مستحکم صورتحال اور اہم معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کی روشنی میں نجی سرمایہ کاری کے کمزور رہنے کی توقع ہے۔
2022 تک 69 فیصد آبادی غربت سے متاثر ہوئی تھی۔ اس طرح تقریباً 14.5 ملین شامی متاثر ہوئے تھے۔ تنازع سے پہلے ملک میں انتہائی غربت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور 2022 میں ایک چوتھائی سے زیادہ شامی باشندے انتہائی غریب ہو چکے تھے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق فروری 2023 کے زلزلے کے نتیجے میں بھی معیشت کو بڑا دھچکا لگا تھا۔
بہت سے بیرونی عوامل جن میں 2019 میں لبنان میں مالیاتی بحران، کوویڈ 19 کی وبا اور یوکرین میں جنگ بھی شامل ہے نے بھی شامی خاندانوں کے حالات کو مزید خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مسابقتی جماعتوں کے درمیان حل تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
جوسور سنٹر فار سٹڈیز کے اقتصادی مشیر خالد الترکاوی نے کہا کہ ملک کو پوائنٹ صفر یعنی 2011 کی سطح پر واپس آنے کے لیے سات سے آٹھ سال کی محنت درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا اگر سیاسی حالات ہموار ہوتے ہیں اور ادارے کامیابی سے مستحکم ہوتے ہیں تو دس سال کی محنت معیشت کو 2011 کے مقابلے میں بہت بہتر مرحلے پر واپس لے جا سکتی ہے۔
تاہم ایران اور جنوبی قفقاز میں ماہر سیاسی تجزیہ کار باکو خلادزہ کا خیال ہے کہ اقتصادی بحالی کا فیصلہ کن عنصر مشرقی شام میں دیر الزور گورنری کو کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ گیس اور تیل کے وسیع ذخائر کی وجہ سے معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔
تیل کی پیداوار میں کمی
شام کے توانائی کے شعبے کو 2011 سے بحران کا سامنا ہے۔ تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ 2015 کے اوائل میں 25,000 بیرل یومیہ سے نیچے گر گئی ہے۔ یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2008 اور 2010 کے درمیان 400,000 بیرل یومیہ کے مقابلے میں 2023 میں اوسط پیداوار تقریباً 91,000 بیرل یومیہ تک پہنچ گئی۔
شامی پاؤنڈ کی قدر میں کمی
شامی پاؤنڈ کی شرح مبادلہ تنازعات، پابندیوں اور سیاسی پیش رفت کی وجہ سے 2011 کے بعد سے مسلسل گرتی جا رہی ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے شامی پاؤنڈ کی سرکاری شرح 2011 اور 2023 کے درمیان تقریباً 270 گنا گر گئی ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں 12,562 پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔