ریاست کی مذہب سے علیحدگی: مریم کا مجسمہ ہٹانے کا عدالتی حکم

فرانسیسی شہر بوردو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق فرانس کے بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقے کے قریب ہی واقع جزیرہ اِل دے رے سیاحوں کا پسندیدہ تعطیلاتی مقام ہے۔ اس جزیرے پر لا فلوٹ (La Flotte) ایک ایسا چھوٹا سا قصبہ ہے، جس کی آبادی 2800 نفوس ہر مشتمل ہے۔ کنواری مریم کا یہ مجمسہ اسی قصبے کے ایک چوراہے پر نصب ہے۔

مجسمے کے ذریعے اظہار تشکر

یہ مجسمہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک مقامی خاندان نے تیار کروایا تھا۔ اس کی تنصیب کا مقصد اس خاندان کی طرف سے مذہبی حوالے سے شکریے کا اظہار تھا کیونکہ تب اسی گھرانے کا ایک مرد رکن اور اس کا جوان بیٹا دوسری عالمی جنگ میں حصہ لینے کے بعد زندہ واپس لوٹے تھے۔

شروع میں یہ مجمسہ متعلقہ فرانسیسی خاندان نے اپنے گھر کے باغیچے میں نصب کروایا تھا۔ لیکن بعد ازاں یہ مقامی بلدیہ کو عطیہ کر دیا گیا تھا۔ جزیرے Ile-de-Re کے قصبے لا فلوٹ کی بلدیہ نے اسے 1983ء میں اس چوراہے پر نصب کروا دیا تھا، جہاں یہ مجسمہ اب بھی موجود ہے۔

ء میں اس مجسمے کو اس چوراہے سے گزرنے والی ایک کار نے ٹکر مار دی تھی اور اسے کافی نقصان پہنچا تھا۔ پھر مقامی بلدیہ نے اس کی مرمت کروا کے اسے اسی چوراہے میں لیکن ایک چبوترے پر نصب کروا دیا تھا۔

مذہب کی ریاست سے علیحدگی کا فرانسیسی قانون
تب اس تنصیب کی ایک فرانسیسی تنظیم نے قانونی سطح پر مخالفت کی تھی۔ اس تنظیم کا نام La Libre Pensee 17 ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ملک کے سیکولر تشخص کا تحفظ ہے۔ اس تنظیم نے اپنے قانونی دعوے کی بنیاد فرانس میں 1905ء میں نافذ ہونے والے اس قانون کو بنایا تھا، جس کے تحت ریاست اور مذہب کی ایک دوسرے سے علیحدگی کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مذہبی علامات کی عوامی مقامات پر تنصیب کی ممانعت ہے۔
اس مقدمے میں پہلے پوئٹیئر کی ایک عدالت نے یہ مجسمہ ہٹانے کا حکم دیا تو لا فلوٹ کی بلدیہ نے ایک علاقائی عدالت میں اپیل دائر کر دی تھی۔ اب لیکن بوردو میں ایک علاقائی عدالت نے بھی یہ اپیل متسرد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ بلدیاتی انتظامیہ کو کنواری مریم کا یہ مجسمہ ہٹانا ہی ہو گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading