دہلی میں روی داس مندر توڑے جانے کے خلاف رام لیلا میدان میں جمع ہوئے بھیم آرمی کارکنوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے درمیان پولس نے ان کارکنان پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ اس کے باوجود روی داس مندر توڑے جانے سے ناراض بھیم آرمی کارکنان کا غصہ ختم نہیں ہوا۔ بی جے پی حکومت کے خلاف ان کا احتجاجی مظاہرہ بڑھتا ہی رہا جسے دیکھتے ہوئے پولس نے بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد سمیت تقریباً 80 لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ ان گرفتاریوں کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
Delhi Police: Bhim Army Chief, Chandrashekhar Azad was arrested, yesterday. An FIR has been registered under IPC sections 147, 149, 186, 353, 332 at Govindpuri police station. Other protestors are also in police custody, further investigation underway. pic.twitter.com/EMDKwylkjI
— ANI (@ANI) August 22, 2019
भाजपा सरकार पहले करोड़ों दलित बहनों-भाइयों की सांस्कृतिक विरासत के प्रतीक रविदास मंदिर स्थल से खिलवाड़ करती है और जब देश की राजधानी में हजारों दलित भाई-बहन अपनी आवाज़ उठाते हैं तो भाजपा उन पर लाठी बरसाती है, आँसू गैस चलवाती है, गिरफ़्तार करती है।#SaveSantRavidasTemple
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 22, 2019
پرینکا گاندھی نے روی داس مندر توڑے جانے کے خلاف دلتوں کے احتجاجی مظاہرے میں پولس کے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کو غلط قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت پہلے کروڑوں دلت بہنوں-بھائیوں کی ثقافتی وراثت کی علامت روی داس مندر سے کھلواڑ کرتی ہے اور جب ملک کی راجدھانی میں ہزاروں دلت بھائی-بہن اپنی آواز اٹھاتے ہیں تو بی جے پی ان پر لاٹھی برساتی ہے، آنسو گیس کا استعمال کراتی ہے، گرفتار کرتی ہے۔‘‘
दलितों की आवाज़ का ये अपमान बर्दाश्त से बाहर है। यह एक जज़्बाती मामला है उनकी आवाज का आदर होना चाहिए।#SaveSantRavidasTemple
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) August 22, 2019
پرینکا گاندھی نے ایک دیگر ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’دلت کی آواز کو اس طرح بے عزت کیا جانا برداشت سے باہر ہے۔ یہ ایک جذباتی معاملہ ہے۔ ان کی آواز کی عزت کی جانی چاہیے۔‘‘
गुरु रविदास मंदिर तोड़ने का विरोध करने पर ग़रीबों पर देश की राजधानी में बेरहमी से लाठियाँ भांजती भाजपा सरकार।
ग़रीब अगर आवाज़ उठाए तो अपराधी है!
भाजपा है तो मुमकिन है!
गोदी मीडिया नहीं दिखाएगा या बताएगा क्योंकि यह सच असुविधाजनक है! pic.twitter.com/ZkVmMCDxDJ
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) August 22, 2019
دوسری طرف کانگریس لیڈر اور پارٹی ترجمان رندیپ سرجے والا نے بھی گرو روی داس مندر توڑے جانے کی مخالفت کرنے والے غریبوں پر بے رحمانہ لاٹھی چارج کی پرزور مذمت کی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’گرو روی داس مندر توڑنے کی مخالفت کرنے پر غریبوں پر ملک کی راجدھانی میں بے رحمی سے لاٹھیاں بھانجتی بی جے پی حکومت۔ غریب اگر آواز اٹھائے تو مجرم ہے۔ بی جے پی ہے تو ممکن ہے۔ گودی میڈیا نہیں دکھائے گا یا بتائے گا، کیونکہ یہ سچ مشکل پیدا کرنے والا ہے۔‘‘
دراصل دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ حال ہی میں 15ویں صدی کے سنت مندر کو گرا دیا گیا۔ اس کی اجازت سپریم کورٹ کے ذریعہ دی گئی۔ بعد ازاں دہلی اور پنجاب کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ شروع ہوا۔ حکومت کی اس کارروائی کے بعد اب ان لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف دہلی کے رام لیلا میدان میں دھرنا و مظاہرہ کرنے پہنچے۔ دہلی کے تغلق آباد اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ شام اچانک تشدد بھڑک گیا۔ پرتشدد بھیڑ نے کئی گاڑیوں میں آگ لگا دی اور کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد دہلی پولس نے بھیڑ پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
