نئی دہلی/ممبئی: سپریم کورٹ نے زمین کے حصول کے بعد معاوضہ نہ دینے پر مہاراشٹر حکومت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے چھ دہائی قبل زمین حاصل کی تھی، لیکن اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ریاستی حکومت نے اس معاملے میں متعلقہ لوگوں کو مناسب معاوضہ نہیں دیا تو وہ ریاستی حکومت کی لاڈلی بہن اور لاڈلی بہو جیسی اسکیموں کو روک دے گی۔
عدالت نے کہا کہ ہم حکم دیں گے کہ مذکورہ زمین پر تعمیر کی گئی عمارتیں گرائی جائیں۔کیس کی سماعت جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی میں بنچ میں ہوئی۔ بنچ نے کہا کہ یہ زمینیں کئی دہائیوں قبل 1963 میں حاصل کی گئی تھیں اور اب بھی ریاستی حکومت استعمال کر رہی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ زمین حاصل کی جائے تو آپ کو قانون کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاست کے چیف سکریٹری سے کہا جائے کہ وہ اس معاملے میں سی ایم سے بات کریں اور معاوضے کی معقول رقم کے ساتھ آگے آئیں، ورنہ ہم ایسی تمام اسکیموں کو روک دیں گے۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ زمین ان کے آباؤ اجداد نے پونے میں 1950 میں خریدی تھی۔ ریاستی حکومت نے یہ زمین 1963 میں حاصل کی تھی۔